114

سیاسی مقدمات کی روایت

سیاستدان کی سب سے بڑی قابلیت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر معاملے میں عوام کو بے وقوف بناکر اپنی حمایت لے لیتا ہے کسی کو بھی دیکھ لیں وہ یونین کونسل کی سطح کا الیکشن لڑ رہا ہو یا اسمبلی کا‘ اس کا ذریعہ معاش نامعلوم اور حلقے کے عوام کی نظر میں مشکوک ہونے کے باوجود صرف اس وجہ سے عوامی نمائندگی کاامیدوار بننا چاہتا ہے کہ اس کے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ‘آپ صرف گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے امیدواروں پر ایک نظر ڈالیں اندازہ ہو جائے گا کہ لاکھوں بلکہ کروڑوں خرچ کرنے والے امیدواروںکا اخلاقی کردار کیاہے مگر سیاسی پارٹیوں نے بھی انہی کو ٹکٹ جاری کئے جو اپنا اور پارٹی کا خرچہ چلا سکیں اور موقع ملے تو یہ اخراجات بمعہ سودوصول بھی کرلیں‘ اگر عوام سے پوچھیں تو وہ بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ ہمیں ایسا نمائندہ ہی چاہئے جو مشکل میں کام آسکے صرف نیک اور پاک باز کو ہم نے کیا کرنا ہے‘ ایسی اجتماعی سوچ کے ہوتے ہوئے اگر قومی سطح کے لیڈروں پر کرپشن کے الزامات اور لوٹ مار پر مقدمات چلنے لگیں تو بہت سے لوگوں نے اپنے من میں ان کی شخصیت کا جو بت تراشا ہوتاہے اور جس کی یہ پوجا کرتے رہتے ہیں اس کا گہرا تاثر زائل ہونے میں وقت لگتا ہے سیاسی عقیدہ بعض اوقات ایمان سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے اور لوگ اپنی پارٹی یا رہنما کا ہر صورت میں ساتھ دینے اور حمایت کرنے کو نظریئے کی مضبوطی سمجھتے ہیں‘ان کے جرائم آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود دفاع کرتے ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر خوش ہو جاتے ہیں اس وقت سابقہ حکمران خاندان اپنے دور کی بے اعتدالیوں اور بنائے ہوئے اثاثوں کے احتساب سے گزر رہے ہیں ‘انکی جائیدادیں ‘جعلی اکاﺅنٹس‘ منی لانڈرنگ اور سرکاری وسائل کے استعمال کے درجنوں کیس اور ثبوت سامنے ہیں مگر ان کے پرستار اپنے دل میں ان کے کردار کے عالی شان بت کی اب بھی پوجا کر رہے ہیں‘ جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتاتھا کہ وہ وزیراعظم ہاﺅس کا خرچہ بھی خود چلاتے تھے ۔

وزارت عظمیٰ سے الگ ہونے کے دو سال بعد ان کے قبضے سے سرکاری گاڑی واگزار کرائی جاتی ہے مگر حامی اس کو بھی ظلم ہی کہتے ہیں‘ایک سابق صدر نے تحفے میں ملنے والی مہنگی گاڑیاں توشہ خانے سے چراکر اپنے نام کروالیں مگر وہ بھی بے قصور ہیں‘ ایک سابق وزیراعظم نے ترکی کے صدر کی اہلیہ کی طرف سے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے عطیہ دیا ہوا قیمتی ہار خود رکھ لیا تھا جو متعلقہ ملک کی طرف سے درخواست پر برآمد کیاگیا مگر ان کی ایمانداری اب بھی مسلمہ ہے اور یہ بات تو طے شدہ ہے کہ جب کسی کے پاس اپنے جرائم کے دفاع میں کوئی ثبوت نہ ہو تو وہ سیاسی حربے ہی استعمال کرتا ہے‘ ہر سیاستدان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ اسکے خلاف مقدمات سیاسی ہیں لیکن اپنے اربوں کے اثاثوں کو نہ تو چھپا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے ذرائع بتا سکتے ہیں اسکا ایک ہی حل ہوتا ہے کہ اپنے جن بچوں یا اہل خانہ کے نام پر یہ اثاثے ہوتے ہیں ان کو بیرون ملک فرار کرکے عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے سامنے ان سے قطع تعلق کرلیتے ہیں پہلے نوازشریف نے یہی کیا تھا اورکہا تھا کہ لندن جائیداد کا میرے بیٹوں سے پوچھو میں انکا ذمہ دار نہیں‘ اب شہبازشریف نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے‘1993 میں بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اپنے خلاف کرپشن مقدمات کی سماعت کرنے و الے جج جسٹس عبدالقیوم ملک کی شہباز شریف کے ساتھ گفتگو کی ٹیپ چلا دی تھی جس میں شہبازشریف مقدمہ کے فیصلوں سے متعلق ہدایات دے رہے ہیں اب شہبازشریف نے ایک ٹیپ چلائی ہے کہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے والے جج ایک مسلم لیگی کو بتا رہے ہیں کہ نوازشریف بے گناہ ہیں‘پرانی ٹیپ میں تو شہبازشریف خود ہدایت دے رہے ہیں مگر تازہ ٹیپ میں یہ نہیں پتہ چلتا کہ جج پر کون دباﺅ ڈال رہا ہے بہرحال اس نئی پیش رفت سے یہ تو پتہ چل رہا ہے کہ ملزمان کے پاس اپنی صفائی میں کچھ نہیں اور گزشتہ روز ہی شہبازشریف کہہ رہے تھے کہ مجھے گرفتارکرلیا جائے گا۔

 اب ان کی گرفتاریوں کو کسی دباﺅ کانتیجہ یا انتقامی کاروائی ثابت کرنے اور اپنے پرستاروں کا ایمان مضبوط رکھنے کیلئے یہ حربے استعمال ہو رہے ہیں‘ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے تحفظ کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہے اور اپنے خلاف مقدمات کو جمہوریت دشمنی کہا جارہا ہے جبکہ شریف برادران نے شرافت کو پکڑ رکھا ہے وہ ہر سوال کے جواب میں موٹروے اور میٹرو کااحسان جتاتے ہیں مگر ان مقدمات نے شریف خاندان کا یہ تاثر بھی ختم کردیا ہے کہ وہ بزرگوں کا احترام کرتے ہیں‘ نوازشریف اور شہبازشریف کے بیٹے بھی ان کے حق میں بیان دینے کے لئے اور قید سے نجات دلانے کیلئے واپس نہیںآ تے اور مریم نواز نے اپنے چچا کو سیاسی طورپر کھڈے لائن لگارکھا ہے‘ ہم نے کئی بار لکھاہے کہ حساب کتاب اور احتساب کا یہ عمل شروع ہوا ہے تو اس میں موجودہ حکمران بھی ضرور آئیں گے کل ان کو بھی اسی طرح مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا‘ اپوزیشن نیب کو مضبوط کرے تاکہ ان کے بعد دوسروں کی بھی باری آئے مگر وہ اس ادارے کو مشکوک بناکر کل اپوزیشن کیلئے آسانی پیدا کر رہی ہے۔