83

شکوہ عبث ہے 

خود کو ناتواں سمجھنے والے ہمیشہ گلہ مند جبکہ مضبوط قوت ارادی کے مالک اپنی تقدیر خود لکھتے ہیں۔ اسی بات کی جانب شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”عبث ہے شکوہ¿ تقدیر یزداں .... تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے؟ پاکستان کرکٹ ٹیم کی جاری عالمی مقابلے میں کارکردگی شروع دن سے قابل ذکر نہ تھی‘ یہی وجہ ہے کہ ٹیم گرین کے شائقین غصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس سے زیادہ موزوں وقت کوئی دوسرا نہیں ہوگا جب موجودہ ٹیم کے بہت سے فربہ کھلاڑیوں کا بوجھ اتار دینا چاہئے پے در پے ناکامیوں کے بعد جب پاکستان ٹیم کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہوئی تو بہت دیر ہو چکی تھی اور سیمی فائنل مرحلے تک پہنچنے کےلئے بھارت کی برطانیہ کےخلاف کامیابی کی ضرورت پڑی تو تمام مقابلے جیتنے والے ناقابل شکست بھارت نے کھیل دکھانے کی بجائے دھوکا دیا‘کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پاکستان ٹیم اگر اگلے مرحلے میں کسی بھی صورت پہنچ گئی تو اسکی فتوحات کے سلسلے کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا۔ آج اگر پاکستان کےلئے ورلڈ کپ ختم ہو گیا ہے تو اس میں بھارت کا ہاتھ نہیں تو انگلی کا عمل دخل ضرور ہے! بھارت کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں‘ پاکستان بھی کسی مرحلے پر اسکا جواب دے ہی دےگا لیکن بھارت کے بعد ٹیم گرین کی امیدیں نیوزی لینڈ سے وابستہ ہوئیں جو اپنے ابتدائی چھ مقابلوں میں ناقابل شکست تھا لیکن یکایک کیویز کو پے در پے شکستیں ہونی لگیں اور یوں پاکستان ٹیم کے اگلے مرحلے میں جانے کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔

 اب لگتا یہی ہے کہ بھارت اور آسٹریلیا کے علاوہ برطانیہ اور نیوزی لینڈ ہی فائنل راو¿نڈ میں پہنچنے والی چار ٹیمیں ہیں اور پاکستان کا سفر ناممکنات میں سے ہے!میزبان برطانیہ کی قسمت کمال کی ہے۔ بھارت کے بعد یہاں نیوزی لینڈ کےخلاف میچ میں بھی ٹاس جیتا اور ان دونوں مقابلوں کی وکٹیں دیکھیں تو ٹاس جیتنا ہی آدھا میچ جیتنے کے مترادف تھا پھر جو بھارت کےساتھ ہوا‘ وہی بلکہ اس سے بھی بُرا نیوزی لینڈ کےساتھ ہوا۔ ٹیم گرین کے سیمی فائنل میں نہ پہنچنے کا دکھ صرف پاکستانیوں کو ہی نہیں‘ بین الاقوامی کرکٹ کے کرتا دھرتاو¿ں کو بھی ہے کیونکہ سیمی فائنل یا فائنل میں پاک بھارت ٹکراو¿ کا مطلب ہوتا ایک ایسا مقابلہ ہوتا جس سے پورے ٹورنامنٹ سے زیادہ کمائی ممکن تھی!سٹہ باز اور جوئے باز الگ سے صدمے کا شکار ہیں! سچی بات تو یہ ہے کہ ٹیم گرین سے اس قدر توقع بھی نہیں تھی! کرکٹ بھی عجیب کھیل ہے کہ وہ ٹیم کہ جس نے سری لنکا‘ بنگلہ دیش‘ افغانستان اور ویسٹ انڈیز جیسے کمزور حریفوں کے علاوہ برے حال سے دوچار جنوبی افریقہ کےخلاف کامیابیاں سمیٹیں اور تمام بڑی ٹیموں سے شکست کھائی‘ یہاں تک کہ پاکستان سے بھی ہاری لیکن پھر بھی فائنل چار تک پہنچ گئی جبکہ پاکستان برطانیہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کو ہرا کر بھی باہر ہوگیا۔

 شائقین کرکٹ کبھی نہیں بھول پائیں گے جب ویسٹ انڈیز کےخلاف پہلا مقابلہ کہ جس میں قومی کرکٹ ٹیم صرف ایک سو پانچ رنز پر ڈھیر ہوئی۔ ایک ایسی ٹیم کےخلاف جو پاکستان کے علاو¿ہ کسی کےخلاف اب تک کوئی میچ نہیں جیت پائی‘ اسکے ہاتھوں اتنی بدترین شکست کا نتیجہ پاکستان کے بدترین نیٹ رن ریٹ کی صورت میں نکلا۔ یاد رکھیں کہ اگر پاکستان بنگلہ دیش کےخلاف اپنا آخری میچ جیت جاتا ہے تو اسی نیٹ رن ریٹ کی وجہ سے وہ سیمی فائنل تک نہیں پہنچ پائے گا۔ کچھ قسمت بھی خراب تھی جیسا کہ سری لنکا کے خلاف مقابلے کا بارش کی نذر ہوجانا پاکستان کی بدقسمتی تھی گوکہ شائقین کرکٹ اسے 1992ءکی تاریخ دہرانے‘ کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دے رہے تھے لیکن سری لنکا کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے بات کریں تو پاکستان بارش کی وجہ سے ایک قیمتی پوائنٹ سے محروم ہوگیا اور یہی ایک پوائنٹ بعدازاں فیصلہ کن بھی ثابت ہوا اور پاکستان کے عالمی مقابلے سے باہر ہونے کی بنیادی وجہ بھی بنا ہے! یقینا وطن واپسی پر ٹیم گرین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گی کیونکہ اس کے بغیر قومی ٹیم کسی عالمی اعزاز تو کیا اپنے ماضی کا بھی دفاع نہیں کر پائے گی اور اس ناتوانی کا شکار ہے کہ اسے کھیل سے نہیں بلکہ سازش کے ذریعے شکار کر لیا گیا ہے۔