133

بجلی‘ گیس کی قیمتیں اور خدمات؟

توانائی کے وفاقی وزیر عمر ایوب نے بجلی وگیس کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار سابق حکومت کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ نے اپنے دور اقتدار میں انرجی سیکٹر کے اندر بارودی سرنگیں بچھائی تھیں جنہیں ہم صاف کررہے ہیں‘ توانائی کے وزیر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک میں 80فیصد فیڈرز پر لوڈشیڈنگ زیرو کردی گئی ہے‘ بجلی وگیس کی قیمتوں میں اضافے کا نیا فارمولا کچھ اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ 300یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بجلی کی قیمت بڑھنے کا کوئی اثر نہیں ہوگا‘اس سے زائد والوں کیلئے بجلی 50فیصد فی یونٹ مہنگی ہوگی‘ ٹیوب ویلوں کیلئے 54فیصد سبسڈی بھی رکھی گئی ہے‘ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ گیس کے 95فیصد صارفین اور نان فروشوں کیلئے بل میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا‘ ذمہ دار اداروں کی جانب سے پیش کردہ مشکل اعداد وشمار ایک جانب اس حقیقت کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ بجلی وگیس کے بلوں کا والیوم بڑھتا ضرور جارہا ہے اور عام آدمی کے بجٹ پر اس کے براہ راست کیساتھ مارکیٹ سے بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں‘ خود وفاقی وزیر کھلے دل کیساتھ اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اعلامیہ آئی ایم ایف کو بھجوایا ضرور جائیگا تاہم ان کا کہنا ہے کہ بلوں میں اضافے کا آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے کا کوئی تعلق نہیں‘ انرجی سیکٹر کے بحران کا ذمہ دار کون ہے اور بارودی سرنگیں کس نے بچھائی ہیں۔

 انہیں صاف کون اور کس طرح کرے گا‘ اس بحث میں الجھے بغیر کہ ہر آنیوالی حکومت گردشی قرضوں اور دوسری بدانتظامیوں کا ملبہ اپنے سے پہلے کے حکمرانوں پر ڈالتی چلی آئی ہے‘ اصل بات اصلاح احوال کی ہے‘ بجلی وگیس مہنگے ہونے کا ذمہ دار کوئی بھی ہو‘ لائن لاسز کو روکنا‘ ترسیل کے نظام میں بہتری لانا‘ کنکشن کا حصول آسان بنانا‘ اوور بلنگ کا خاتمہ فالٹ کی صورت میں مرمت کے فوری انتظام جیسے معاملات تو صرف گڈ گورننس جیسی اصطلاح کو عملی شکل دے کر بھی یکسو ہوسکتے ہیں‘ آندھی کا ایک جھونکا پورے پورے شہر کو تاریکی میں ڈبو دیتا ہے‘ بعض شہری ایک پول گرجانے پر دو دو روز تک بجلی سے محروم رہتے ہیں‘ یہی حال گیس کا بھی ہے‘ حکومت بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے یقینا وقت لے گی تاہم صارفین کو خدمات کی فراہمی میں بہتری کیلئے تو اعلانات اور اعداد وشمار پیش کرنے کیساتھ ساتھ عملی اقدامات تو اٹھاسکتی ہے تاکہ لوگوں کو ریلیف کا احساس ہو۔

موسم گرما اور بچوں کا علاج

گرمی میں اضافے کیساتھ چھوٹے بچے ڈائریا کا شکار ہونے لگتے ہیں‘ ایسے میں فوری امداد کا انتظام ناگزیر ہوتا ہے‘ صوبائی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں میں رش اور مریضوں کیساتھ رویوں کو تو آن سپاٹ نوٹ کیاجاسکتا ہے‘ انفیکشن کی بیماریوں کیلئے قائم خصوصی ہسپتال میں مزید سہولیات فراہم کرکے صورتحال سے نمٹا جاسکتا ہے‘ اس مقصد کیلئے مریضوں کی تعداد ‘مہیا سہولیات اور درکار وسائل سے متعلق تفصیل اکھٹا کرنا ہوگی‘ دیکھنا ہوگا کہ گرمی کے ہاتھوں بیمار چھوٹے چھوٹے بچے جس جگہ علاج کیلئے آئے ہیں وہ کتنی ٹھنڈی ہے‘ وہاں صفائی کا کتنا انتظام ہے‘ ایک بیڈ پر کتنے بچے ہیں‘ تیماردار کہاں رُکے ہیں‘ دوائی کہاں ملتی ہے اور دوائی کی سٹوریج کتنی محفوظ ہے‘ ہیلتھ سیکٹر میں اصل اصلاحات اسی کانام ہے کہ جن کے نتائج لوگوں کو نظر آئیں۔