66

خطرناک کھیل

صوبہ کی ایک انتہائی اہم سرکاری شخصیت کےساتھ چنددن قبل ہونے والی بات چیت نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیاہے ہمارا تو خیال تھاکہ یہ 1971ءنہیں اس لئے اب کوئی بھی کسی صوبہ کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرسکتا،ادارے پہلے کی نسبت کافی مضبوط ہیں ،میڈیا کےساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے کروڑوں لوگوںکی ترجمانی کاسلسلہ شروع کیاہواہے پارلیمنٹ موجود اور مضبوط ہے عدلیہ کہیں زیادہ طاقتور ہے سول سوسائٹی میں پورا دم خم موجود ہے اسلئے اب کسی کو بھی کم از کم آئین کے ساتھ کھلواڑ کی جرات نہیں ہوسکے گی مگر اس روز ہونے والی بات چیت نے ہماری ساری خوش فہمیاں ہوا کردیں کیونکہ پتہ چلاکہ اس وقت بھی اسلام آباد کے سرکاری ایوانوںاور نوکرشاہی کی صفوںمیںبعض ایسے عناصر موجود ہیں جو آئینی دفعات اور آئینی اداروںکے اختیارات اور ان کی حیثیت کو متنازعہ بنانے کے انتہائی خطرنا ک کھیل میں مصروف ہیں ہو ا کچھ یوں کو گذشتہ سال سی سی آئی نے قاضی فارمولے کی ایک دفعہ پھرمنظوری دیتے ہوئے خیبرپختونخواکو دئیے جانے والے منافع کے اعدادوشمارکوحتمی شکل دینے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جس کاسربراہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی خسروبختیار کو مقرر کیاگیا اس کمیٹی کو دو ماہ کاوقت دیاگیامگر اس نے آٹھ ماہ گذرنے کے بعدبھی اپنی رپورٹ فائنل نہیں کی حالانکہ اس دوران وزیر اعظم خود کمیٹی کو تین بارالٹی میٹم دے چکے ہیں عید سے قبل آخری اجلاس میں کمیٹی کے بعض ممبران کی طرف سے جو لب ولہجہ اورانداز اختیار کیا گیا اس نے بہت سے سوالات کو جنم دے دیاہے ۔

اس سلسلہ میں بتایاگیاکہ کمیٹی کے پنجاب اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین نے نہ صرف آئین کے آرٹیکل 161کو سوالیہ نشان بنانے کی کوشش کی بلکہ مشترکہ مفادات کونسل جیسے اہم ترین آئینی ادارے کی طرف سے قاضی فارمولے کی نو مرتبہ منظوری کو بھی بیک جنبش قلم مسترد کرتے ہوئے ان تمام امورپر ازسرنو غور کرنے کی تجویز پیش کی گویا ان کے نزدیک آئین کی کوئی اہمیت ہی نہیں اور یہ لوگ آئین کی کسی بھی دفعہ کو ،جو ان کے مفادات سے متصادم ہو ،مانناتو ایک طرف اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی سوچ رکھتے ہیں حیرت ہے کہ کمیٹی کھل کر اپنے مینڈیٹ سے تجاوزمیں مصروف ہوچکی ہے کیونکہ آئینی دفعات کاجائزہ لینا یا پھر سی سی آئی کے فیصلوں پر نظرثانی کرنا اس کے دائرہ کار میں ہی نہیں آتا مگر عاقبت نااندیش لوگ آج انتہائی خطرناک کھیل میں مصروف ہوچکے ہیں شکر کریں کہ معاملہ خیبرپختونخوا کاہے جہاں اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت ہے اگر سندھ کے کسی معاملہ میںاس قسم کی سوچ سامنے آجاتی تو آج پورے سندھ میں ایک طوفان مچا ہوا ہوتا پختونوںنے ہمیشہ اپنے ساتھ ہونےوالی زیادتیوں اورناانصافیوں پر صبر سے کام لیاہے انہوں نے ہمیشہ پرامن آئینی جدوجہد پر یقین رکھاہے اسی لئے خصوصی کمیٹی کے اس خطرناک کھیل پر بھی صوبہ کی طرف سے انتہائی صبر وبرداشت سے کام لیاجارہاہے مگر کب تک ؟

تاخیری حربوں سے لاوہ پک چکاہے جوکسی بھی وقت پھٹ سکتاہے اسلئے اب وزیر اعظم کو کھل کر سامنے آناچاہئے کیونکہ جب انہی کے ماتحت انہی کے احکامات کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف ہوں تو صورت حال کی نزاکت کااندازہ لگایاجاناہرگز مشکل نہیں یہ بھی انتہائی حیرانی کی بات ہے کو وزیر اعظم کے سیکرٹری اعظم خان اس وقت طاقتور ترین بیوروکریٹ مانے جاتے ہیں اسی طرح انکے مشیربرائے اسٹیبلشمنٹ اربا ب شہزاد ہیں دونوںکاتعلق اسی صوبہ سے ہے قومی اسمبلی کے سپیکر اور وفاقی وزیر توانائی بھی اسی صوبہ کے باشندے ہیں مزید سات سے آٹھ حکومتی نمائندے یہیں کے ہیں مگر اس کے باوجود اسلام آباد کے ایوانوںمیں کھیلے جانےوالے اس خطرناک کھیل کی طرف سے سب نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں یہ معرکہ صرف محمودخان ،تیمورسلیم جھگڑااور حمایت اللہ خان نے نہیں لڑنا اس میں اس صوبہ سے تعلق رکھنے والے تمام ذمہ داران کو اپنا اپنا کردار اداکرناہوگا اگر اس خطرناک کھیل کو نہ روکا گیا آئین کو کاغذکاٹکڑا سمجھنے کی روش ترک نہ کی گئی اور آئینی اداروں کو بے توقیر کرنے کی سوچ رکھنے والے عناصر کی بیخ کنی نہ کی گئی تو پھر کوئی یہ نہ کہے کہ یہ 1971ءنہیں کیونکہ جب آئین کی ہی پروا نہیں کی جائے تو پھر غیر آئینی قوتیں اورغیر آئینی تحریکیں ہی مضبوط ہونگی اس جوخطرناک کھیل خصوصی کمیٹی کھیلنے میں مصروف ہے اس کو پارلیمنٹ میں بے نقاب کرنے کےلئے اب خیبرپختونخواکے نمائندوںکو کردار ادا کرکے ایسی سوچ کی جڑیں کاٹنے کے ساتھ ساتھ ایسے عناصرکو سسٹم سے ہی نکال باہر کرناہوگا ورنہ سسٹم اور آئین کمزورہوتے چلے جائیں گے اور اس کے بعدکیاہوگا اس کااندازہ لگانامشکل نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔