162

صرف نصف گرام وزنی چار پروں والا روبوٹ اڑن کیڑا

ہارورڈ: امریکی تجربہ گاہوں سے یہ دلچسپ خبر موصول ہوئی ہے جس میں ماہرین نے دنیا کا سب سے چھوٹا اور ہلکا ترین اڑن روبوٹ بنایا ہے جس کسی تار کے بغیرخودمختار انداز میں پرواز کرتا ہے۔

اسے ہارورڈ یونیورسٹی میں واقع مائیکرو روبوٹکس تجربہ گاہ کے ماہرین نے تیار کیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر روبوٹ کا وزن صرف 259 ملی گرام ہے جو ایک گرام کے بھی تیسرے حصے کے برابر ہے۔

ایک مکھی کو دیکھ کر عین اسی طرح روبوٹ کو ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں دو عدد جدید ترین پیزو ایکچوایٹرز نصب کئے گئے ہیں۔ اپنی تمام تر باریکی کےباوجود یہ سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرکے پرواز کرتا ہے۔

اسے روبو بی ایکس ونگ کا نام دیا گیا ہے اور ایک سیکنڈ میں 170 مرتبہ اپنے پر پھڑپھڑاتا ہے۔ اس کے پیروں کا گھیر صرف 3.5  سینٹی میٹر اور روبوٹ کیڑے کی اونچائی 6.5 سینٹی میٹر ہے۔ بازوؤں کو کنٹرول کرنے کے لیے ان میں دو عدد ایسی پلیٹیں لگائی گئی ہیں جو پٹھے کا کام کرتی ہیں۔ جب ان پٹھوں میں بجلی دوڑتی ہے تو پلیٹٰیں سکڑتی اور پھیلتی ہیں۔

روبوٹ مکھی کے اوپر 6 عدد چھوٹے شمسی سیل لگے ہیں جن میں سے ہر ایک وزن 10 ملی گرام ہے ۔ سولر سیل پروں کے اوپر لگے ہیں لیکن وہ روبوٹ کی پرواز میں کوئی خلل نہیں ڈالتے۔ اب جیسے ہی روبوٹ پر روشنی پڑتی ہے اس کے پر پھڑپھڑانے لگتے ہیں اور یوں روبوٹ مکھی اڑنے لگتی ہے ۔ تاہم اسے تجربہ گاہ میں ایل ای ڈی اور ہیلوجن کے ذریعے ہی اڑایا گیا ہے۔

پہلے تجربے میں یہ صرف نصف سیکنڈ تک ہی پرواز کرسکا اور اس کے بعد وہ روشنی کی حدود سے دور ہوگیا۔ اس وقت اسے دھوپ سے بھی تین گنا زائد روشنی درکار ہے جس کی وجہ سے یہ گھر سے باہر پرواز نہیں کرسکتا۔

تاہم اس روبوٹ کو فضائی تحقیق، کونے کھدروں میں انسانوں کی تلاش اور دیگر بہت سے کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ ایک چھوٹے پتے پر بھی اترسکتا ہے۔ اگلے مرحلے میں روبوٹ مکھی کو مزید بہتر بنا کر اس سورج کی روشنی میں پرواز کے قابل بنایا جائے گا۔