90

نیا قومی بیانیہ

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں ‘پکڑ دھکڑ اور حساب کتاب بند کیاجائے‘ آگے کی بات کی جائے‘جو طاقتیں حکومت کو لے کر آئیں انہیں بھی سوچنا چاہئے اور ایسا نہ ہو سیاسی قوتوں کے ہاتھ سے معاملات نکل جائیں‘آصف زرداری کے موجودہ حکومت‘ معیشت اور جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے خیالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک جانب میاں نواز شریف کی طرح وہ بھی پابندسلاسل ہیں اور دوسری طرف ان دونوں بڑوں کے بچوں مریم نواز اور بلاول بھٹو نے ابھی چند روز قبل ہی ملک کے دگرگوں سیاسی واقتصادی حالات نیز جمہوریت کی بقاءاور استحکام کے تناظر میں نہ صرف تفصیلی ملاقات کی ہے بلکہ یہ دونوں عمران خان حکومت کےخلاف مشترکہ تحریک چلانے پر متفق ہو کر اس مقصد کےلئے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ اورایک آل پارٹیز کانفرنس کے انعقادکا فیصلہ بھی کر چکے ہیں‘سیاسی مبصرین مریم نواز اور بلاول بھٹو کی ملاقات کے بعد بلاول بھٹوکی گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمان اور اسی تسلسل میں مولانا فضل الرحمان کی بی این پی کے سربراہ اخترمینگل سے ہونےوالی ملاقاتوں کو اپوزیشن کا وسیع تر اتحاد تشکیل دینے کے تناظر میں خصوصی اہمیت کاحامل قراردے رہے ہیں۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو کے درمیان ہونےوالی ملاقات کے بعد مسلم لیگ(ن) کی طرف سے جاری کردہ اعلامےے میں کہاگیاہے کہ ملاقات میں پاکستان کے سابق وزرائے اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان 2006 میں طے پانےوالے میثاق جمہوریت کو ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے اسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پربھی زوردیا گیاہے۔

 بلاول اور مریم نواز کی حالیہ ملاقات سے قبل انکی ایک اور ملاقات ماہ رمضان المبارک کے دوران افطارڈنر کے موقع پر بھی ہوچکی ہے جسکے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں بتایا گیاتھا کہ اس ملاقات کا مقصد پاکستانی عوام کو درپیش مشکلات پر غور و فکر کرنا تھا‘دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے قومی معاملات پر تمام ریاستی اداروں کومشترکہ بیانیہ تشکیل دینے کی پیشکش کرتے ہوئے کہاہے کہ انتہا پسندی کےخلاف گھساپٹابیانیہ ناکام ہوچکاہے‘دہشتگردی کےخلاف جنگ کے نام پرامریکہ پاکستان کو بلیک میل کرتا رہا اورہماری اسٹیبلشمنٹ امریکی پالیسیوں کےلئے استعمال ہوتی رہی‘حکومت کےخلاف آخری وارکی تیاری کر رہے ہیں‘کٹھ پتلی ناجائز حکومت کوکسی صورت جائز نہیں قراردے سکتے‘مولانافضل الرحمان نے کہاکہ دہشت گردی کےخلاف جنگ کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے یہ پالیسی قطعاًپاکستان کے مفاد میں نہیں تھی‘سیاسی جماعتوں کو شروع سے مشورہ دیاتھاکہ حکومت سازی کے عمل کا حصہ نہ بنیں‘اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد وجود میں آچکاہے اسی بنیاد پر تحریک چلنی ہے‘دریں اثناءاطلاعات اور نشریات کےلئے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اپنے الگ الگ بیانات میں اپوزیشن کے رابطوں اور ملاقاتوں کو پاپاڈیڈی رہائی کی دہائی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن اپنے ناکام احتجاج کا شوق پوراکرلے ‘ملک کی دوبڑی اپوزیشن جماعتوں کے نوجوان رہنماﺅں کی جانب سے ایک نئے میثاق جمہوریت جسے مولانا فضل الرحمان ایک نئے قومی بیانئے کاعنوان دےکر واضح الفاظ میں حمایت کر رہے ہیں ۔

کے برعکس قومی اسمبلی میں آصف زرداری نے جوتقریر کی ہے اور ان کی جانب سے حکومت کو معیشت اور جمہوریت کی ڈگمگاتی ناﺅ کوپار لگانے میں تعاون کی کھلی آفر کے ذریعے جو بلینک چیک دیا ہے اس سے آصف زرداری اور میاں نواز شریف حتیٰ کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری کی ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے سوچوں میں پائے جانےوالے فرق کو واضح طور پرمحسوس کیا جاسکتا ہے‘حرف آخر یہ کہ پوری پاکستانی قوم جو پچھلے ستر سال کے دوران ہماری اشرافیہ کے سیاہ کرتوتوں کے باعث مایوسی اور ناامیدی کی اتھاہ گہرائیوں میں گری ہوئی ہے کےساتھ اگر جمہوریت بچانے اور کرپشن کے خاتمے کے نام پر کوئی ناٹک کھیلا گیا توشاید اس مرتبہ قوم کےلئے اسے ہضم کرنا بہت مشکل ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔