121

عوامی ریلیف اور صوبے کے واجبات

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان عوام کو جلد ریلیف دینے کیلئے اقدامات کا عندیہ دیتے ہیں‘وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صوبے کی حکومت جزوقتی کی بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے‘اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی بھی قوم کو مسائل سے نکالنے اور ترقی کی راہ پر لانے کیلئے دلیرانہ اورمشکل فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے‘وطن عزیز کی معیشت مشکلات کا شکار ہے عام شہری گرانی کے ہاتھوں پریشان ہے‘ روزگار کے مواقع کم ہیں‘ بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے جبکہ خدمات کو نہ تو معیاری کہاجاسکتاہے نہ ہی وقت کی ضرورت کے مطابق کافی گردانا جاسکتاہے‘ خیبر پختونخوا کا محل وقوع اور یہاں کے مخصوص حالات کیساتھ نئے قبائلی اضلاع کی شمولیت سے صورتحال نیا رخ اختیار کر گئی ہے اور ایسے میں ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت موجود ہے‘حکومت اصلاح احوال کیلئے طویل المدتی منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ عوامی ریلیف کیلئے بعض فوری اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں‘مارکیٹ کنٹرول‘ میونسپل سروسز‘ علاج اور خدمات کے دوسرے اداروں کی کارکردگی میں بہتری کیلئے فی الوقت صرف کڑی نگرانی کا انتظام ہی بہت ساری مشکلات کا خاتمہ کرسکتاہے جہاں تک بات طویل المدتی پلاننگ کی ہے تو اس کیلئے بنیادی ضرورت بجٹ کی ہے‘خیبر پختونخوا حکومت اسوقت پن بجلی منافع کے بقایا جات اور منافع اے جی این قاضی فارمولے کے تحت دئیے جانے کیلئے کوشاں ہے‘ ۔

ہمارے رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری کے مطابق رقم کا تعین قاضی فارمولہ کے تحت کرنے کیلئے کیس اب قومی اسمبلی میں اٹھائے جانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں‘ اس مقصد کیلئے بعض اراکین کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں ‘دوسری جانب قابل اطمینان ہے کہ صوبے کی تیل و گیس کی مد میں رائلٹی کا حجم پن بجلی کے شعبے سے بڑھ چکا ہے اس ساری صورتحال میں ضرورت عوام کو فوری ریلیف کی فراہمی کیلئے اقدامات کی ہے تو دوسری جانب حکومت کو اپنے اہداف کے حصول اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو عملی شکل دینے کیلئے فنڈز کے بروقت اجراءکی‘ جس کیلئے مرکز اور صوبے کے ذمہ دار اداروں کو اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

ایچ سی سی کا کریک ڈاﺅن

ہیلتھ کیئر کمیشن نے ملاکنڈ میں عطائیت کےخلاف کاروائی میں9 ادارے سیل کئے ہیں، کمیشن وقفے وقفے سے عطائیوں کےخلاف کاروائی سے متعلق ذرائع ابلاغ کو آگاہ کرتا رہتا ہے جن میں اسی طرح چند مراکز سیل کرنے کا کہاجاتا ہے‘ صوبے میں علاج کی ناکافی سہولیات‘ سرکاری علاج گاہوں میں بدانتظامی اور شہریوں کو پرائیویٹ شعبے سے رجوع کرنے پر مجبور کرنا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ایسے حالات میں پریشان حال مریضوں کی مجبوری سے فائدہ ا ٹھانے میں عطائی بھی پیش پیش ہیں‘ہمارے ہاں ذمہ دار ادارے کسی بھی شعبے کو قاعدے قانون میں لانے کیلئے فراہم کردہ کاغذات کی بناءپر رجسٹریشن دینے اور فیس وصول کرنے کو کافی سمجھتے ہیں‘بعد میں ان اداروں کے آپریشن اور دی گئی دستاویزات کے مطابق موقع پر سہولیات کو جانچنے کا رواج ہی نہیں‘صحت کا شعبہ انسانی زندگی سے جڑا ہوا ہونے کی بناءپر زیادہ حساس ہے اس سیکٹر میں بات صرف رجسٹریشن تک محدود نہیں ہونی چاہئے‘رجسٹریشن کیلئے پیش دستاویزات اور ان کے مطابق موقع پر موجود سہولیات کو چیک کرنا ایک باقاعدہ نظم کا متقاضی ہے کبھی کبھار کے چھاپے مسئلے کا کافی حل ہرگز نہیں۔