37

افغان امن کے خلاف سازش

پاکستان جب بھی افغانستان کےساتھ معاملات درست کرنے کی کوشش کرتا ہے بھارت کی سازش سے اس میں تلخی شامل ہو جاتی ہے‘حالیہ دنوں پاکستان کی میزبانی میں افغان سیاسی قیادت کے ساتھ مذاکرات ہوئے‘ مری کے پرفضا مقام پر ’لاہورمذاکرات‘ کے نام سے ہونیوالے اجتماع میں ہر طبقہ فکر کے افغان رہنما شامل تھے‘ بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئیں اور سردمہری کی برف پگھلی ان ہی مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو قیام کی مدت میں ایک سال کی توسیع دی گئی اور پھر صدر اشرف غنی کے دو روزہ دورے میں اعلیٰ سطح پر مذاکرات بھی کامیاب رہے ‘ یہ امید ہو چلی تھی کہ اب افغان امن کا خواب ضرور پورا ہوگا اس کیلئے امریکہ نے بھی حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا اور اپنی فوج کے مکمل انخلاءکی پیشکش کےساتھ دوحہ مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا اور صدر ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم کو دورہ امریکہ کی دعوت دے کر یہ ثابت کردیا تھا کہ افغان امن کیلئے اچھی خبریں آنےوالی ہیں اور امریکہ و افغان قیادت نے پاکستان کی خدمات اور کردار کا نہ صرف اعتراف کیا ہے بلکہ اسکے نتائج پر اطمینان بھی ظاہر کیا ہے‘اس ساری پیشرفت میں ایک بات جوکہ محسوس کی گئی وہ امریکہ اور افغانستان کی طرف سے بھارت کو نظر انداز کرنا ہے اور شاید افغان امن سے منسلک ممالک کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ بھارت کا تیس سالہ افغان بحران میں کوئی نقصان نہیں ہوا وہ صرف تماشائی بن کر اور موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے امن کو سبوتاژ کرتا رہا ہے‘۔

 بھارت کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ افغان قوم جو سوویت یونین کے قبضہ سے نجات اور افغانوں کی فراخ دلانہ میزبانی کے باعث پاکستان کی ممنون اور شکرگزار نظرآتی ہے اسکے دل میں پاکستان کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کی جائیں ‘اس ماحول میں جب پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کےخلاف آپریشن شروع ہوا اور بہت سے دہشت گرد افغانستان فرار ہوگئے تو انکو بھارت نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور انکے ذریعے پاکستان اور افغانستان دونوں میں دہشت گردی کروا کر غلط فہمیاں گہری کرنے لگا‘ پاکستان نے ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کےساتھ ساتھ ان کا راستہ مکمل بند کرنے کیلئے سرحد پر اپنی حدود میں مضبوط باڑ لگانے اور بارڈر سکےورٹی فعال کرنے کا کام شروع کردیاجب امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان میں موجود اپنی فوج کے کردار اور ضرورت کا جائزہ لیا تو انہیں احساس ہواکہ یہ صرف نقصان ہی نقصان ہے اور اگر افغان طالبان کو سیاست میں لایا جائے تو نہ صرف افغانستان میں امن آجائے گا بلکہ امریکہ اپنی فوج بھی نکال سکے گا اس مقصد کیلئے پاکستان کی ضرورت پڑی تو پاکستان نے اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار اداکیا مگر بھارت نے افغان حکومت کے ذریعے ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا‘جب امریکہ کو بھارت کے منفی کردار کا علم ہوا تو اسے شٹ اپ کال دی اور افغان امن عمل سے بے دخل کردیا اسکے بعد افغان حکومت کا رویہ بھی حقیقت پسندانہ ہوگیا اور اب تو بہت پیشرفت ہوچکی ہے مگر بھارت اس پر خاموش کیسے رہ سکتا تھا ۔

اس نے برطانیہ میں کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران را کے ایجنٹوں کے ذریعے افغان کرکٹ شائقین کو استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا اور پہلے تو بھارت پاکستان میچ کے دوران پاکستان کےخلاف نفرت انگیز نعرہ بازی کرائی پھر نیوزی لینڈ کےساتھ میچ کے دوران پاکستان کے چیف آف سٹاف کی موجودگی میں ایسی ہی کوشش کی جو محب وطن پاکستانی پختونوں نے ناکام بنا دی اور گزشتہ روز پاکستان اور افغانستان کے میچ کے دوران سپورٹس مین سپرٹ اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی گئیں حالانکہ افغانستان ورلڈ کپ میں سارے میچ ہار چکا ہے مگر پاکستان کےخلاف بہت اچھا کھیلنے کے باوجود ہارنے پر افغان تماشائیوں نے بدتمیزی کی انتہا کردی‘انہوں نے یہ بھی فراموش کر دیا کہ افغانوںکو کرکٹ پاکستان نے ہی سکھائی ہے اور اس مقام تک پہنچایا کہ ورلڈ کپ کھیل رہے ہےں مگر بھارت کی سازش سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی اور بدلتے ماحول کے رنگ میں بھنگ ڈال دی‘بھارت خود کھیل کو سیاست کیلئے استعمال کرنے کے باوجود ورلڈ کپ میں بھارتی تماشائی پورے سکون سے میچ دیکھتے ہیں اور اپنی ٹیم کی حمایت کرنے کے دوران کسی نفرت انگیز نعرہ بازی سے گریز کیا ہے مگر مٹھی بھر افغانوں کو ایسا استعمال کیا کہ خود افغان شہری بھی شرمندہ ہیں‘افغان حکومت کو اس صورتحال کو کنٹرول کرنے اور اپنے شہریوں کو اخلاقیات کا سبق پڑھانے کی ضرورت ہے‘ہوسکتا ہے کہ بھارت کا مقصد یہ ہو کہ اس شرارت کے ردعمل میں پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں پر تشدد ہوگا مگر پاکستانی اتنے کم ظرف نہیں کہ کسی کی غلطی کی سزا دوسروں کو دیں‘ افغان ہمارے مہمان ہیں اور افغانستان میں امن ہمارا خواب ہے جو بدخواہوں کی کوششوں کے باوجود ضرور پورا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔