86

گرفتاری کی ڈیڈ لائن

اے این پی نے صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے سٹی ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر سرتاج خان کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے صوبائی حکومت کو دس روز کی ڈیڈلائن دی ہے ‘اے این پی کے عہدیداروں پرہونےوالے قاتلانہ حملوں میں اب تک صرف پشاور میں بشیراحمد بلور سمیت 6 رہنما جاں بحق ہو چکے ہیں ‘ اے این پی کے رہنماﺅں پر حملوں کی ابتداءیکم جنوری2009کو رکن صوبائی اسمبلی عالم زیب خان سے ہوئی تھی جنہیں پشاور میں دلہ زاک روڈ پر گھر کے باہر گلی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں قتل کیا گیا تھا پشاور میں اے این پی پر دوسرا بڑا حملہ پارٹی کے سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور پر 22 دسمبر 2014کو مغرب کے وقت کیاگیا تھا جس میں بشیر احمد بلور کے علاوہ انکے سیکرٹری نور محمد جاں بحق ہوگئے تھے۔اے این پی پشاور کی لیڈر شپ پرقاتلانہ حملے کا تیسرانشانہ ڈسٹرکٹ پشاور کے صدر میاں مشتاق بنے تھے جنہیں دودیگر ساتھیوںسمیت بڈھ بیر کے نواح میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ہلاک کیا گیا تھا ‘اے این پی پشاور کو چوتھا بڑا صدمہ گزشتہ برس جولائی میں اسوقت برداشت کرنا پڑا تھاجب بشیر بلورکے بڑے صاحبزادے اور پی کے78پشاور سے اے این پی کے امیدوار ہارون بلور کوایک خودکش حملے میں نشانہ بناےاگیاتھا‘4ستمبر 2018 کو اے این پی کے پی کے74سے امیدوار ابرار خلیل کونامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے بھانجے سمیت قتل کر دیا تھا جبکہ اے این پی پشاور کے عہدیداروں کیساتھ نیا واقعہ گزشتہ ہفتہ کے روز گلبہار میں پیش آیا جس میں پشاور سٹی ڈسٹرکٹ کے صدر اور ضلعی اسمبلی کے رکن سرتاج خان کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر قتل کر دیا۔

اسی طرح پشاور کے علاوہ بونیر‘ سوات‘ باجوڑ‘ چارسدہ اور صوابی میں بھی اے این پی کے مقامی قائدین کو نشانہ بنایا جاتارہاہے ‘اے این پی کے رہنماﺅں پر تازہ حملوں میں ایک واقعہ گزشتہ دنوں باجوڑمیں پیش آ چکاہے جس میں پارٹی کے مقامی رہنما مولانا گل داد خان بم حملہ میں اپنے قریبی ساتھی ملک قیوم سمیت شدیدزخمی ہوگئے ہیں اطلاعات کے مطابق مولانا گل داد خان پر 2008ءسے اب تک ایک درجن سے زائد حملے ہوچکے ہیں‘ اے این پی کے رہنماﺅں پر جاری تازہ حملوں کا ایک اور نشانہ سوات میں پارٹی رہنما عبد اللہ یوسفزئی کے برخوردارازمرک یوسفزئی‘ انکے بھائی ثناءاللہ اور انکے ایک دوست ریاض بنے ہیں جنہیں سیدوشریف سوات گل کدہ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا ہے جس میں یہ تینوں شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ اے این پی کے رہنماﺅں پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کے متعلق اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کاکہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک ان کے سات سو سے زا ئد کارکن اور رہنما نشانہ بن چکے ہیں جبکہ بونیر میں ان پر بھی فائرنگ ہوئی جس میں وہ بچ گئے تھے۔

 انہوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے ابھی تک کسی بڑے ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے جس پر اے این پی کے کارکن خود کو نہ صرف غیر محفوظ تصور کررہے ہیں بلکہ ان میں شدید اشتعال اور غم وغصہ بھی پایا جاتا ہے‘اے این پی کے رہنماﺅں پر جاری قاتلانہ حملوں اور اب تک کے مختلف واقعات میں اس کے رہنماﺅں اور کارکنان کی شہادتوں کے واقعات کے تناظر میں اے این پی کے قائدین کے اس موقف میں کافی وزن نظر آتا ہے کہ 2013 اور2018کے عام انتخابات کی طرح جب اب ایک بار پھر قبائلی اضلاع کی سولہ جنرل نشستوں پر انتخابات کا ڈول ڈالا جا رہا ہے تو ان کے امےدواروں کونشانہ بنا کر نہ صرف ڈرایا دھمکایا جارہا ہے بلکہ انہیں انتخابی عمل سے دورر رکھنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں‘شاید یہی وجہ ہے کہ اے این پی گزشتہ چار سال سے یہ مطالبہ دہراتی آئی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کیلئے 20نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے ‘امید ہے کہ اے این پی کی قیادت اور کارکن بھی اپنے اکابرین کی عدم تشدد کی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے ان نامساعد حالات کا مقابلہ صبر واستقامت اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔