92

پہلا صدارتی مباحثہ

گذشتہ ہفتے میامی میں ہونیوالے دو روزہ صدارتی مباحثے میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی نئی قیادت لبرل اور پروگریسو سیاست کو آگے بڑھانے پر کمربستہ ہے‘ اس ڈےبیٹ میں شامل بیس صدارتی امیدواروں میں سے پانچ ایسے تھے جنہوں نے بل کلنٹن اور باراک اوباما کی سیاست کو سست رو اور معذرت خواہانہ قرار دیتے ہوئے ایک واضح اور بھرپور انداز سے اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کرنے کے عزم کا اظہار کیا ان پانچ میں سے دو ایسے ہیں جنہیں امریکی سیاست کے ابھرتے ہوئے ستارے کہا جا سکتا ہے اگر چہ کہ یہ دونوں اپنے طرز فکر ‘ بیک گراﺅنڈ اور پر جوش انداز خطابت کی وجہ سے پچھلے دو تین ماہ سے مین سٹریم میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں مگر چھبیس اور ستائیس جون کے مباحثے کے بعد انکی مقبولیت میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ بعض دانشور انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کےخلاف ایک ڈریم ٹیم کہہ رہے ہیں‘ ان میں فرنٹ رنر کیلی فورنیا کی پچپن سالہ خاتون سینیٹر Kamala Harris ہیں اور دوسرے نمبر پر انڈیانا کے شہر South Bend کے سینتیس سالہ میئر Pete Buttigieg ہیں‘معروف کالم نگار Frank Bruni نے ان دونوں کو Two of the event's standout performer یعنی اس واقعے کے دو نمایاں کردارکہا ہے‘کمالاہیرس کی والدہ کا تعلق انڈیا کی جنوبی ریاست تامل ناڈو سے ہے اور انکے والد Caribbean Island کے ملک جمیکا سے آئے ہیں‘Pete Buttigieg کو ٹائمز میگزین نے Breakout star of the 2020 Democratic Presidential Primary کا خطاب دیا ہے‘پیٹ بٹی گیگ کو امریکہ کے پہلے Gay صدارتی امیدوار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے‘ ۔

ان دونوں کی مقبولیت نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا امریکی ووٹر ایک سیاہ فام خاتون یا ایک ہم جنس پرست شخص کوصدر بنانے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں‘ دو سمندروں کے ساحلوں پر آباد درجن بھر شہر کہ جنہیں Coastal America کہا جاتا ہے ان دونوں میں سے کسی کو بھی بطور صدر قبول کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کریںگے مگر وسطی اور جنوبی ریاستوں کے قوم پرست اور مذہبی سوچ رکھنے والے لوگ انہیں کسی بھی صورت ووٹ دینے پر آمادہ نہ ہوںگے یہ قدامت پسند آٹھ برس تک مسلسل باراک اوباما کی مخالفت کرتے رہے اور انہوں نے ہیلری کلنٹن کو صرف اسلئے ووٹ نہ دےئے کہ وہ ایک خاتون تھی اس اعتبار سے ڈیموکریٹک پارٹی انتخابی مہم کے شروع ہوتے ہی ایک مخمصے کا شکار ہو گئی ہے‘ الیکشن میں ابھی سولہ ماہ باقی ہیں اور اس عرصے میں بہت سی تبدیلیاں آئیں گی مگر پہلے صدارتی مباحثے نے یہ تاثر واضح طور پر قائم کردیا ہے کہ پرانی سیاست گری خوار ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کی نئی لیڈرشپ کا جھکاﺅ فار لیفٹ کی طرف ہے اب دائیں اور بائیں بازو کے دانشور پوچھ رہے ہیں کہ How far to the left یعنی ڈیمو کریٹک پارٹی کس حد تک بائیں طرف جائے گی‘ باراک اوباما کی جماعت اگر مرکزی دھارے کی سیاست کو چھوڑ کر بائیں بازو کی طرف زیادہ مراجعت کرتی ہے تو اس صورت میں بہت سے معتدل خیالات رکھنے والے ووٹر اس سے کنارہ کش ہو جائیں گے۔

میامی کے صدارتی مباحثے کے بعد کئے جانیوالے سرویز کے مطابق باراک اوباما کے دو ادوار سیاست میں نائب صدر رہنے والے جوزف بائیڈن اسوقت بائیس فیصد ووٹروں کی حمایت سے پہلے نمبر پر‘ کمالا ہیرس بیس فیصد‘ میسا چوسٹ کی سینیٹر الزبتھ وارن چودہ فیصد اور ورمانٹ کے سینیٹر برنی سینڈر تیرہ فیصد ووٹروں کی حمایت سے علی الترتیب دوسرے ‘ تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں‘ اس میں اہم بات یہ ہے کہ پہلے صدارتی مباحثے کے بعدجوزف بائیڈن اور برنی سینڈر کی حمایت میںآٹھ اور چھ فیصد کمی آئی ہے جبکہ کمالا ہیرس کی حمایت میں تیرہ فیصد اضافہ ہوا ہے‘ جوزف بائیڈن جن کی عمر 76 سال ہے ریاست پنسلوینیا کے شہر سکرینٹن میں پیدا ہوئے بعد میں یہ قریبی ریاست Delaware سے 1973 سے 2009 تک مسلسل سینیٹر منتخب ہوتے رہے‘جوزف بائیڈن نائب صدر بننے سے پہلے چھتیس برس تک ڈیموکریٹ ہونے کے باوجود قدامت پسند سیاست کرتے رہے اسی لئے ستائےس جون کو کمالا ہیرس نے انہیں آڑھے ہاتھوں لیا اور انکی چھیالس سالہ سیاست کے بارے میں ایسے تیکھے سوالات کئے جن کے جواب دینا بائیڈن کیلئے آسان نہ تھا چھیالیس سال ایک طویل عرصہ ہے اتنی مدت میں کسی بھی ملک کی سیاست ان گنت تبدیلیوں سے گذرتی ہے کسی سیاستدان سے چالیس برس پہلے کئے ہوئے فیصلوں کی وضاحتیں مانگنا توآسان ہے ۔

مگر انکے جواب دینا جوئے شیر لانےوالی بات ہے جوزف بائیڈن اس رات کمالا ہیرس کے پوچھے ہوئے کئی سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے اسلئے انکی مقبولیت میں خاصی کمی آگئی ہے اس مباحثے سے پہلے بائیڈن کو اسلئے ایک مضبوط صدارتی امیدوار سمجھاجارہا تھا کہ انہیں بڑے شہروں کے علاوہ وسط مغربی اور جنوبی ریاستوں میں بھی بھرپور حمایت حاصل تھی اب انکی کمزور پرفارمنس کے بعد پوچھا جا رہا ہے کہ وہ ٹرمپ جیسے غضبناک حریف کا مقابلہ کیسے کریں گے ۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے کہ اسکا بائیں بازو کی طرف زیادہ جھکاﺅ سونگ ووٹروں کو بدظن کردیگا وہ یاتوری پبلکن پارٹی کی طرف چلے جائیں گے اور یا پھر ووٹ ڈالنے نہیں آئیںگے دونوں صورتوںمیں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینا مشکل ہو جائےگا‘کیا ڈیموکریٹک پارٹی کے ابھرتے ہوئے ستارے یہ نہیں جانتے کہ انکی الٹرا لیفٹ سیاست آگے چل کر انکی کامیابی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن جائے گی اس سوال کے جواب میں وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر نوجوان ووٹر زبڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آ جائیں تو انہیں سونگ ووٹروں کی ضرورت نہیں رہے گی یہ ایک ایسا رسک ہے جسے ڈیموکریٹک پارٹی کی سینئر قیادت لینے کو تیار نہیں انکی کوشش یہی ہے کہ نظریاتی طور پر مرکزی دھارے کی سیاست کی جائے تا کہ وسطی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکے ایسا اگر نہ ہوسکا تو پچھلے الیکشن کی طرح دو ٹ تو زیادہ مل جائیں گے مگر الیکٹورل کالج کی اتنی نشستیں نہ مل سکیں گی جو صدارتی انتخاب جیتنے کیلئے ضروری ہوتی ہیں۔

پہلے صدارتی مباحثے کے بعد یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نوجوان ووٹروں کی ایک بڑی تعداد ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے نہ صرف بیزار ہے بلکہ وہ اسکے مخالف سمت میں جانے کیلئے ہر قیمت دینے کوبھی تیار ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ نئے مہاجرین کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہے اور بارہ ملین کے لگ بھگ پرانے غیر قانونی ایمیگرنٹس کو بعض شرائط پوری کرنے پر سٹیزن شپ دینے پر آمادہ ہے اسکے علاوہ وہ یونیورسل ہیلتھ کیئر کے ذریعے ہر کسی کو ہیلتھ انشورنس بھی دینا چاہتی ہے ری پبلکن پارٹی پوچھ رہی ہے کہ ان تمام سخاوتوں کیلئے پیسے کہاں سے آئیں گے ابھرتے ہوئے ستارے کہتے ہیں کہ طبقہ امراءپر ٹیکس لگاکر یہ سرمایہ حاصل کیاجائیگا کاروباری لوگ کیونکہ اس طرز فکر کو پسند نہیں کرتے اسلئے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں‘نئے ڈیموکریٹس کیونکہ آمدن میں تفاوت کم کرنے کی بات بھی کر رہے ہیں اسلئے بڑے سرمایہ دار انکی حمایت کرنے پر آمادہ نہیں پہلے صدارتی مباحثے نے الٹرا لیفٹ سیاست کی جس بحث کو جنم دیا ہے وہ دلچسپ بھی ہے اور امریکی سیاست پر اسکے دور رس اثرات بھی مرتب ہوں گے مگر سیاسی بحث مباحثے سے قطع نظراصلی سوال یہ ہے کہ اگلے سال کے انتخابی معرکے میں نئی الٹرا لیفٹ سیاست برگ و بار لاتی ہے یا نہیں؟ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔