64

کام کا کریڈٹ

یوں تو جب بھی حکومت بدلتی ہے تو نئے آنے والے سابقہ حکومتوں کے ترقیاتی کاموں کو یا تو ختم کر دیتے ہیں یا اگلی حکومتوں کی افتتاحی تختیوں کو اکھاڑ کر اپنے نام کی تختیاںلگا دیتے ہیں تاکہ کہا جائے کہ یہ ترقیاتی کا م ہم نے کئے ہیں‘اس میں کتنی کک بیک ملتی ہے یا کتنا ٹھیکیداروں سے اپنا حصہ لیا جاتاہے یہ تو یاٹھیکیدا ر کو معلوم ہوتا ہے یا لینے والے کو ‘اس لئے کہ ابھی تک ہم نے یہ نہیں سنا کہ کسی بھی ترقیاتی کام کو بغیرمٹھی گرم کئے ہوئے کسی ٹھےکیدار کو دیا گیا ہو۔ اور کسی کام کے مکمل ہونے پر بغیر رشوت لئے ٹھیکےدار کا بل پاس ہوا ہو‘یہ بات آج سے نہیں بلکہ بچپن سے ہم یہی سنتے آ رہے ہیں ‘ہمارے گاو¿ں کے ایک ٹھیکیدارصاحب تھے جو ہمارے بچپن میں ایک ہی سارے گاو¿ں کے صاحب ثروت تھے۔ وہ ٹھیکے لیتے اور کام کرتے ۔یہ ان کا کسی کےساتھ کیا رویہ ہو یا وہ کیسے اپنے کام نمٹاتے ہوں اس کا تو ہمیں معلوم نہیں مگر ان کی سخاوت بہرحال سب کے سامنے تھی۔ان کے ہاں سے ہم نے نہیں دیکھا کہ کوئی سوالی خالی جھولی لے کر واپس گیا ہو ۔ہمارے بچپن کا دور غریبی کا دور تھا۔بس چند ہی لوگ اپنی زمینوں کی آمدن پر گزارہ کرتے تھے باقی کسی نہ کسی طرح سے اپنا وقت گزارتے تھے۔ تاہم ٹھیکےدار صاحب بغیر پوچھے بھی لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے‘ انہوں نے ایک ٹھیکہ سڑک بنانے کا لیا جو لورہ چوک شاہ مقصود سے لورہ گاو¿ں تک تھا۔

اس پر انہوں نے مزدور لگائے جو دن رات کام کرتے اور ان کو بروقت ادائےگی ہو جاتی‘ ایک دفعہ اس طرح ہوا کہ ٹھیکےدار صاحب کوکافی دنوں تک حکومت کی جانب سے ادائیگی نہ ہوئی۔ان کے پاس جو بھی جمع پونجی تھی وہ تو انہوں نے مزدوروں کو ادائیگی کردی مگر بل پاس نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مزدوروں کو مزےد ادائیگی کرنا مشکل ہو گئی ۔ اس وجہ سے مزدوروں نے ٹھیکیدار صاحب سے جو سلوک کیا وہ کہنے کو الفاظ نہیں مگر یہ غالباًساٹھ کی دہائی کا واقعہ ہے یعنی ساٹھ کی دہائی میں بھی بغیر کار پردازوں کی جیب گرم کئے آپ اپنا بل پاس نہیں کروا سکتے تھے۔ اور اب تو کیا بات ہے۔ یہ جو اگلی حکومت کے کاموں پر اپنے نام کی تختیاں لگائی جاتی ہیں یہ بھی اللہ واسطے کی نہیں ہوتیں۔ یہ تو بے چارے ٹھیکےدار ہی بتا سکتے ہیں کہ ان کو یہ تختی کتنے کی پڑی۔ اسی طرح ہمارے ہاںیہ بھی ایک بات ہو گئی ہے کہ جو کام موجودہ حکومت کرنے جا رہی ہے اس پر اگلی حکومت کا کلیم ہوتا ہے کہ یہ کام اس نے شروع کروایا تھا۔ یا اس کام کا معاہدہ اس کے دور حکومت میں ہوا تھا۔سی پیک ایک ایسا معاہدہ ہے کہ جو بقول ہمارے لیگی اراکین کے ایک کایہ پلٹ منصوبہ ہے ۔

جس سے پاکستان کی اکانومی کو بہت زیادہ بوسٹ ملے گا۔سی پیک پر کام ن لیگ کی حکومت کے دوران شروع ہوا‘ظاہر ہے کہ یہ معاہدہ شاےد اس سے قبل ہی کہیں ہو ا ہو تو اس کا کلیم پی پی پی اپنے سر لیتی ہے کہ یہ معاہدہ زرداری صاحب نے چینی حکومت کے ساتھ کیا تھا اور اس کے صلے میں یہ کام شروع کیا گیا کیونکہ زرداری صاحب کی حکومت سی پیک پر عمل درآمد کروانے سے قبل ہی ختم ہوگئی تھی مگر معاہدے چونکہ ریاستوں کے درمیان ہوا کرتے ہیں حکومتوں کے درمیان نہیں اس لئے اگر ایک حکومت کے دوران کوئی معاہدہ کسی دوسری حکومت کے ساتھ ہوتا ہے تو دوسری آنے والی حکومت کو اس پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے ‘ہمارے ہاں چونکہ جمہوریت ہے اس لئے پانچ سال کے بعد عموماً حکومت بدل جاتی ہے مگر ریاست وہی رہتی ہے اس لئے حکومتوں کو اگلی حکومت کے دوران کئے گئے معاہدوں پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے‘۔

 اب ان معاہدوں پر بھی تختیاںلگ رہی ہیں اور کلیم کیا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت کا اس معاہدے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘ یہ تو ہمارے دور کا معاہدہ ہے‘یہ صحیح ہو گا مگر معاہدے حکومتوں کے درمیان نہیں ہوا کرتے بلکہ یہ ریاستوں کے ساتھ ہوا کرتے ہیں اس لئے اس کا کریڈٹ لینے کی کیاضرورت ہے مگر ہمارے ہاں چونکہ تختیاں لگانے کا رواج ہے اسی لئے معاہدوں کا کلیم بھی لینا ضروری ہے‘ تا کہ عوام ان کے کارناموںکو یاد رکھےں‘اب ایک نیا انکشاف ہوا ہے کہ سی پیک کا معاہدہ اصل میں ایوب خان صاحب نے کیا تھا۔ اور انہوں نے ہی یہ سلک روٹ بنوایا تھاجو اب سی پیک کا حصہ ہے‘ یہ کلیم ان کے پوتے وفاقی وزےرعمر ایوب خان نے اسمبلی کے اندر ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے اس کے بعد جوجو معاہدے اور کام جناب ذوالفقار علی بھٹو نے چین کے تعاون سے کروائے تھے ان سب کا کریڈٹ بھی اپنے دادا کو دے دیا ہے۔ کرےڈٹ جو بھی لے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس ملک مےں کوئی کام ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔