63

فاصلے حقیقت ہیں

تحریک انصاف کی شروع دن سے خوش قسمتی یہ ہے کہ اسے منقسم‘ کمزور اور بدعنوانی جیسے الزامات کا سامنا کرنےوالی ایک ایسی حزب اختلاف سے واسطہ ہے‘ جس کا قبلہ متعین نہیں ہو رہا۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والی جماعتیں احتجاج کی دھمکیاں دیتے ہوئے اس مقام پر آ ٹھہری ہیں جہاں بغلیں جھانکتے ہوئے چیئرمین سینٹ کو ان کے عہدے سے ہٹانا پہلی ترجیح بن گئی ہے! چھبیس جون کی کل جماعتی کانفرنس کا نچوڑ بھی یہی دکھائی دیتا ہے جہاں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں اگر کسی ایک نکتے پر متفق نظر آئیں تو وہ یہ ہے کہ سینٹ کے موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے!پاکستان کے سیاسی افق پر ابھرنے والے اس نئے موضوع پر حزب اختلاف و اقتدار سے تعلق رکھنے والے سیاستدان مشاورت کرتے نظر آ رہے ہیں!صادق سنجرانی کی تبدیلی بظاہر جتنی آسان دکھائی دے رہی ہے لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہی ہے؟اس سوال کے جواب مختلف ہیں۔ اے پی سی نے جو فیصلہ لیا اس پر عملدرآمد تمام جماعتوں کی ذمہ داری ہے لیکن یہ کب اور کیسے ہونا ہے‘ نیا متفقہ امیدوار کون ہو گا اور اس کو کب ڈھونڈا جائے گا اس میں کچھ نہیں بلکہ بہت سا وقت لگے گا کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتیں اگرچہ یک نکاتی ایجنڈے پر تحریک انصاف کی مخالفت میں یکجا تو ہو گئی ہیں لیکن یہ نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے نوری سالوں کے فاصلے پر ہیں اور یہ فاصلے ناقابل تردید حقیقت ہیں!وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا یعنی آخر سینٹ کے چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا ہے؟ حزب اختلاف کےلئے اب اس کے سواءکوئی صورت نہیں رہی کہ وہ اپنی ماضی کے فیصلوں سے رجوع اور غلطیوں کو غلطی مانے بغیر اس کی اصلاح کرے‘پیپلزپارٹی ہی کی حمایت کے سبب اکتالیس سالہ صادق سنجرانی مطلوبہ تعداد میں ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے اور وہ 12مارچ 2018ءسے 8ویں چیئرمین ہیں لیکن اب محرکات بدل گئے ہیں۔

جو کل حزب اختلاف میں تھے وہ آج حکومت میں ہیں۔ جب سنجرانی چیئرمین بنے تب پیپلزپارٹی تحریک انصاف کےساتھ حزب اختلاف میں تھی لیکن آج تحریک انصاف کے مقابلے میں کھڑی ہے۔ اسلام آباد میں ہوئی اے پی سی میں ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا‘ جو صادق سنجرانی کا متبادل ڈھونڈنے کے بارے میں تجاویز دے گی‘ سینٹ کے اراکین کی کل تعداد 104ہے۔ چیئرمین کی تبدیلی کے لئے 53اراکین کی حمایت درکار ہو گی جبکہ سینٹ میں پارٹی پوزیشن کے مطابق پیپلزپارٹی‘ نواز لیگ‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے ارکان کی کل تعداد 66ہے جبکہ حکومتی اتحاد کے 38سینیٹرز بظاہر مقابلہ نہیں کر پائیں گے!لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تاہم اس حقیقت کو فراموش بھی نہیں کرنا چاہئے کہ سینیٹرز کی اپنی بھی ایک سوچ‘ اپنی پسند و ناپسند اور اپنی ذاتی دوستیاں بھی ہیں‘ وہ سیاسی اختلافات میں نہ تو اپنی طرف آنےوالے دروازے بند کرتے ہیں اور نہ ہی کھڑکیوں اور روشندانوں کو تالے لگاتے ہیں!

 یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کا سیاسی ماحول ہر وقت گرما گرم اور مصروف رہتا ہے۔ پس پردہ ملاقاتیں اور نجی محافل میں ہونےوالے فیصلے قومی منظرنامے پر بہت بعد اور بہت مختلف صورت میں سامنے آتے ہیں! بہرحال نواز لیگ کے اندر ہی ایسے سینیٹرز ہیں جو مریم نواز کی قیادت میں نواز لیگ کا ساتھ نہیں دینا چاہتے لیکن اے پی سی میں انہوں نے پارٹی ڈسپلن کی وجہ سے شرکت کی اور ووٹ دینے کی حامی بھی بھری‘ لیکن اس سے مغالطہ نہیں ہونا چاہئے اب بھی ان دونوں جماعتوں کی صفوں میں ایسے ارکان موجود ہیں جو چیئرمین سینٹ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کو ضروری نہیں سمجھ رہے‘ یوں لگتا ہے کہ سیاسی قیادت نے چیئرمین تبدیلی کا فیصلہ وقت سے پہلے اور نہایت ہی عجلت میں کیا ہے‘ جس پر اپنی اپنی جماعتوں میں غور نہیں کیا گیا اور یہی وجہ ہے اب اس فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کیونکہ اگر چیئرمین سینٹ پر عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہو جاتی ہے‘ تو اس کےلئے نواز لیگ یا پیپلز پارٹی کی صفوں میں پھوٹ لازمی ہوگی اور حکومت سے زیادہ اس بات کی ضرورت اور فکر حزب اختلاف کو ہے کہ انہیں کوئی بھی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہئے جس سے انکے داخلی اختلافات اور کمزوریاں ابھر کر سامنے آئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔