79

افغانستان‘ قیام امن کی کا وشیں

افغانستان کے حوالے سے اگر ایک طرف طالبان کی بڑھتی ہوئی کاروائیوں کے نتیجے میں بدامنی اور خون خرابے میں اضافے کی پریشان کن خبریں سامنے آ رہی ہیں تودوسری جانب مستقل قیام امن کےلئے متحارب فریقین اور افغان قضیئے کے تمام اہم سٹیک ہولڈرزماسکو سے لیکر بیجنگ اور دوحہ سے لیکر مری تک مذاکرات اور بات چیت میں بھی مصروف نظر آتے ہیں جس سے یہ امید بندھ جاتی ہے کہ حالات ابھی اتنے بھی خراب نہیں ہوئے جتنا کہ اس حوالے سے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ‘ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کا ایک مظاہرہ پچھلے دنوں مری کانفرنس کی صورت میں دیکھنے کوملا ہے جس میں ڈیڑھ درجن سے زائد افغان تنظیموں اور نمایاں شخصیات کی پاکستان کی میزبانی میں شرکت سے یہ بات ایک بار پھرثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے سنجیدہ ہے کیونکہ اس بات میں کسی شک وشبے کی گنجائش نہیں ہے کہ افغانستان میں قیام امن سے نہ صرف پاکستان کا امن وابستہ ہے بلکہ اس پورے خطے کے استحکام اور ترقی کا دارومدار بھی افغانستان میں مستقل اور پائیدار امن پر ہے ‘کانفرنس میں سابق وزیر اعظم اور حزب اسلامی کے امیرانجینئر گلبدین حکمت یار کے علاوہ اہم سیاسی رہنماﺅں قومی سلامتی کے سابق مشیر اور موجودہ صدارتی امیدوار حنیف اتمر ‘ احمد ولی مسعود‘کریم خلیلی‘عطا محمد نور ‘استاد محقق اور کئی دیگر زعما ءنے بھی شرکت کی‘افغان امور کے ماہرین مری کانفرنس کوافغان امن عمل کےلئے ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

 واضح رہے کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں چند دن قبل چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے چین ہرمدد کو تیار ہے اور اس ضمن میں چین افغان طالبان کے سیاسی نمائندے ملا برادر اخوند کو چینی سرزمین پر خوش آمدید کہتا ہے‘انہوں نے کہا کہ ملا برادر اخوند چین میں متعلقہ حکام سے اپنے تحفظات امن مذاکرات کی بحالی اور انسداد دہشت گردی پر جامع تبادلہ خیال کریں گے‘ چین ملابرادر کی جانب سے افغانستان کیلئے کی گئی پوزیشن پر تبادلہ خیال کرے گا‘ لوکھانگ نے مزید کہا کہ چین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ چین نے ہمیشہ افغانستان کے امن عمل کو سراہا ہے اور انسداد دہشت گردی کیلئے ہر تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے‘ چین متعلقہ فریقین مابین مذاکراتی عمل کا ہمیشہ سے ہی حامی رہا ہے اور مختلف ذرائع سے اس عمل میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہا ہے‘ ترجمان نے مزید کہا کہ چین امید کرتا ہے کہ متعلقہ فریقین افغانستان کو درپیش مسائل پر مذاکراتی عمل جاری رکھیں گے اور اپنے ملک کے امن واستحکام اور ترقی کیلئے مل کر کردارادا کرینگے‘دوسری جانب افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ابھی چند دن قبل روس کے شہر اوفا میںپا کستان‘ روس ‘ چین‘ بھارت ‘ ایران اور افغانستان کے سکےورٹی سے متعلق نمائندوں کاایک اعلیٰ سطحی اجلا س منعقد ہوا ہے۔

 جس میں ان چھ ممالک نے افغانستان کی سلامتی کو درپیش چیلنجوں اور خطرات حل کرنے کیلئے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر اتفاق کیا ہے ‘اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ افغانستان کے حوالے سے آئندہ وسیع کثیر الجہتی مشاورت تہران میں کی جائے گی۔ دریں اثناءایک اعلیٰ امریکی تحقیقاتی ادارے سپیشل انسپکٹر برائے افغانستان تعمیرنو نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران افغان سکیورٹی فورسز کی تشکیل نو و تربیت کے عمل کو بین الاقوامی فورسز کے درمیان عدم تعاون کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے‘ اس رپورٹ کے مطابق83 بلین ڈالر خرچ کئے جا چکے ہیں اور مطولبہ نتائج اب تک برآمد نہیں ہو سکے ہیں‘ اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیاہے کہ اس وقت کوئی بھی فرد یا ادارہ اس عمل کو آگے بڑھانے کےلئے موجود نہیں ہے‘ افغانستان میں مستقل قیام امن پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ تلخ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے کہ امن کا راستہ آسان نہیں ہے‘ جامع معاہدہ طے پانے اور تمام فریقین کی جانب سے اس کی قبولیت سے قبل بہت سے چیلنجز اور مشکلات درپیش ہیں جن سے نمٹنے کےلئے تمام فریقین کو قیام امن کا عہد کرنا ہوگا‘ توقع ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ بات چیت کا آٹھواںدور نہ صرف متذکرہ بالا کاوشوں کاتسلسل ثابت ہو گا بلکہ اس کے نتیجے میں امن کی منزل بھی مزید قریب تر ہو سکے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔