72

کارکردگی کا تسلسل

پاکستان کرکٹ ٹیم کی ورلڈ کپ مقابلوں سے پہلے کارکردگی مایوس کن حد تک خراب تھی‘ جسکی عملی مثالیں چند ابتدائی مقابلوں کے دوران کھیل کی تاریخ کا حصہ ہیں اور شائقین کرکٹ کےلئے حیرت کا باعث بھی کیونکہ کرکٹ کے کھیل میں کارکردگی کا تسلسل کبھی بھی معنی نہیں رکھتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آج ورلڈ کپ مقابلوں کی سب سے بہترین ٹیم جنوبی افریقہ ہوتی! جو فی الوقت پوائنٹ ٹیبل پر سب سے نچلے درجے پر فائز صرف ایک ٹیم سے بہتر ہے! رواں ورلڈ کپ کےلئے آنے سے قبل پاکستان اور جنوبی افریقہ ٹیموں کی کارکردگی دیکھیں تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ کہاں مسلسل پانچ ون ڈے سیریز جیت کر ورلڈ کپ میں آنےوالی جنوبی افریقہ کی ٹیم اور کہاں ورلڈ کپ سے قبل اپنے 23میں سے 16میچز مسلسل ہارنے کا ریکارڈ بنانے والی ٹیم گرین!لیکن اسکے باوجود جاری ورلڈ کپ میں حال یہ ہے کہ بھارت‘ نیوزی لینڈ‘ پاکستان‘ برطانیہ بلکہ بنگلہ دیش تک سیمی فائنل میں جگہ پانے کےلئے پرامید ہیں جبکہ جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں کو اپنے مستقبل کی فکر لگی ہوئی ہے کہ ورلڈ کپ کے پہلے ہی مرحلے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد ان کےساتھ کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کےلئے ورلڈ کپ اختتام پذیر ہو چکا ہے! ورلڈ کپ کا آغاز ہوا تو جنوبی افریقہ فیورٹ ٹیموں میں شامل تھا۔ بیشتر ماہرین کرکٹ کا خیال تھا کہ آسٹریلیا‘ بھارت اور برطانیہ کے علاوہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ میں سے کوئی ایک ورلڈ کپ سیمی فائنل تک پہنچے گا لیکن حیران کن طور پر افغانستان کے بعد جو ٹیم سب سے پہلے اعزاز کی دوڑسے باہر ہوئی‘ وہ جنوبی افریقہ کی ٹیم ہی تھی یعنی 1992ئ‘ 1999ئ‘ 2007ءاور 2015ءمیں سیمی فائنل اور 1996ءاور 2011ءمیں کوارٹر فائنل کھیلنے والی ٹیم اب 2003ءکے بعد دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے پہلے ہی مرحلے کے اختتام سے پہلے ہی تقریباً باہر ہو چکی ہے!

جنوبی افریقہ کے لئے سال 2003ءمیں ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے سے اخراج کا سبب تو خراب قسمت تھی کیونکہ سری لنکا کے خلاف اہم مقابلہ بارش کی وجہ سے ٹائی ہوگیا تھا اور یوں جنوبی افریقہ قیمتی پوائنٹ سے محروم ہوکر اپنے ہی ملک میں ہونےوالے ورلڈ کپ سے باہر ہوا تاہم اس مرتبہ تو غالباً پہلی بار جنوبی افریقہ اپنی بدترین کارکردگی کے نتائج بھگت رہا ہے اور یہ بات صرف جنوبی افریقہ ہی نہیں بلکہ ان شائقین کے لئے بھی دکھ کا باعث ہے‘ جو اچھا کھیل دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور انکے لئے ٹیموں کی کارکردگی سے زیادہ کرکٹ کی اہمیت ہے۔ جنوبی افریقہ پر نسل پرستی کی وجہ سے پابندی عائد رہی اور اس ٹیم نے 22 سال پابندی جیسی سزا کاٹنے کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ 1992ءکے ذریعے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا۔ تب جاندار بیٹنگ‘ شاندار باو¿لنگ اور سب سے بڑھ کر دم دار فیلڈنگ دیکھ کر تو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ دنیا میں کرکٹ ایسے بھی کھیلی جا سکتی ہے! لیکن اتنی صلاحیت اور عوام سے ملنے والی محبت بھی جنوبی افریقہ کی قسمت کو نہ بدل پائی!رواں ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ نے آغاز ہی میں میزبان برطانیہ کے ہاتھوں ناکامی کا مزا چکھا‘ پھر بنگلہ دیش اور بھارت کے ہاتھوں پے در پے شکستیں کھائیں اور ویسٹ انڈیز کےخلاف میچ بارش کی نذر ہونے سے اسکی حالت بدترین ہوگئی۔

 پہلی کامیابی افغانستان کےخلاف سمیٹنے کے بعد اگر کچھ امکان پیدا بھی ہوا تو نیوزی لینڈ اور پاکستان نے اگلے میچوں میں پے در پے شکست دےکر اس کا خاتمہ کردیا‘ یوں جنوبی افریقہ کو اکھاڑے سے ایک مرتبہ پھر باہر پھینک دیاگیا‘کاغذ پر دیکھیں توجنوبی افریقہ مضبوط ہے‘ دنیا کے 10بہترین ون ڈے کھلاڑیوں میں جنوبی افریقی شامل ہیں۔ ون ڈے کے چند بہترین باو¿لرز بھی انہی کے پاس ہیں پھر بھی اتنی بری طرح شکست سمجھ سے بالاتر ہے! 2003ءکے ورلڈ کپ میں شکست کے بعد جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ یہاں تک کہ بائیس سالہ گریم سمتھ کو کپتان بنا دیا گیا‘ جو اگلے گیارہ سال تک اس عہدے پر موجود رہے اور تاریخ کے کامیاب ترین کپتانوں میں سے ایک ثابت ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ورلڈ کپ سمیت کوئی عالمی اعزاز ان کے نام نہیں اور اب جبکہ رواں ورلڈ کپ میں ناکامی کی بنیادی وجہ ٹیم کی مجموعی بدترین کارکردگی ہے‘ تو یہ بات تو طے ہے کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم میں غیرمعمولی آپریشن کلین اپ ورلڈکپ کے اختتام کے فوری بعد متوقع ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔