49

قیادت کا امتحان

جے یو آئی کے صوبائی الیکشن ہوچکے ہیں اور پروگرام کے مطابق سینیٹر مولاناعطاءالرحمان بلامقابلہ صوبائی امیر منتخب ہوگئے ‘یوں مولانا گل نصیب خان کو بڑی آسانی کےساتھ پھر سے ایک طرف کردیاگیاجن کاشمار مخلص اور فعال ترین سیاسی رہنماﺅںمیں ہوتاہے وہ جب بھی امیر بنے انہوںنے نہ تو خودآرام کیانہ ہی کارکنوںکو دم لینے دیا اورجب وہ امیر نہیں بھی ہوتے تب بھی بڑے بڑے اجتماعات کی کامیابی کےلئے انہی کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں‘ مولانا گل نصیب اور مولانا فضل الرحمان میں چند چیزیں مشترک ہیں دونوںمنطق کی دنیا کے بادشاہ ہیں اسلئے دلائل انکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں ساتھ ہی دونوںاپنی جماعت کےلئے یکساں درد رکھتے ہیں ‘دونوںکو دل کی بات زبان پر لانے کے لئے قائل کرنا تقریباً ناممکن ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی مولانا گل نصیب صوبائی امیر منتخب ہوتے ہیں تو جے یو آئی سیاسی سرگرمیوںکے معاملہ میں دیگر جماعتوںسے کہیں آگے بڑھ جاتی ہے‘یہ بھی حقیقت ہے کہ جے یو آئی کو مساجد‘ خانقاہوں سے نکال کر عوام تک لانے میں مولانا فضل الرحمان کےساتھ ساتھ مولانا گل نصیب خان نے بھی موثر کردار اداکیا کیونکہ ان سے قبل یہ جماعت مخصوص حلقوں تک محدودہواکرتی تھی بدقسمتی سے ہر جماعت میں ایک دوسرے کےساتھ حسد کی روایت بد سے جے یو آئی بھی محفو ظ نہیں اسی لئے بہت سے لوگوںکی یہ کوشش رہاکرتی ہے کہ مولانا گل نصیب اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان فاصلے بڑھاتے رہیں اور اکثر یہ خوشامدی عناصر اپنی ان کوششوں میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔

حالانکہ ہمارے سامنے نجی محفلوں میں مولانا فضل الرحمان نے ہمیشہ گل نصیب خان کے کردار کی ستائش ہی کی ہے ‘مولاناگل نصیب خان کاالمیہ یہ ہے کہ جماعت کے خوشامدی عناصر کبھی بھی ان کاوجود برداشت نہیںکرسکے ہیں‘چنانچہ جب 2010 میں جماعتی انتخابات ہوئے تو مولانا گل نصیب کی ہار کو انہی عناصر کی کارستانی قراردیاگیا جسکے بعد جماعتی صفوںپر طاری جمود سب کو دکھائی دینے لگا اس دوران مفتی محمود کانفرنس کااعلان کردیاگیا جلد ہی مرکزی قیادت کو احسا س ہوگیاکہ صوبائی عاملہ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کی اہلیت نہیںرکھتی اسی لئے سائیڈلائن کئے جانےوالے مولانا گل نصیب خان کی خدمات اس انداز میںحاصل کی گئیں کہ خود مرکزی قیادت کی طرف سے تمام ضلعی امراءونظماءکو ہدایت کی گئی کہ کانفرنس کی تیاریوںکے سلسلہ میں مولانا گل نصیب خان کی ہدایات کے مطابق عمل کریںاور پھر انہوںنے چترال سے لےکرڈیرہ تک طوفانی دورے کرکے مفتی محمود کانفرنس کو تاریخی کامیابی دلائی مگر اسکے باوجود جب 2015ءکے سینٹ انتخابات کامرحلہ سر پر آیا تو ایک بارپھرانکی کامیابی کی راہیں مسدود کر دی گئیں‘ مولانا گل نصیب کو پہلے جنرل نشست پر امیدواربنایا گیامگر پھر اچانک فیصلہ واپس لیتے ہوئے انکو ٹیکنوکریٹ کی مشکل نشست پر ٹکٹ دینے کااعلان کردیا گیا جس پر انہوںنے بطور احتجاج انتہائی خاموشی کےساتھ اپنے کاغذات واپس لے لئے پھر انہی کے دور میں جے یو آئی کی صد سالہ تقریبات منائی گئیں مرکز ی اجتماع پشاور میں منعقد کیا گیا ۔

جس میں ریکارڈ تعداد میں لوگوں نے شرکت کی مگر اگلے سال جب ایوان بالا کے انتخابات ہورہے تھے توجے یو آئی نے پہلے تو گل نصیب خان کو جنر ل نشست پرامیدوار بنایا پھر ان کےساتھ ہی ارب پتی طلحہ محمود کوبھی نامزد کردیا گیا حالانکہ جے یو آئی کے پا س صرف ایک نشست جیتنے کےلئے ووٹ تھے اورپھر ایوان بالاکےلئے بنی خصوصی کمیٹی کی خصوصی مہربانی سے جے یو آئی کے صوبائی امیر الیکشن ہار گئے جس پر بعدازاں جماعت نے تحقیقات شروع کیں تو خصوصی کمیٹی ہی شکست کی ذمہ دارثابت ہوئی‘مرکزی قیادت کی مداخلت پر صوبائی قیادت نے تحقیقات کی روشنی میں مرکزی کمیٹی کےخلاف مزید کاروائی روک دی مگر اسکے باوجود اب جماعت کے اندرونی حلقے یہ کہہ رہے ہیں حالیہ انتخابات میں انتہائی شفاف انداز میں گل نصیب خان کو میدان سے ہی باہر کردیاگیا‘ایک ایسے مرحلہ پر کہ جب جے یو آئی حکومت مخالف تحریک میں مرکزی کردار ادا کرنے جارہی ہے اسکے بیس کیمپ میں ممکنہ بے چینی قیادت کےلئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے ‘اسلئے اگر مولانا گل نصیب جیسے مخلص کارکن کو ایک سائیڈ پر کرنے کے بجائے ان سے مﺅثر انداز میںجماعتی کام لیا جائے تو اس سے بدگمانیاں دور ہونے میں مدد ملے گی ‘امید رکھی جانی چاہئے کہ مرکزی قیادت دوراندیشی کاثبوت دیتے ہوئے انتخابی رنجشوں کو جڑ پکڑنے نہیں دےگی کیونکہ آگے چل کر بہت کٹھن سیاسی مراحل آنےوالے ہیں جن سے عہدہ برآءہونے کےلئے صفوں میںاتحادویگانگت برقرار رکھنا ناگزیر ہے اوریہی قیادت کااصل امتحان ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔