91

معیشت اور اگر مگر 

 ہمارا سارا نظام ہی مفروضوں اور دوسروں کی کارکردگی کی بنیاد پر چل رہا ہے اب کرکٹ کو ہی دیکھ لیں اگرمگر چونکہ اور چنانچہ کے اتنے لاحقے اور سابقے لگے ہیں کہ ہم اپنی ٹیم کو بے قصور سمجھ رہے ہیں کیونکہ بھارت نے غلط اور سست کھیل کر اور نیوزی لینڈ نے انگلینڈ سے ہار کر ہمیں بے بس کر دیا ورنہ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا تھا مگر دنیا کو معلوم ہوگیا ہے کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ جیت کر لے گےا تو اسکا مطلب یہ ہوگا کہ مستقبل کیلئے ایک اور وزیراعظم کی بنیاد رکھ دی گئی اسلئے تمام دس ٹیموں نے مل کر منصوبہ بندی کی اور ہمارا راستہ روک دیا اسی قسم کی اگر مگر پر ہماری معیشت بھی قائم ہے اگر عوام نے سال میں5500ارب ٹیکس دےدیا اگر آئی ایم ایف نے بروقت قرضہ جاری کردیا اگر سعودی عرب نے ادھار تیل دےدیا اگر متحدہ عرب امارات نے وعدہ کے مطابق3 ارب ڈالر دے دیئے اور اگر چین نے بروقت امداد کردی تو ہماری معیشت بہتر ہو جائیگی لیکن یہ ایسی عجیب و غریب بہتری ہوگی جس میں عوام کو کوئی ریلیف یا سہولت نہیں مل سکتی البتہ امیر اور مراعات یافتہ طبقہ پر کوئی فرق نہیں پڑسکتا‘جہاں تک دوسرے ممالک اور عالمی اداروں کی امدادکا تعلق ہے تو وہ حسب توقع ملنا شروع ہوگئی ہے سعودی عرب نے بھی تین سال میں6 ارب ڈالر تیل کی فراہمی شروع کردی ہے دو ہفتے پہلے قطرکے امیر اسلام آباد آئے تھے انہوں نے بھی2ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا تھا اس کی پہلی قسط 50 کروڑ ڈالر بھی مل گئے ہیں اور سب سے بڑھ کر آئی ایم ایف نے بھی 3 سال کیلئے چھ6 ارب ڈالر کا پیکیج منظور کرلیا ہے ان میں سے صرف قطر کی طرف سے ملنے والا فنڈ امداد کے زمرے میں ہے باقی سب قرض اور واجب الادا ہے‘ہر ملک کی طرح ہمارے ملک کی اصل دولت وہی ہے۔

 جو یہاں عوام سے ٹیکسوں کی صورت میں جمع ہوتی ہے اس حوالے سے ہمارا ریکارڈ زیادہ اچھا نہیں حالانکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ عوام بے تحاشا ٹیکس دیتے ہیں اب تو نسوار پر بھی ٹیکس لگ گیا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کون سی روزانہ ضرورت کی چیز ہوگی جس پر ٹیکس نہیں دیا جاتا مگر اب عام شہری دن میں گھریلو اور ذاتی ضروریات پر خرچ ہونے والے ہر100 روپے پر کم از کم 25 روپے مختلف ٹیکسوں کی مد میں ادا کرتا ہے مگر ہر حکومتی اہلکار اور عہدیدار صبح و شام یہ طعنہ دیتا ہے کہ کوئی ٹیکس نہیں دیتا حالانکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ صرف وہ لوگ ہی ٹیکس نہیں دیتے جو عوام سے اربوں کماتے ہیں اور عوام سے جمع ہونے والے ٹیکسوں پر موج میلہ کرتے ہیں ان سے کوئی ادارہ یا حکومت ٹیکس لے ہی نہیں سکتی اب ان دنوں سامنے آنےوالے اثاثوں اور جائیدادوں کی تفصیل دیکھیں جو ہمارے لیڈروں نے الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں جمع کروائی ہے تو کذب بیانی پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں وزیراعظم کا بنی گالہ فارم ہاﺅس گفٹ ہی مان لیتے ہیں مگر صرف لاہور کے زمان پارک والے گھرکی قیمت بھی50کروڑ سے کم نہیں‘ زرداری کا صرف لاہور والا بلاول ہاﺅس ہی6ارب روپے مالیت کا ہے اسی طرح دیگر کے بھی دیکھیں تو حیرانگی ہوتی ہے اگر ان کے ٹیکس گوشوارے دیکھیں تو شرمندگی کے پلندے ہیں اور ان کے سرکاری خرچ پر ہونے والے موج میلے دیکھیں تو بندہ پاگل ہو جائے مگر ٹیکس چور وہ عام شہری ہے جو دن میں دس بار ٹیکس دیتا ہے اور اس کے بدلے اسکو صحت کی سہولت میسر ہے نہ ہی تعلیم کی اور نہ ہی اسکی جان اور عزت کو تحفظ حاصل ہے۔

اب اسی کو ہی مزید نچوڑنے اور 5500 ارب روپے پورے کرنے کا منصوبہ ہے یہ کیسے ہوگا اس سے ہر شخص پریشان ہے جہاں تک ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کا تعلق ہے تو اس کا ایک معمولی اہلکار بھی سال میں خود کروڑوں کما لیتا ہے اور اس کے بدلے ملک کو اربوں کا نقصان پہنچا سکتا ہے‘عام دکانوں‘سٹورز اور ہوٹلز پر وصول کی جانےوالی جی ایس ٹی کا17 فیصد گاہک سے نقد وصول کرلیا جاتا ہے مگر ایکسائز کےلئے الگ کیش میمو بنائے ہوتے ہیں جن پر وصول شدہ ٹیکس کا20 فیصد بھی جمع نہیں کروایاجاتا‘جن کمپنیوں سے ایڈوانس ٹیکس وصول ہوتا ہے جیسے مشروبات‘ سگریٹ اور کاسمیٹکس وغیرہ ان کارخانوں پر روزانہ پیداوار چیک کرنے اور سرٹیفیکیٹ دے کر ٹیکس وصول کرنے کیلئے ایک انسپکٹر تعینات ہوتا ہے اس کو باقاعدہ منتھلی ملتی ہے اور وہ ایک لاکھ یونٹ کی تیاری کو زیادہ سے زیادہ 20ہزار ظاہر کرتا ہے ‘اس کا مطلب یہ ہے کہ عام شہری سے وصول ہونےوالے جی ایس ٹی کا بھی 70 فیصد صنعتکار اپنے منافع میں شامل کرلیتا ہے مگر ٹیکس چور اس شہری کو کہا جاتا ہے جو پہلے ٹیکس ادا کرکے چیز لیتا ہے اب اگر صرف ٹیکس کا نظام درست ہو جائے اور صرف وہ ٹیکس ہی پورا خزانے میں جمع ہو جائے جو عوام دے رہے ہیں تو حکومت کی توقعات سے بڑھ کر پیسے جمع ہو جائیں مگر یہ ہوگا نہیں‘ وزیراعظم اور ایف بی آر کی طرف سے دھمکی آمیز رویئے کی وجہ سے خوف کی جو فضا بنی ہوئی ہے اس سے ٹیکس کلکٹر فائدہ اٹھائیں گے اور عوام سے رشوت نچوڑ لیں گے مگر خزانے کوکوئی فائدہ نہیں ہوگا‘وزارت خزانہ اور ایف بی آر کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ جو بالواسطہ ٹیکس عوام سے اکٹھے ہوتے ہیں وہ پورے خزانے میں جمع ہو جائیں‘جعلی انوائس اور رسیدیں ختم کی جائیں اور اپنے عملے پر بھی نظر رکھی جائے ۔