53

کھیل اور قومی تشخص

گذشتہ ہفتہ نیویارک میں رہنے والے امریکن پاکستانیوں کیلئے کھیلوں کا ہفتہ تھا‘اس شہر کے ساحلوں سے ٹکرانے والے بحر اوقیانوس کی لہروں سے چارہزار میل دور مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گراﺅنڈ میں پاکستان اور بھارت کا میچ تھا اور دنیا بھر کی اقلیتوں کے اس شہر کہ جسے Melting Pot یعنی کہ وہ برتن جس میں سب کچھ پگھل جاتا ہے بھی کہا جاتا ہے سے تین ہزار میل دورامریکہ کے مغربی ساحلوں پر اٹھکیلیاں لینے والے بحرلکاہل کے کنارے پر واقع کیلی فورنیا کے شہر Oakland میں باسکٹ بال کا سنسنی خیز فائنل تھا امریکہ اور برطانیہ میں ہونیوالے ان دو میچوں میںبظاہر قدر مشترک یہی تھی کہ دونوں کھیل تھے مگر دور کہیں کسی کے چشم تصور میں انکے درمیان سانجھی بات یہ بھی تھی امریکن پاکستانیوں کی نئی نسل کرکٹ اور باسکٹ بال دونوں میں دلچسپی رکھتی ہے‘ کرکٹ انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ انکے والدین کسی دوسری دھرتی‘کلچر اور تہذیب کو چھوڑ کر یہاںآئے ہیں اور باسکٹ بال ان کےلئے ایک نئی سرزمین سے تعلق قائم کرنے کا وسیلہ ہے‘ امریکہ انکے لئے اجنبی ہے مگر اب یہی انکا ملک ہے اور اسی میں انہوں نے اور انکی آنیوالی نسلوں نے رہنا ہے‘ اس اعتبار سے کرکٹ اور باسکٹ بال دونوں امریکن پاکستانیوں کی نئی نسل کے تشخص سے جڑے ہوئے ہیںمجھ جیسے باہر سے آنیوالے اپنے ہاتھ میں ماضی کا علم تھامے ڈوبتے سورج کی کرنوں میں گم ہو جاتے ہیں‘ہماری یہاں پیدا ہونیوالی نسل جسے فرسٹ جنریشن امریکن کہا جاتا ہے اسی سورج کی روشنی میںاپنے مستقبل کی راہیں تلاش کرتی رہے گی اسے اسکے خوابوں کی تعبیر ملتی ہے یا نہیںاس سوال کا جواب میرے لئے اہم ہونے کے باوجود میری دسترس سے باہر ہے‘ دور کہیںمیرے چشم تصور میں ٹمٹماتا ہوا ایک دیا اکثر مجھ سے پوچھتا ہے کہ میرے گلشن کیلئے میری اپنی دھرتی کی آب و ہوا زیادہ ساز گار نہ تھی یہ کہاں کا پھول تھا کہاں آ کھلا ہے اس دےئے کی لو ابھی تک ٹمٹما رہی ہے مگر ا س دن ایک کونداسا لپکا جس نے ایک نیا منظر دکھا دیا اور پھر میں اس منظر کو دیکھتا ہی چلا گیا ایسے ہی کسی منظر کے بارے میں منیر نیازی نے کہا ہے۔

ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہمسفر نہیں
منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا

یہ جمعرات تیرہ جون کی شام تھی امریکہ میں تین ماہ سے جاری نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن کی چیمپئن شپ کا اوکلینڈ میں کھیلا جانےوالافائنل اختتام پذیر ہو چکا تھا اسکا نتیجہ اتنا غیر متوقع تھا کہ فاتح ٹیم کیلئے بھی اس پر یقین کرنا مشکل تھا‘ اس چیمپئن شپ میںہر سال امریکہ بھر سے تیس ٹیمیں حصہ لیتی ہیں صرف ایک ٹیم کینیڈا سے آتی ہے جو چوبیس سالوں سے حاضری لگا کر کچھ لئے دےئے بغیر واپس چلی جاتی ہے اس مرتبہ اس نے کیلی فورنیا کی ہاٹ فیورٹ ٹیم کو ایک زبردست مقابلے کے بعد شکست دیکر ایک نئی تاریخ رقم کر دی‘ ٹورنٹو کے Raptors کے فائنل میں پہنچ جانے کو بعض شائقین محض ایک اتفاق سمجھ رہے تھے اور بعض اسے رنگ میں بھنگ ڈالنے والی بات کہہ رہے تھے مگر کیلی فورنیاکے پیٹریاٹ کی فیصلہ کن شکست نے جہاں ان لوگوں کی امیدوں کے چراغ گل کر دےئے وہاںکینیڈا کے طول و عرض میںسڑکوں پر ایسا جشن بھی برپا کر دیا جو رات گئے تک جاری رہا‘ٹیلی وژن کیمروں نے جونہی اوکلینڈ سےdissolve کرکے ٹورنٹو کا منظر دکھایا تو یوں لگا کہ ہزاروں لوگ سڑکوں پر امڈتے چلے آرہے ہیںجوں جوں یہ منظر کھلتا گیا اسکی رنگینی اور رعنائی میں اضافہ ہوتا گیا ہجوم کی وارفتگی اور جوش وجذبے کی وجہ کچھ تو ٹی وی دانشوروں نے سمجھا دی اور باقی کی بات رقص میں ہے سارا جہاں والا منظر خود ہی سمجھا رہا تھا ٹورنٹو کے وسط میں واقع Yonge Street پر ہر رنگ و نسل اور مذہب کے لوگ اپنے وطن کے جھنڈے ہاتھ میں اٹھائے محو رقص بھی تھے اور ایک ایسا نعرہ بھی لگا رہے تھے۔

 جو کینیڈا سے باہر بیٹھے ہوئے ناظرین کیلئے ناقابل فہم تھا اسکے اسرارو رموز ٹی وی مبصرین نے مزے لے لےکر بیان کئے تین لفظوں پر مشتمل یہ نعرہ لگانے والوں نے پگڑیاں بھی پہنی ہوئی تھیں اور حجاب اور دوپٹے بھی اوڑھے ہوئے تھے یہ سیاہ‘ سفید اور گندمی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں چہک چہک کر We The Northکہہ رہے تھے مطلب اسکا یہ تھا کہ اے امریکنوں تم کل تک ہمیں اپنے شمال میں آباد ایک حقیر ملک سمجھ رہے تھے آج ہم نے تمہیں تمہارے میدان میں شکست دیکر کمتر ثابت کر دیا ہے‘اس جشن نے کھیل کے میدان کی فتح کو نہ صرف ایک ملک کی فتح بنا دیا بلکہ تاریخ کا ایک نیا باب بھی رقم کر دیا اس حیرت کدے کی سحر آفرینی کا یہ پہلو بڑا مسحور کن تھا کہ دنیا بھر سے آئے ہوئے تارکین وطن کی نئی نسل نے نہ صرف کینیڈا کو اپنے خوابوں کی تعبیر مان لیا تھا بلکہ اسکی تاریخ کو بھی من و عن قبول کر لیا تھا‘کینیڈا کے دوست انکے دوست اور اسکے دشمن انکے دشمن تھے امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات زیادہ تر دوستانہ رہے ہیں مگر امریکہ دنیا بھر کی طرح اپنے ہمسایوں کو بھی کمترسمجھتا ہے کینیڈا کے لوگوں نے اسکی برتری کو کبھی تسلیم نہیں کیا اس دن اوکلینڈ میں انکی ٹیم کی فتح نے انہیںاگلے پچھلے سارے حساب کتاب برابر کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔

اس رات ٹی وی مبصرین نے اس جشن نیم شب کو نئے معانی پہناتے ہوئے کہا You see the brown and black and white and the Asian kids cheering and you see the future of this land.اور پھر کسی نے یہ بھی کہہ دیا کہ Sports is about national identity یعنی کھیل قومی تشخص کے بارے میں ہوتا ہے‘ یہ دلچسپ گفتگو بڑھتے بڑھتے جب کار زار سیاست میں داخل ہوئی تو یہ بھی سنائی دیا کہ پاپولسٹ جو بھی کہیں مغرب ہمیشہ ملٹی کلچرل رہے گا یہ متنوع ثقافتوں اور دنیا بھر سے آئے ہوئے نسلی اور مذہبی گروہوں کی سرزمین بنا رہے گا اب یہاں رہنے والی اقلیتیں ہی ملکر اسکی اکثریت بن جائےں گی ۔

دی نیو یارک ٹائمز کے کالم نگار ڈیوڈ بروکس نے اکیس جون کی اشاعت میں لکھا ہے کہ اب امریکہ کے پاس ایک کثیرالثقافتی جمہوریت بننے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے‘ اس ملک نے اب اقلیتوں کا مجموعہ بن کر رہنا ہے بروکس کی رائے میںامریکہ ہمیشہ سے ایک ایسی یونیورسل قوم تھا جس کا مسکن تاریخ کا دوراہا تھااس جگہ اقلیتیں مل جل کر ہی پھل پھول سکتی ہیں‘کالم نگار نے لکھا ہے کہ وہ کل تک یہی سوچتا رہا کہ امریکہ کو ایک متحد رکھنے والے بیانئے کی ضرورت ہے مگر اب وہ یہ سوچتا ہے کہ اس بیانئے کا نہ ہونا ہی امریکہ کا اصلی قومی بیانیہ ہے جہاں بے شمار اقلیتیں رہتی ہوں وہاں ہر ایک کا اپنا اپنا بیانیہ اور اپنا اپنا تشخص ہوتا ہے اور Every identity is valid as long as it is honest یعنی ہر تشخص درست ہے اگر وہ معقول ہے ‘تو میں بھی کل تک یہی سوچتا رہا کہ میرا ماضی ہی میرا اور میرے بچوں کا واحد اور اکلوتا تشخص ہے مگر امریکہ اور اس میں ابھرتی ہوئی ایک نئی دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ کسی نئی جگہ‘ نئے کلچر اور نئے دور میں تشخص بدل سکتا ہے۔

جمعرات تیرہ جون کی رات ٹورنٹو کیYonge Streetپرجو جشن برپا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ تارکین وطن کی نئی نسل نے ایک نئے ملک اور اسکے دےئے ہوئے تشخص کو قبول کر لیا ہے ‘اوکلینڈمیںکھیلے جانے والے اس میچ کے دو دن بعد مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گراﺅنڈ میںبھارت نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو شکست دیکر دنیابھرمیں رہنے والے پاکستانیوں کو مایوسی اور افسردگی میں مبتلا کر دیامیری عمر کے پاکستانیوںکیلئے کرکٹ کے میدان میں بھارت کو شکست دینا اسکے دو طیارے مار گرانے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے یہ ہمارا وہ قومی تشخص ہے جس پر ہم جشن برپا کرنا چاہتے تھے مگر نہ کر سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔