109

فارورڈ بلاک‘ حقیقت کیا ہے؟

موجودہ حکومت اپنے ایسے اتحادیوں کے سہارے قائم ہے جو ماضی میں عمران خان کے نزدیک قابل اعتماد نہیں تھے اور ایسے کئی وزراءعمران خان کے بہت قریب ہیں جو ماضی میں ناپسندیدہ تھے‘ بہت سوں پر سابقہ حکومتوں کا حصہ رہنے اور کرپشن کے بھی الزامات ہیں مگر اس کے باوجود اس صورتحال کو ”ہارس ٹریڈنگ“ کا نام نہیں دیاجاسکتا‘ مگر گزشتہ روز وزیراعظم ہاﺅس بنی گالہ سے جو خبر جاری کی گئی کہ مسلم لیگ (ن) کے 15 ارکان قومی اسمبلی نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا یہ ایک ایسی خبر ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عمران خان بھی جن حکمرانوں کے خلاف‘ جن ناپسندیدہ کامو ںپر تنقید کرتے تھے‘ ان میں شاید آخری یہی رہ گئی تھی کہ مخالف پارٹیوں کے ارکان توڑ کر اپنی حکومت کو مستحکم کیاجائے‘ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا‘ البتہ ملاقاتیوں کی مبینہ فہرست میں شامل ریاض الدین پیرزادہ نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے وقت‘ جب نواز شریف مشکلات میں ہیں وہ ان کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم ہاﺅس سے اتنی بڑی خبرجاری نہیں ہوسکتی مسلم لیگ(ن) کے ممبران اسمبلی میں سے ضرور کسی گروپ نے ملاقات کی ہوگی مگر دیکھنا یہ بھی ہے کہ ایسے وقت میں جب حکومت ایک سال کے اندر ہی اپنی مقبولیت کے نچلے گراف پر جاچکی ہے مشکل اقتصادی فیصلوں کی وجہ سے عام عوام کے ساتھ کاروباری طبقہ بھی مسائل میں گر چکا ہے پہلی بار تنخواہ دار طبقے کو بھی کوئی ریلیف نہیں مل سکی‘۔

 مہنگائی اور بے روزگاری کا ایک طوفان آرہا ہے تو اپوزیشن کو چھوڑ کر ارکان اسمبلی کیوں حکومت کی حمایت کرنے پر مائل ہوئے حالانکہ اس حکومت کے پاس ان کو نوازنے کیلئے بھی کچھ نہیںا ور پہلے اتحادی بھی ناخوش ہیں‘ اس حوالے سے حکومت کی طرف سے کسی پیشکش سے زیادہ مسلم لیگ (ن) کے اندرونی اختلافات کے اور قیادت میں مختلف بیانیے کے باوجود پیپلز پارٹی کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کا بھی یقینا حصہ ہے‘ اس میں شک نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو جو عوامی مقبولیت حاصل ہے وہ صرف نواز شریف کی وجہ سے ہے اور کرپشن کے الزامات اور عدالتی سزا کے باوجود ایک جذباتی طبقہ ان کیلئے سڑکوں پر آتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ نواز شریف کی سیاسی وارث صرف مریم نواز ہی ہے اور مسلم لیگ کے صدر ہونے کے باوجود شہباز شریف کو پارٹی میں فیصلہ کن حیثیت نہیں مل سکی‘ فطری طورپر نواز شریف بھی صلح جو اور مفاہمت پسند سیاستدان ہیں‘ انہوں نے اسی وجہ سے تین بار حکومت حاصل کی مگر جب بھی اپنے چند مشیروں کے کہنے پر انہوں نے مصالحت کا دامن چھوڑا نقصان اٹھایا‘ اس کے برعکس شہباز شریف نے عوامی سطح پر انقلابی بننے کی کوشش کے باوجود ہمیشہ مقتدر حلقوں کے ساتھ مفاہمت کے ساتھ حکمرانی کی اب نواز شریف آئینی او ر عملی طورپر سیاست سے باہر ہیں مگر ان کے نام پر مریم نواز ایک جارحانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس میں پارٹی کا ایک خاص گروہ ان کے پیچھے ہے۔

‘ اگرچہ یہ سب نواز شریف کے نام پر ہو رہا ہے مگر ضروری نہیں کہ ان کی مکمل تائید حاصل ہو وہ جس خوش فہمی کی بنیا دپر عدالتوں میں پیش ہوتے رہے وہ غلطی فہمی ثابت ہوئی اور اب صحت کی بنیاد پر ضمانت حاصل کرنے کیلئے تگ ودو کررہے ہیں حالیہ دنوں متحدہ اپوزیشن کے اجلاس اور مختلف فیصلوں میں اگرچہ شہباز شریف اجلاس کی صدارت کرتے تھے مگر وہ مریم نواز کھل کر اختلاف نہیں کرسکتے حالانکہ مریم نے اپنے چچا اور پارٹی صدر کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے کبھی اس بات کا خیال نہیں کیا کہ اس اندرونی کشمکش کا پارٹی کے ارکان پر بھی اثر پڑتا ہے‘ یہ بات طے ہے کہ مریم نواز‘ شہباز شریف کو کھل کر آگے آنے کی اجازت نہیں دیں گی‘ اور یہ بات خود شہباز شریف کو بھی پتہ ہے‘ اسی لئے وہ اپنی صدارت کا حق لینے اور مریم نواز کو حدود میں رہنے کا نہیں کہتے کہ اس طرح سارا بھانڈہ پھوٹ جائے گا جبکہ آئینی طورپر نواز شریف اور مریم نواز کی سیاست کا راستہ بند ہے‘ اس صورتحال میں پارٹی کے ارکان اسمبلی کا اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہونا اور کوئی دوسرا سیاسی سہارا تلاش کرنا غیر فطری نہیں اور وقتی مشکل فیصلوں اور مشکلات کے باوجود حکومت کے بارے میںیہ توقع بھی موجود ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے چند سالوں میں ملک اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوجائے گا‘ اس لئے سیانے ایم این اے آئندہ انتخابات تک بہتر حالات کے امکان کے پیش نظر حکومتی پارٹی کے قریب ہو رہے ہیں مگر عمران خان کیلئے یہ بات قطعاً مناسب نہیں کہ وہ ان کی حوصلہ افزائی کریں ویسے بھی آئینی پوزیشن یہ ہے کہ یہ ارکان اپنی پارٹی فیصلے کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاسکتے حتیٰ کہ قیادت کی اجازت کے بغیر وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں کےخلاف بھی تادیبی کاروائی ہوسکتی ہے‘ ان حالات میں عمران خان کیلئے اس عمل سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے اورہاں مسلم لیگ (ن) کو بھی اب شریف فیملی کے اختلافات سے بچا کر سیاسی پارٹی کے طورپر آگے بڑھنا چاہیے‘ اگر شہباز شریف صدر ہیں تو سب کو ان کے پیچھے چلنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔