73

معلوم راز

پاکستان کے لئے ورلڈ کپ مقابلے کا حصہ رہنے کی اُمیدیں دیگر ٹیموں کی کارکردگی پر منحصر ہیں۔ ’ٹیم گرین‘ کو بنگلہ دیش کے خلاف اپنا آخری مقابلہ تو لازماً جیتنا ہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ نیوزی لینڈ سے بھی یہ توقع ہے کہ وہ برطانیہ کو پہلے راو¿نڈ کے آخری میچ میں شکست دے گا یعنی پاکستان کے شائقین کو 1992ءکے ورلڈ کپ کی طرح‘ پہلے راو¿نڈ کے اختتام تک انتظار کرنا ہوگا اور تبھی صورت حال واضح ہوگی کہ جاری مقابلوں کی پہلی چار ٹیمیں کون کون سی ہیں۔ ویسے بھارت کی شکست نے ورلڈ کپ کو بہت ہی دلچسپ بنا دیا ہے کہ اب تک صرف ایک یعنی آسٹریلوی ٹیم باقاعدہ طور پر سیمی فائنل مرحلے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکی ہے اور باقی تین درجات کےلئے مقابلہ پاکستان سمیت پانچ ٹیموں کے مابین ہے‘ پاکستان ٹیم اور شائقین کی بات کی جائے تو اِنہیں بھی نیوزی لینڈ کے ہاتھوں برطانیہ کی شکست کا انتظار ہے اور بنگلہ دیش کے خلاف پہلے راو¿نڈ کے آخری میچ میں تو بہرصورت کامیابی حاصل کرنی ہی ہے لیکن اگر ٹیم گرین چاہے کہ وہ باقی ماندہ ورلڈ کپ کھیلے! نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہے کہ اگر یہ اپنا آخری میچ برطانیہ سے ہار بھی جاتی ہے تو بھی اس کا ’رن ریٹ‘ پاکستان اور بنگلہ دیش سے بہتر رہے گا‘ سب سے مشکل صورت حال بنگلہ دیش کےلئے ہے کہ جسے اپنے آخری دونوں میچز (بھارت و پاکستان سے) جیتنے ہیں اور ساتھ یہ امید بھی لگانی ہے کہ نیوزی لینڈ برطانیہ کو ہرا دے گا یعنی کہ اِس وقت جبکہ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے پہلے صرف سات میچز باقی ہیں‘ تو کچھ زیادہ ہی ”اگر مگر“ موجود ہے اور اس بے یقینی کی کیفیت میں بھارت کی برطانیہ کے ہاتھوں شکست نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔

 جو ایک عجیب و غریب مقابلہ تھا۔ ایک چھوٹے سے میدان پر کہ جس کی ایک سمت کی باو¿نڈری صرف 59میٹر تھی‘ وہاں برطانیہ نے دھواں دار بیٹنگ کی اور بھارت کی اصل طاقت یعنی اسپن باو¿لنگ کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں لیکن جواب میں بھارت کا ردِعمل حیران کن تھا۔ 338رنز کے تعاقب میں اس نے پہلے 10اوورز (60گیندوں) میں صرف 28رنز بنائے اور آخری 10اوورز میں 72رنز جبکہ ضرورت 100سے زیادہ رنز کی تھی! درحقیقت بھارت چاہتا ہی نہیں تھا کہ وہ جیتے کیونکہ اُس کی جیت سے پاکستان ٹیم کو فائدہ ہوسکتا تھا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ بھارت کے پاس وکٹیں کم تھیں یا کوئی ایسا کھلاڑی وکٹ پر تھا کہ جسے میچ ’ختم ‘ کرنا نہ آتا ہو۔ کریز پر مشہورِ زمانہ ’فنشر‘ مہندر سنگھ دھونی تھے لیکن اُن کے ہوتے ہوئے بھی بھارت نے آخری تیس میں سے 7گیندیں ضائع کیں اور 20پر ایک‘ ایک رن‘ 3 چوکے اور صرف ایک چھکا لگایا۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی تھی جو نہ صرف دنیا بھر کے کرکٹ شائقین بلکہ خود سابق بھارتی کھلاڑیوں اور میچ کے دوران کمنٹری کرنے والوں کی سمجھ سے بالاتر تھی‘ کرکٹ شائقین کے حافظوں میں یہ الفاظ یقینا محفوظ ہوں گے جب برطانیہ کے سابق کرکٹر اور معروف تجزیہ کار ناصر حسین نے ایک موقع پر سوال اُٹھایا کہ ”مجھے بھارت کے اِس کھیل کی سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر دھونی کر کیا رہے ہیں؟“ تو ٹیلی ویژن پر پس پردہ اُن کا ساتھ دینے والے بھارتی کمنٹیٹر ’سارو گنگولی‘ نے جواب دیا کہ ”میں اِس کی کوئی صفائی نہیں پیش کرسکتا۔“ حقیقت یہ تھی کہ صرف گنگولی ہی نہیں بلکہ دیگر بھارتی تبصرہ کار جیسا کہ ’سنجے مانجریکر‘ بھی حیرانگی کے اظہار کرتے رہے بلکہ اُنکے منہ سے تو یہ الفاظ نکلے کہ ”آخری چند اُوورز میں دھونی کی حکمت عملی سمجھ سے بالاتر رہی۔

“ میچ کے اختتام پر ہونے والی رسمی تقریب میں بھی یہ معاملہ اُٹھا اور بھارتی کپتان ویرات کوہلی سے یہ پوچھ لیا گیا کہ اُن کی ٹیم کا آخری (دس) اُوورز میں جیت کا کوئی اِرادہ نظر کیوں نہیں آیا؟“ یہ سوال بالکل اب بھی بنتا ہے کیونکہ کرکٹ کی ایسا تاریخ میں صرف ایک ہی بار ہوا ہے کہ کسی ممکن ہدف کے تعاقب کے دوران دھونی ’ناٹ آو¿ٹ‘ میدان سے واپس آئے ہوں اور بھارت کی ٹیم کامیاب بھی نہ ہوئی ہو! بہرحال بھارت نے اپنے لئے نہیں بلکہ برطانیہ کے خلاف پاکستان کےساتھ کھیل کھیلا ہے اور یہ حقیقت معلوم راز ہے! بھارت ورلڈ کپ 2019ءکے پہلے راو¿نڈ میں ناقابلِ شکست بھی رہ سکتا تھا‘ جو اپنی جگہ اعزاز ہوتا لیکن اُس نے پاکستان دشمنی میں داغ گوارہ کر لیا تو اِس کے ساتھ ہی اُس کے اعتماد کا جو خسارہ ہوا ہے‘ وہ مزید فتوحات جیسے اِرادوں کو خاک میں ملانے کے لئے کافی ہے! کم سے کم یہ بات تو طے ہو ہی گئی ہے کہ ’ٹیم انڈیا‘ ناقابل شکست نہیں!


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔