94

جرات عرض حال

پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد میںایک لاکھ کا اِضافہ کسی بھی طرح معمولی نہیں‘ ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والے 10 ہزار افراد نے بے نامی اثاثے ظاہر کئے ہیں‘ جن سے قومی خزانے کو بظاہر 55 ارب روپے کا فائدہ ہوا ہے لیکن یہ فائدہ اس نقصان کا عشر عشیر بھی نہیں جو سالہا سال پاکستان کو پہنچایا جاتا رہا کیونکہ ٹیکس چوری یا اثاثے پوشیدہ رکھنا رازداری سے نہیں ہوتا بلکہ اس میں متعلقہ حکومتی اہلکار بھی حکومتی فیصلہ ساز پچپن ارب روپے کو نہیں بلکہ ایک لاکھ سے زیادہ نئے ٹیکس دہندگان کا زیادہ تذکرہ اس وجہ سے بھی کرتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس ادائیگی پر خوف اور دہشت کا راج ہے اور اب بھی ٹیکس وصول کرنے والے ادارے ایف بی آر کی ساکھ ایسی ہے کہ چھوٹے بڑے کاروباری اداروں سے لیکر عام آدمی تک اس کے منہ نہیں لگنا چاہتا!تحریک انصاف حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں زیادہ تر نان فائلرز کی جانب سے دلچسپی دیکھی گئی جو ایک خوش آئند اور ماضی کے مقابلے مختلف ردعمل تھا تاہم اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کے تحت جمع ہونے والی آمدنی توقع سے کم رہی‘یہ بالکل اسی طرح کی ناکامی ہے جب حکومت کو معلوم ہوا کہ پہلے مالی سال میں ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکے ہیں! نواز لیگ حکومت کی اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت 83ہزار افراد نے فائدہ اٹھایا تھا۔ اثاثے ظاہر کرنے کی حالیہ سکیم چودہ مئی دوہزار انیس کو متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اختتام تیس جون کو ہونا تھا لیکن اس میں تین دن کی توسیع کی گئی جو بینک تعطیل اور سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی۔ مذکورہ سکیم کے تحت تین نمایاں فوائد حاصل ہوئے ہیں‘ جس میں سے ایک یہ کہ بڑی تعداد میں چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس سے فائدہ اٹھایا۔
 
گزشتہ دس دن کے دوران مجموعی تعداد میں تقریباً ایک لاکھ ٹیکس ریٹرنز کا اضافہ ہونے کے بعد پاکستان میں ٹیکس دہندگان کی تعداد ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے! گزشتہ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے والے ساٹھ فیصد افراد کا تعلق کراچی جبکہ تیس فیصد کا لاہور سے تھا جس کے بعد اسلام آباد تیسرے نمبر پر تھا جہاں کے شہریوں نے سکیم سے استفادہ کیا۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی سرمایہ داروں نے صرف 4 فیصد ٹیکس بصورت جرمانہ ادا کر کے بھاری اثاثوں کو سفید دھن بنایا۔ حالیہ سکیم کا تیسرا فائدہ اس بات کو قرار دیا جا سکتا ہے کہ مستفید ہونے والوں میں زیادہ تر افراد نے مقامی کرنسی بینکوں میں جمع کروائی‘ اس کےساتھ غیر ملکی کرنسی رکھنے والوں نے بھی اسے بینک میں جمع کروایا‘ جس سے پاکستان کے بینکنگ شعبے میں تیزی آئی ہے اور اس انحصار سے بینکاری کا شعبہ بھی آگے آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن سرمایہ داروں نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا ان سے حکومت کا سلوک کیا ہوگا؟فی الفور ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کے لئے حکومت نے بے نامی قانون کے 2017ءکے تحت نواز لیگ کے سینئر رہنماسینیٹر چوہدری تنویرکو چھ ہزار کنال بے نامی جائیدادوں کی ملکیت کے حوالے سے نوے روز میں وضاحت داخل کرنے کے لئے چھ احکامات جاری کئے ہیں اور اب اس معاملے پر ٹیکس قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

پاکستان میں ایسا کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ اراکین اسمبلی سے قوانین کے اطلاق کا آغاز کیا گیا ہو اور امید ہے کہ اس سلسلے میں صرف نواز لیگ اور پیپلزپارٹی یا حزب اختلاف ہی نہیں بلکہ حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں سے بھی یکساں سلوک کیا جائے گا‘ پاکستان میں اگر ٹیکس حسب آمدنی و حسب اثاثہ جات ادا نہیں کیا گیا تو یہ جرم کسی ایک جماعت کے حصے میں نہیں آنا چاہئے اور نہ ہی ٹیکس نادہندگان کی سیاسی وابستگی کو اچھال کر کسی جماعت کو بدنام کرنا چاہئے کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور میں یہ بات تحریر نہیں کہ اِس کے اراکین واجب الاداءقومی مالیاتی ذمہ داریاں ادا نہیں کریں گے یا انہیں استثنیٰ حاصل رہے گا۔ وفاقی کابینہ جہاں پروڈکشن آرڈرز سے متعلق قومی اسمبلی کے قواعد و اختیارات پر نظرثانی کر رہی ہے اور جلد فیصلہ متوقع ہے توساتھ ہی ساتھ لگے ہاتھوں اراکین اسمبلیوں کے لئے وہ سبھی استثنیٰ بھی ختم کر دینے چاہئےں‘ جن کی بنیاد پر وہ دندناتے پھرتے ہیں لیکن قانون سمیت ریاستی اداروں کی ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ وقت ہے کہ جمہوریت کے نام پر شخصیات کو نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔ وقت ہے کہ اس ضرورت کا احساس کیا جائے کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے نہیں بلکہ پاکستان میں ٹیکس ادا کرنے والے رعایت کے مستحق ہیں!’جرا¿ت عرض حال کیا ہوتی....نظر لطف اس نے کی ہی نہیں (اکبر الہ آبادی)۔“