140

چیئرمین سینٹ اور عدم اعتماد کی تحریک

 ایک مقولہ ہے کہ برق برعضو ضعیف‘ یعنی غصہ ہمیشہ کمزور پر ہی آتا ہے‘ پاکستانی سیاست میں2002 کی قومی اسمبلی میں جنرل پرویز مشرف کی نگرانی میں من پسند حکومت قائم کرنے کیلئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں شب خون مارنے کے باوجود صرف ایک ووٹ کی برتری سے میر ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا‘ پارلیمانی گنتی کے لحاظ سے یہ ایک کمزور ترین حکومت تھی مگر اپوزیشن کے انتشار کے باعث اس حکومت نے تین وزرائے اعظم تبدیل کئے اور آئینی مدت پوری کی‘اسکے بعد موجودہ حکومت کو کمزور سمجھا جاسکتا ہے جو نازک مزاج اتحادیوں کے باوجود چھ ووٹ کی اکثریت رکھتی ہے اس بار اپوزیشن بھی متحد ہے کیونکہ سابق حکمران جماعتوں کی قیادت ایک مشترکہ دکھ میں مبتلا ہے جسکی وجہ سے اتحاد پر مجبور‘ مگر اسکے باوجود یہ خوف دونوں طرف ہے کہ دوسرا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کا پلہ بھاری تھا تحریک انصاف محدود حیثیت رکھتی تھی جبکہ پیپلز پارٹی نے اکثریت نہ ہونے کے باوجود اپنا امیدوار چیئرمین کیلئے نامزد کردیا تھا اسی دوران بلوچستان میں پارلیمانی انقلاب آیا اور مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کےخلاف بغاوت ہوگئی باغی گروپ نے نیا سیاسی اتحاد بنایا‘اس گروپ نے سینٹ کے چیئرمین کیلئے بلوچستان سے نومنتخب سینیٹر صادق سنجرانی کو نامزد کردیا اور بلوچستان کے نام پر سیاسی پارٹیوں سے حمایت کی اپیل کی‘پیپلز پارٹی نے آگے بڑھ کر حمایت کا اعلان کردیا اور اپنے امیدوار سلیم مانڈوی والا کو ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار بنالیا حیران کن طورپر تحریک انصاف نے بھی صادق سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

 اس طرح صادق سنجرانی چیئرمین اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے ‘مسلم لیگ نے اس کو زرداری عمران گٹھ جوڑ کا بھی نام دیا یہ تلخی عام انتخابات اور بعد میں پارلیمانی و حکومتی عہدیداروں کے انتخابات میں بھی قائم رہی البتہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے نوآموز ہونے کے باوجود پورے ایوان کو ساتھ چلانے کی کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی رہے بلکہ اپنی مخالف مسلم لیگ ن کو بھی اپنے حسن سلوک سے گرویدہ بنالیا مگر اب صورتحال بدل رہی ہے‘اپوزیشن کو مشترکہ پریشانیوں نے متحد کردیا ہے اور آپس میں اعتماد نہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کےساتھ مل بیٹھنے پر مجبور کردیا ہے‘قومی اسمبلی میں کوشش کے باوجود وہ وزیراعظم عمران خان کےخلاف کوئی تحریک لانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے اگرچہ دونوں پارٹیاں ان ہاﺅس تبدیلی کا آپشن استعمال کرنے کا اعلان کر چکی ہیں لیکن اس پر بات بڑھ نہیں رہی ایسے میں یہ شوشا چھوڑاگےا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اگر مخلص ہیں تو پہلے چیئرمین سینٹ کو تبدیل کریں حالانکہ چیئرمین سینٹ حکومت کا حصہ نہیں اور ایوان میں اپوزیشن کوزیادہ اکاموڈیٹ کرتے رہے ہیں اسکے باوجود قومی سیاست میں یہ نیا نکتہ مرکزنگاہ بن چکا ہے اگرچہ ابھی تک کسی بھی پارٹی نے اس بات کا اعتراف نہیں کیا کہ وہ چیئرمین سینٹ کےخلاف عدم اعتماد لارہے ہیں اسکے باوجود اپوزیشن کی مجوزہ اے پی سی کے ایجنڈے میں یہ بات بھی شامل ہے اور اب چیئرمین سینٹ کے مستقبل کا فیصلہ اے پی سی میں ہونے کی توقع ہے بلکہ اندازہ ہے کہ اگر حکومت کےخلاف ایوان کے اندر یا باہر تحریک کا فیصلہ نہ ہو سکا تو اے پی سی کا بھرم رکھنے کےلئے یہ آسان ہدف نشانہ بن سکتا ہے۔

 حالانکہ اس کا کوئی جواز نہیں مگر چونکہ اسوقت پروٹوکول کے لحاظ سے تیسری بڑی شخصیت ہونے کے باوجود‘ چیئرمین سینٹ کسی بڑی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے اسلئے مشق ستم کیلئے انکاعہدہ زیر غور ہے مگر جتنا آسان چیئرمین سینٹ کو ہٹانا ہے اتنا آسان نئے چیئرمین کولانا نہیں ہے اور ذاتی و پارٹی مفادات کے پہاڑ راستے میں حائل ہیں‘اسوقت مسلم لیگ ن کا مطالبہ ہوگا کہ چونکہ اس کی سینٹ میں اکثریت ہے اسلئے چیئرمین اس کا ہوگا جبکہ پیپلز پارٹی اپنے ڈپٹی چیئرمین کو ترقی دلوانے کی سوچ رکھتی ہے‘اس بات کی امید کم ہی ہے کہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے حق میں دستبردار ہو کر دوسرے کا چیئرمین قبول کرنے پر تیار ہوںگی اگرچہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی بھی عدم اعتماد سے بچنے کیلئے ملاقاتیں کر رہے ہیں مگر اسکا کوئی فائدہ نہیں یہ فیصلہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے بڑے اپنے اپنے مفاد کو دیکھ کر کرینگے اور سیاست میں چونکہ دل نہیں ہوتا صرف پیٹ ہوتا ہے جو مفاد کو دیکھتا ہے اسلئے چیئرمین سینٹ خاطر جمع رکھیںجس طرح دوسرے کا راستہ روکنے کی سوچ نے ان کو چیئرمین بنادیا تھا اسی طرح اب بھی دوسروں کی آپس کی رقابت ان کو بچالے گی‘ بظاہر کمزور نظر آنے والے چیئرمین اتنے بھی کمزور نہیں ہیں ان کی طاقت دراصل دوسروں کی کمزوری میں چھپی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔