59

بے یقینی کا خاتمہ ضروری ہے

یانے کہتے ہیں کہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے بلکہ گفتگو کے وقت اگر اپنی آواز انسان خود بھی سن رہا ہو تو وہ پٹڑی سے نہیں اترتا۔ اگلے روز جب نیب والے سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کررہے تھے تو مجھے ان کاایک انٹرویو یاد آرہا تھا جس میں موصوف نیب کے سربراہ کا ذکر کرتے ہوئے سخت غصے کے عالم میں آگئے اور نہایت تحقیر سے نیب کے سربراہ کے بارے میں فرمایا : کہ ”کس کی مجال ہے جو مجھ پر کیس بنائے اور مجھے گرفتار کرے۔“ کچھ اسی قسم کا مفہوم ان کی باتوں سے ظاہر تھا۔ ایک تکبر‘ رعونت ان کے چہرے سے ٹپک رہی تھی یہی نہیں نیب کے سربراہ کا ذکر کرتے ہوئے نفرت اور حقارت کا رنگ صاف دکھائی دیتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی بار انہیں عارضی ضمانت بھی دی گئی تھی۔ عید انہیں گھر پر کرنے دی گئی ۔ مسلم لیگ نون ہو یا پیپلز پارٹی دونوں ہی کئی بار اقتدار کا لطف اٹھا چکی ہیں اگر یہ پارٹی سربراہان چاہتے تو اس ملک کا یہ حال نہ ہوتا جو اس وقت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت جاتے جاتے خزانہ ”ڈکار“ گئی صرف اور صرف اسی لئے کہ آنے والی حکومت عمران خان کی ہوگی اور وہ اسے کسی طور کامیاب ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ کیوں نہیں دیکھنا چاہتے صرف اس لئے کہ عمران عام لوگوں کی بات کرتا ہے اور اسی ملک کے لوٹنے والوں کے لئے نرم گوشہ نہیں رکھتا۔ ان دنوں عمرانی حکومت سخت مشکلات کا شکار ہے تو اس کے پیچھے سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں ہیں۔ قرض لے کر پارلیمنٹ کے ممبران وزیر مشیر اپنے بینک بیلنس اور جائیدادیں بڑھاتے رہے ملک کا کسی نے نہ سوچا۔

ادھر عمران جو اپنی تقاریر میں فلاحی ریاست بنانے کی بات کررہے تھے وہ خالی خزانے کے ساتھ بلکہ ایک کرپٹ نظام کے ساتھ وجود میں نہیں آسکتی۔ آج پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے لوگ کس منہ سے عوام کی تکالیف کا رونا رو رہے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے دور میں اللوں تللوں کے سوا کچھ نہیں کیا۔ آج آصف زرداری اگر نیب کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں تو یہ مقدمات عمران نے ان پر نہیں بنائے بلکہ یہ مقدمات مسلم لیگ نون نے ان کی کرپشن بر بنائے تھے جس پر عملدرآمد آج ہورہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت نے یہ مقدمات درج کرائے آج وہی پیپلز پارٹی کی حلیف ہے بلکہ آصف زرداری کی گرفتاری کی مذمت کررہی ہے۔ بات انتہائی سادہ ہے کہ اگر کسی شخص یا جماعت کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا ہے تو اسے احتساب کا سامنا کرنا چاہئے کہ آئین سے کوئی بھی شخص بالا نہیں۔ اگر فوج اپنے افسران کو سزا دے سکتی ہے تو سول ادارے بھی اپنے کرپٹ افراد کا احتساب کرسکتے ہیں۔ عدالتیں آزاد ہیں۔

 حتیٰ کہ نیب کا سربراہ بھی انہیں دونوں سیاسی جماعتوں کا لگایا ہوا ہے یوں اگر کسی کا دامن صاف ہے تو وہ عدالتوں میں بتا سکتا ہے جو سوالات عدالت پوچھتی ہے اس کا تسلی بخش جواب دے کر سرخرو ہوا جاسکتا ہے۔ لیکن دونوں سیاسی جماعتوں کی ”لوٹ مار‘ کے مقدمات عدالتوں میں ہیں اور ان کے پارٹی لیڈر اپنے آپ کو کلیئر کرانے کی بجائے سڑکوں پر آکر احتجاج کی باتیں کرتے ہیں۔ اب ایسی حکومت کو ہٹانے کے لئے گٹھ جوڑ کی خبریں بھی ہیں جو صرف کرپشن کرنے والوں کا احتساب کررہی ہے۔ آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد کچھ اور لوگ بھی یقینا کٹہرے میں لائے جائیں گے کم از کم وہ قوم کو اپنے اثاثوں کا بتا دیں کہ اتنی دولت انہوں نے کہاں سے کمائی اور یہ کہ ان کے اپنے ملازمین کے نام کھلوائے گئے اکاﺅنٹ میں سے برآمد کیوں ہورہی ہے۔ آصف زرداری ہوں یا میاں نواز شریف کی پارٹی سب کو احتساب سے گزرنا ہے یہی نہیں ججز ہوں‘ صحافی‘ جرنیل یا بیورو کریٹس سب کو اپنا اپنا حساب دینا چاہئے اس میں آخر کیا قباحت ہے؟ اب زرداری اور میاں صاحب ایک درجے پر ہیں۔ دونوں حساب دیں اور سرخرو ہوں تاکہ قوم بے یقینی کی اس صورتحال سے باہر آئے۔ اس شدید گرمی میں اپنی پارٹی ورکروں کو سڑکوں پر لانا ظلم کے مترادف ہے۔ اول تو عوام خود بھی سخت گرمی اور مہنگائی سے بیزار ہیں۔ اب سڑکوں پر کون آئے گا؟ کچھ دن کے لئے ”زرداری سب پر بھاری“ کا نعرہ بھلا دیا جائے گا لیکن عمران خان بھی تو کچھ کریں۔ انصاف کا اونٹ کسی کروٹ تو بیٹھے۔ عدالتوں کو جلد فیصلے دے کر قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔