110

صوبائی دارالحکومت کی تعمیر وترقی

وزیراعلیٰ محمود خان نے صوبائی دارالحکومت کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے پشاور اپ لفٹ پروگرام کے حوالے سے گزشتہ روز منعقد ہونیوالے اجلاس میں وزیراعلیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہر کی تعمیر اور خوبصورتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت منعقد ہونےوالے اجلاس سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق سرکلر ریلوے منصوبے کی امکاناتی رپورٹ رواں سال مکمل ہونے کا عندیہ دیاگیا ہے‘ اجلاس میں بس منصوبے کی معیاری تکمیل کے حوالے سے خصوصی ہدایات بھی جاری کی گئیں جبکہ صوبائی دارالحکومت کے انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کا فیصلہ کیاگیا‘آبادی میں بے پناہ اضافے‘بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے رجحان اور لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی نے صوبائی دارالحکومت کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے‘ ناقص اور تکنیکی مہارت سے عاری منصوبہ بندی‘ فرائض سے غفلت کے رجحان اور کم وسائل پر دباﺅ نے صورتحال کو مزید بگاڑ کر رکھ دیا ہے‘ اس منظرنامے میں وزیراعلیٰ کی جانب سے اپ لفٹ پروگرام کیلئے خطیر فنڈز مختص کرنے اور دارالحکومت کی تعمیر وترقی کو اولین ترجیح قرار دینے کا عزم ان کے احساس کی عکاسی ضرور کرتا ہے تاہم اس سب کا ثمرآور ہونا ایک موثراور قابل عمل حکمت عملی کا متقاضی ہے‘صوبائی دارالحکومت میںا نفراسٹرکچر کے حوالے سے اہم مسئلہ سڑکوں کی توسیع اور مرمت ہے‘ ۔

نکاسی آب کا پورا نظام کلیئر کرنے کیساتھ نئے آباد ہونیوالے علاقوں کیلئے سیوریج لائنیں بچھانا بھی ضروری ہے‘ بلڈنگ کوڈ پر عملدرآمد یقینی بنانے کیساتھ ٹریفک کی روانی کیلئے فول پروف پلان ناگزیر ہے‘ میونسپل سروسز کی حالت کسی طور تسلی بخش قرار نہیں دی جاسکتی‘پینے کا پانی انسانی صحت اور زندگی کیلئے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے‘ اس ضمن میں آب رسائی کے پائپوں کی تبدیلی سے متعلق درجنوں اعلانات ریکارڈ پر موجود ہیں‘دارالحکومت میں خدمات کی فراہمی کے اداروں خصوصاً شفاخانوں کی حالت اصلاح احوال کیلئے بڑے اقدامات کی متقاضی ہے‘حکومت کی جانب سے شہر کی تعمیر وترقی کیلئے اگر اقدامات اٹھائے بھی گئے تو انہیں مرکزی شارع جی ٹی روڈ اور چند دوسری سڑکوں تک محدود رکھا گیا‘اندرون شہر کے گنجان علاقوں کی حالت سے مسلسل چشم پوشی نے مسائل میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے‘ صورتحال یہاں تک پہنچی کہ شاہی کھٹے ‘کھلے مین ہولز اور نہروں میں سیوریج لائنیں گرائے جانے جیسے معاملات کا نوٹس عدالتوں کو لینا پڑا‘قابل اطمینان ہے کہ صوبائی حکومت بعد از خرابی بسیار سہی اب دارالحکومت کا
حلیہ درست کرنے جارہی ہے تو اس کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے ماضی کی پلاننگ میں پائے جانیوالے سقم دور کرنا ہوں گے‘ حکومت کو پشاور کی تعمیر وترقی اور اپ لفٹ پروگرام کیساتھ مختلف شعبوں میں اپنے اقدامات واعلانات اور ان پر عملدرآمد کے درمیان گیپ کم کرنا ہوگا۔

سرکاری ہسپتال ہوں یا تعلیمی ادارے‘ میونسپل سروسز کے دفاتر ہوں یا خدمات کے مراکز‘ پولیس سٹیشن ہوں یا پٹوارخانے سمیت ریونیو کے دیگر دفاتر جب تک موقع پر جاکر ان کے آپریشن کو نہ دیکھاجائے اور عوام سے فیڈ بیک نہ لیاجائے تو محض اعلانات وہدایات سے اصلاح احوال کسی طور ممکن نہیں‘ ہیلتھ سیکٹر بھی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے‘ اس شعبے کیلئے درجنوں اعلانات اور بھاری فنڈز کا اجراءریکارڈپر موجود ہے تاہم سرکاری شفاخانوں سے رجوع کرنےوالے شہری اب بھی اسی طرح مسائل کا شکار ہیں‘سرکاری سکولوں کی کارکردگی میٹرک کے نتائج میں ایک بارپھر سامنے آچکی ہے‘ یہی حال دیگر شعبوںکا بھی ہے‘ وزیراعلیٰ کو خود دیکھنا ہوگا کہ آنیوالے دنوں میں ماضی کے برعکس صرف فائلوں میں لگی رپورٹس پر انحصار نہ کیاجائے۔


 آباد ہونیوالے علاقوں کیلئے سیوریج لائنیں بچھانا بھی ضروری ہے‘ بلڈنگ کوڈ پر عملدرآمد یقینی بنانے کیساتھ ٹریفک کی روانی کیلئے فول پروف پلان ناگزیر ہے‘ میونسپل سروسز کی حالت کسی طور تسلی بخش قرار نہیں دی جاسکتی‘پینے کا پانی انسانی صحت اور زندگی کیلئے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے‘ اس ضمن میں آب رسائی کے پائپوں کی تبدیلی سے متعلق درجنوں اعلانات ریکارڈ پر موجود ہیں‘دارالحکومت میں خدمات کی فراہمی کے اداروں خصوصاً شفاخانوں کی حالت اصلاح احوال کیلئے بڑے اقدامات کی متقاضی ہے‘حکومت کی جانب سے شہر کی تعمیر وترقی کیلئے اگر اقدامات اٹھائے بھی گئے تو انہیں مرکزی شارع جی ٹی روڈ اور چند دوسری سڑکوں تک محدود رکھا گیا‘اندرون شہر کے گنجان علاقوں کی حالت سے مسلسل چشم پوشی نے مسائل میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے‘ صورتحال یہاں تک پہنچی کہ شاہی کھٹے ‘کھلے مین ہولز اور نہروں میں سیوریج لائنیں گرائے جانے جیسے معاملات کا نوٹس عدالتوں کو لینا پڑا‘قابل اطمینان ہے کہ صوبائی حکومت بعد از خرابی بسیار سہی اب دارالحکومت کا
حلیہ درست کرنے جارہی ہے تو اس کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے ماضی کی پلاننگ میں پائے جانیوالے سقم دور کرنا ہوں گے‘ حکومت کو پشاور کی تعمیر وترقی اور اپ لفٹ پروگرام کیساتھ مختلف شعبوں میں اپنے اقدامات واعلانات اور ان پر عملدرآمد کے درمیان گیپ کم کرنا ہوگا۔

سرکاری ہسپتال ہوں یا تعلیمی ادارے‘ میونسپل سروسز کے دفاتر ہوں یا خدمات کے مراکز‘ پولیس سٹیشن ہوں یا پٹوارخانے سمیت ریونیو کے دیگر دفاتر جب تک موقع پر جاکر ان کے آپریشن کو نہ دیکھاجائے اور عوام سے فیڈ بیک نہ لیاجائے تو محض اعلانات وہدایات سے اصلاح احوال کسی طور ممکن نہیں‘ ہیلتھ سیکٹر بھی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے‘ اس شعبے کیلئے درجنوں اعلانات اور بھاری فنڈز کا اجراءریکارڈپر موجود ہے تاہم سرکاری شفاخانوں سے رجوع کرنےوالے شہری اب بھی اسی طرح مسائل کا شکار ہیں‘سرکاری سکولوں کی کارکردگی میٹرک کے نتائج میں ایک بارپھر سامنے آچکی ہے‘ یہی حال دیگر شعبوںکا بھی ہے‘ وزیراعلیٰ کو خود دیکھنا ہوگا کہ آنیوالے دنوں میں ماضی کے برعکس صرف فائلوں میں لگی رپورٹس پر انحصار نہ کیاجائے۔