136

ایک اور قرضہ 

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کےلئے 6ارب 20 کروڑ ڈالر کے بیل آﺅٹ پیکےج کی منظوری دے دی ہے‘رپورٹس کے مطابق دو ارب ڈالر اسی سال ملیں گے‘ باقی رقم پروگرام کے دوران مرحلہ وار ملے گی وزارت خزانہ اس انتظام کو کیپٹل مارکیٹ تک رسائی‘ کثیر الجہت اور دو طرفہ شراکت داروں کے ساتھ رعایتی فنڈنگ کی سہولت کا ذریعہ قرار دے رہی ہے وزارت خزانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی‘ خزانہ کے لئے وزیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ قرض سے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی تکمیل ممکن ہوگی اور یہ کہ پسماندہ طبقات کو فائدہ ہوگا‘ اس میںکوئی دوسری رائے نہیں کہ وطن عزیز کو اکانومی کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے‘ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکومت کے اقدامات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ مشکل وقت میں بعض فیصلے بھی مشکل ہوتے ہیں‘ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس سارے منظرنامے میں بعض کڑوے گھونٹ بھی ضرور ی ہوتے ہیں‘ اس صورتحال میں ایمنسٹی سکیم بھی دینا پڑی جس سے متعلق بتایا جارہاہے کہ 65ارب سے زائد کاٹیکس مل گیا ہے‘۔

 سکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 40ہزار سے زیادہ بتائی جارہی ہے‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان کی معیشت پر قرضوں کا بوجھ ایک طویل عرصے سے یکے بعد دیگرے برسراقتدار آنے والی حکومتوں میں بڑھتا ہی چلا آرہا ہے‘ نوبت ایک قرضے کو چکانے کے لئے دوسرا قرضہ لینے تک پہنچ چکی ہے‘ڈالر کی قدر میں اضافے نے بیرونی قرضوں کے حجم کو مزید بڑھادیا ہے‘ ایسے میں اصلاح احوال یقینا وقت لے گی تاہم اس سارے عمل میں ملک کا وہ غریب اور متوسط شہری بھی متاثر ہو رہا ہے کہ جو اس سب کا قطعاً ذمہ دار نہیں‘حکومت مشکلات سے نمٹنے کے لئے جو بھی فیصلے کرے اس میں ضرورت اس عام شہری کی مشکلات کا احساس کرنے کی ہے‘ اس شہری کی کمر روزانہ کے حساب سے بڑھنے والی گرانی نے توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ اسے بنیادی سہولیات بھی نہیں مل رہیں‘ اس شہری کو ریلیف دینے کے لئے اب ایک موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے‘ اس کے لئے صرف بیانات یا چند ہدایات جاری کر دینا کافی نہیں۔

بھارتی دہشت گردی

آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن پر دھماکے میں پاک فوج کے 5جوان شہید جبکہ ایک زخمی ہوا ہے‘ پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا منہ بولتا ثبوت ہے‘ وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے کی مذمت کی ہے‘ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے‘ بھارت کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو سرد خانے میں ڈالے ہوئے ہے‘ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں اور حق خود ارادیت مانگنے والے کشمےرےوں پرظلم وستم ریکارڈ کا حصہ ہے بھارتی رویہ اس بات کا متقاضی ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے اور بھارت کو ظلم و ستم سے روکا جائے ‘پڑوسی ملک سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو سرد خانے میں ڈالے جانے پر باز پرس بھی ضروری ہے تاکہ عالمی ادارے کی ساکھ پر لگا سوالیہ نشان ختم ہو سکے۔