55

پشاور کا اعزاز

خیبر پختونخوا حکومت نے ٹریفک مسائل پر قابو پانے کیلئے پشاور شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد فلائی اوورز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ شہر میں انڈر پاسز اور گول چوراہوں کی تعمیر سمیت موجودہ سڑکوں کی حالت زار بھی بہتر بنائی جائے گی اطلاعات کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ پشاور میں ٹریفک نظا م کی بہتری کے پیش نظرکیا ہے‘اس مقصد کیلئے محکمہ بلدیات ودیہی ترقی فزیبلٹی سٹڈی مرتب کرے گا‘فیزیبلٹی سٹڈی پر ایک ارب 50 کروڑ روپے خرچ کئے جائینگے اور اس منصوبے کیلئے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں 37کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے ‘فزیبلٹی سٹڈی میں پشاور کی موجودہ سڑکوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور انکی مرمت اور بحالی سمیت نئی سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے بھی سفارشات تیار کی جائیں گی‘فزیبلٹی سٹڈی صرف پشاور کے شہری علاقے کے ٹریفک مسائل حل کرنے کیلئے کی جائے گی سٹڈی میں پشاور کے دیہی علاقوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے‘ دوسری جانب پچھلے دنوں اہالیان پشاور کومیڈیا کے توسط سے یہ خوشخبری بھی سنائی گئی تھی کہ صوبائی حکومت نے ’وژن پشاور 2040‘کے نام سے پشاور کو خصوصی پیکےج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔پیکےج کے تحت پشاور میں دریائے کابل کے کنارے انٹرٹینمنٹ سٹی قائم کی جائے گی۔پشاور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا محور بنانے کیلئے نجی شعبے کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اسی طرح پشاور میں تین بڑے پارکوں کی تعمیر سمیت سیاحت کیلئے دنیا بھر میں پشاورکی تاریخی حیثیت اجاگر کی جائے گی۔

یہاں یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میںپشاور کیلئے خصوصی ترقیاتی فنڈ مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح صوبائی حکومت نے آئندہ پانچ سال کے دوران پشاور کو ملک کا تیز ترین ترقی یافتہ شہر بنانے کیلئے 26نکات بھی متعارف کرا ئے ہیں جنہیں سات مختلف شعبوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے تین اہم اقدامات کئے جائیں گے جن میں بی آر ٹی کی تکمیل‘رنگ روڈ سمیت اندرون شہرپشاور کی سڑکوں کی بحالی اور تعمیر‘ٹریفک مینجمنٹ پلان کی تیاری اور عملدرآمد شامل ہے‘اندرون شہر نیبرہڈ کی بہتری کیلئے بلدیاتی نمائندوں کی مدد سے ترقیاتی منصوبے شروع کئے جائینگے۔شہر میں صفائی پر توجہ سمیت سبزہ زاروںپرتوجہ دی جائے گی۔شہر میں پارکنگ کیلئے مقامات کی نشاندہی سمیت کمرشل عمارتوں کیلئے بھی ضابطہ اخلاق مرتب کیا جائے گا‘ خدمات کی فراہمی سے متعلق شہریوں کو گیس اور بجلی کی فراہمی سمیت بجلی اور گیس کی چوری پر قابو پایا جائے گا شہریوں کو پینے کا صاف پانی‘ بہتر تعلیمی اور صحت کی سہولیات دی جائیں گی۔ شہریوں کی شکایات کے ازالہ کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد لی جائے گی۔ پشاور میں تین بڑے پارک تعمیر کئے جائیں گے نہروں پر چھوٹے پارک بھی بنائے جائیں گے جبکہ موٹروے کے قریب دریائے کابل پر ایک انٹرٹینمنٹ سٹی قائم کی جائے گی۔

اسی طرح حیات آباد میں کرکٹ اکیڈمی کا قیام بھی اسی منصوبے کا حصہ ہو گا‘ پشاور کے امور نمٹانے کیلئے سٹی میئر کو مکمل اختیار دیا جائے گا جبکہ واٹر اینڈسینی ٹیشن سروسز کمپنی پشاور اور پشاور ڈےوےلپمنٹ اتھارٹی کی صلاحیتوں کو بھی بروئے کار لایا جائے گا‘ صوبائی حکومت سیف سٹی منصوبے کو شہر بھر میں توسیع دینے کا بھی ارادہ رکھتی ہے‘پشاور کے تاریخی مقامات قصہ خوانی‘ اندورن شہر اور دیگر کی تاریخی اعتبار سے بحالی بھی منصوبے کا حصہ ہوگی۔دوسری جانب پشاور کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی حوصلہ افزاءہیں کہ یو این ایچ سی آرنے مہاجرین کی بہترین مہمان نوازی پر پشاور اور ترکی کے شہر جزیانٹن کو دنیا کیلئے مثال قرار دیاہے یو این ایچ سی آر نے پشاور اور جزیانٹن کو جڑواں شہر ڈکلےئرکرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے اور اس کیلئے پشاور اور جزیانٹن کے مابین باقاعدہ معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے‘یواین ایچ سی آر خیبرپختونخوا کے ہیڈدانش شریستہ نے خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومتوںکی افغان مہاجرین کی مہمان نوازی اورمیزبانی کی تعریف کرتے ہوئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔