113

سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار

پشاورہائیکورٹ کے جسٹس قیصر رشید نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے ائیرکنڈیشن سسٹم کی خرابی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت ہسپتالوں کیلئے کروڑوں روپے منظور تو کرتی ہے مگر ہسپتال مریضوں کو کوئی سہولت نہیں دیتے‘ڈاکٹروں کے کمروں میں تواے سی ہیں مگر مریضوں کیلئے نہیں ہیں‘عدالت نے سینئر پراسےکیوٹرنیب کو ہسپتال کا دورہ کرنے اور رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا ۔جسٹس قیصر رشید کے استفسار پر ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نیک دادآفریدی نے عدالت کو بتایا کہ کے ٹی ایچ ہسپتال کا اے سی پلانٹ 1976 میں لگایا گیا تھا مگر اب وہ ناکارہ ہوگیاہے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ‘شایدعدالت کو یہ نہیں بتایا گیااور نہ ہی شاید اعلیٰ عدلیہ کے کسی معزز جج صاحب کو کسی سرکاری ہسپتال سے براہ راست مریض بن کر واسطہ پڑا ہوگا ورنہ انہیں معلوم ہوتاکہ کے ٹی ایچ کا مذکورہ اے سی پلانٹ ابھی نہیں بلکہ پچھلے چار پانچ سال سے خراب ہے اور اس خرابی کاخمیازہ بیچارے غریب مریضوں کوبھگتناپڑرہاہے ‘خیبر پختونخواکے سرکاری ہسپتالوں میں لیبارٹریز اور ایکسریز وغیرہ میں مریضوں سے چارج کی جانیوالی فیس کا25فیصد ڈاکٹرز کو کمیشن کے طور پر اداکیاجاتا ہے چونکہ ڈاکٹروں کو ہیلتھ پروفیشنل الاﺅنس کے علاوہ مخصوص شعبوں کے خصوصی الاﺅنس بھی دیئے جا رہے ہیں۔

 اسلئے محکمہ صحت نے اس کمیشن کے تناسب کو25سے 12فیصد پر لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسکے نفاذ کیلئے ہسپتالوں کو اعلامیہ ارسال کیا جسے عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے معطل کردیاگیا حالانکہ ٹیسٹ اور ایکسریز کی مد میں مقررہ کمیشن میں کمی سے بچت ہونیوالی رقم کو مذکورہ ہسپتالوں کی مشینری اور ٹیسٹوں کے کٹس وغیرہ کیلئے استعمال میں لاکر غریب مریضوں کی فلاح وبہبود پرخرچ کیاجاسکتا تھا لیکن عدالتی فیصلے کے بعد یہ امید دم توڑ گئی ہے جس کانزلہ اب غریب عوام پرگرے گا جو بے پناہ غربت کے باوجود ڈاکٹروں کے اپنے کمیشن کی غرض سے تجویز کئے گئے بھاری بھرکم غیر ضروری ٹیسٹ کرنے پر مجبور ہوں گے‘دوسری جانب یہ اطلاعات بھی مایوس کن ہیں کہ خیبرپختونخوا جو پہلے سے صحت کی سہولیات کے حوالے سے مسائل سے دوچارہے کو وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف بیماریوںکی روک تھام سمیت صحت کے دیگر پروگرامز کیلئے پچھلے دوسال سے مطلوبہ رقم جاری نہیںہوسکی ہے جس کی وجہ سے ان منصوبوں کے تحت سرگرمیاں متاثر ہونے لگی ہیں‘ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں شروع کئے گئے پرائم منسٹر ہیپاٹائٹس پروگرام‘ ملیریا کنٹرول پروگرام‘ٹی بی کنٹرول پروگرام‘میٹرنل نیوبورن اینڈ چائلڈ ہیلتھ وغیرہ شامل ہیںکیلئے دو سال سے تقریباً ایک ارب روپے کی رقم تاحال جاری نہیں ہو سکی ہے جسکی وجہ سے ان پروگرامزکے تحت مریضوں کو علاج‘مفت ادویات کی فراہمی سمیت مختلف سرگرمیاں چلانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

 دریں اثناءیہ اطلاعات باعث اطمینان ہیں کہ صوبائی حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں طبی مشینری کیلئے اعلان کردہ 10ارب روپے کے گرانٹ میں سے سات ارب روپے آئندہ مالی سال کے دوران غیر ترقیاتی اخراجات سے جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق سابق حکومت کے اعلان کردہ فنڈز میں سے تین ارب محکمہ صحت کو جاری کئے گئے ہیں جبکہ باقی سات ارب بھی جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے‘ ذرائع کے مطابق حکومت نے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں طبی آلات کی فراہمی کیلئے13ارب روپے بطور گرانٹ فراہم کرنے کی منظوری دی تھی اس سلسلے میں تین ارب روپے نچلی سطح کے ہسپتالوں میں مشینری کی خریداری کیلئے جاری کردئیے گئے تھے جبکہ باقی دس ارب روپے بقایا تھے جس میں سے بھی حکومت نے دو ارب روپے محکمہ صحت کے ترقیاتی منصوبوں اور ایک ارب روپے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے اضافی وارڈز میں مشینری کی تنصیب کیلئے جاری کئے تھے جبکہ سات ارب روپے تاحال جاری نہیں ہوسکے تھے لہٰذا یہ بات خوش آئند ہے کہ اب محکمہ خزانہ نے یہ فنڈز آئندہ مالی سال میں غیر ترقیاتی اخراجات کی مد سے جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے جسکے نتیجے میں ہسپتالوں میں طبی آلات اور جدید مشینری کامسئلہ حل ہونےکا امکان پیداہوگیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔