46

تاثر اور حقیقت

دینی مدارس جہاں کہیں بھی ہوں انہیں ہر ممکن حد تک بدنام کرنے اور ان پر دہشت گردی کی چھاپ لگانے کےلئے چلائی گئی منظم کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں‘ مختلف اسلامی ممالک میں بیک وقت اور ایک جیسے عالمی جائزے سے مدارس و دہشت گردی و انتہاءپسندی کے ممکنہ تعلق کی کھوج کےلئے جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ’نصف سے زائد انتہاءپسندوں نے تعلیم مدارس سے نہیں بلکہ عام سکولوں سے حاصل کر رکھی تھی‘اس حقیقت کا معلوم ہونے پر جائزہ مرتب کرنےوالوں نے نصاب تعلیم پر نظرثانی اور قومی معاشی و اقتصادی حکمت عملیوں پر زور دیا ہے‘ تاکہ روزگار و کاروبار کے زیادہ مواقع پیدا کئے جائیں‘معاشرہ تعلیم اور درس و تدریس کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے‘ جس سے انتہاءپسندی جیسے رجحان کو ختم کرنے میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے‘جائزہ رپورٹ کا دلچسپ پہلو بنگلہ دیش کا مطالعہ ہے‘ جہاں محکمہ پولیس کے انسداد دہشت گردی شعبے نے بھی ایک رپورٹ جاری کی‘ جس میں تین ہزار ایسے مشتبہ افراد کی زندگیوں کا بغور مشاہدہ کیا گیا‘جنہیں سال دو ہزار پندرہ سے دو ہزار سترہ کے دوران دہشت گردی اور انتہاءپسندی جیسے جرائم کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا دہشت گردی اور انتہاءپسندی کی روک تھام‘معاشرتی شراکت داری کے ذریعے‘ نامی مذکورہ رپورٹ میں کئی اہم انکشافات شامل ہیں‘ جن کا اطلاق صرف بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ پاکستان کے داخلی حالات پر بھی کیا جاسکتا ہے‘اگرچہ پاکستان میں کوئی بھی قانون شریعت کے منافی نہیں بنایا جاتا لیکن مسئلہ صرف قوانین بنانے کا نہیں بلکہ ان کے یکساں‘ مو¿ثر‘ بلاامتیازاور بناءمصلحت اطلاق کا ہے۔

 جس میں ریاستی اداروں کی جانب سے خاطرخواہ دلچسپی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آ رہا اور یہی وجہ ہے کہ ریاست اور مذہب دو الگ الگ سمتوں میں محو سفر ہیں‘ شرعی اصولوں پر معاشرے کی تشکیل ہو جائے تو اسکا پہلا مثبت اثرسستے اور فوری انصاف کی صورت ظاہر ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں عدالتوں میں سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں مقدمات زیرالتوا ہیں‘ جہاں انصاف تو ملتا ہے لیکن یہ عمل اس قدر مہنگا‘ پیچیدہ اور وقت طلب ہے کہ عام آدمی کے وہم و گمان اور سمجھ سے بالا ہے!مدارس کے بارے میں منفی تاثر کہ ان سے صرف انتہاءپسند اور جنگجو ہی پیدا ہوتے ہیں‘سوفیصد درست نہیں تھا اور نہ ہی تمام مدارس کا انتہاءپسندوں سے تعلق ثابت ہو سکا ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ اگر دنیا تعصب کی عینک اتار کر معاشرے میں مدارس کے کردار پر نظر کرے تو ان درسگاہوں کی اکثریت بناءکسی غرض و لالچ وہ فرض ادا کر رہی ہے‘ جو درحقیقت حکومتوںکی آئینی ذمہ داری ہے‘ دنیاوی تعلیم کے مقابلے مدارس سے فارغ التحصیل ہونےوالوں میں خوداحتسابی کے تصورات زیادہ واضح پائے جاتے ہیں اور وہ مادی فوائد کےلئے ایسے قول و فعل سے نسبتاً زیادہ گریز کرتے ہیں‘ جو معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی کو متاثر کرے۔ مدارس کے کردار بارے غور کرنےوالوں کی جن حقائق تک رسائی ہوئی ہے‘ اس سے پیدا ہونےوالا بنیادی سوال لائق توجہ ہے کہ کیا معاشرے میں انتہاءپسندی کا سبب نظام تعلیم ہی ہے؟ بنگلہ دیش کا تعلیمی نظام پاکستان سے زیادہ مختلف نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیائی ممالک کے نظام تعلیم کی اگر درجہ بندی کی جائے تو یہ تین اقسام کے ہیں‘ عام سکول‘ جہاں کے نصاب میں تمام مذاہب کو یکساں طور پر اہمیت دی جاتی ہے‘اس قسم کے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کی نگرانی حکومت کرتی ہے۔

 دوسری قسم کے سکول مذہبی تعلیم والے مدارس ہوتے ہیں‘ جہاں زیادہ تر مضامین مذہب سے متعلق ہوتے ہیں اور یہاں زیرتعلیم طلباءو طالبات کو دنیاوی علوم کے بارے میں بہت کم پڑھایا جاتا ہے۔ تیسری قسم کے سکول انگلش میڈیم ہیں‘ جن کا نظام پہلی دونوں قسم کے سکولوں سے مختلف اور ان کا امتحانی نظام و طریقہ کار بھی الگ ہوتا ہے‘بنیادی و ثانوی سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک اداروں کا نصاب چاہے کسی بھی قسم کے سکول سے ہو لیکن اس پر والدین‘اساتذہ‘ معاشرے اور آج کل سوشل میڈیا کا اثر بہرحال ہوتا ہے لیکن ماہرین ہر خوبی اور خرابی کو صرف اور صرف نصاب تعلیم ہی کے زاویئے سے دیکھتے ہیں‘بنگلہ دیشی مدارس کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جہاں جس قدر انٹرنیٹ زیادہ استعمال ہوتا تھا‘ وہاں اسی قدر انتہاءپسندی بھی عروج پر تھی!کیونکہ بیس سے تیس فیصد انتہاءپسند اپنے دوستوں کی وجہ سے سماج مخالف نظریات کو اپنائے ہوئے تھے۔ نئی نسل کو انٹرنیٹ کے استعمال سے نہیں روکا جا سکتا لیکن ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھ کر انہیں انتہاءپسندی‘ ثقافتی یلغار‘ انواع و اقسام کی تحریکوں اور سب سے بڑھ کر کٹر نظریات سے مرعوب ہونے سے بچایاجا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔