110

قبائلی ملازمین کے مسائل

محکمہ انتظامیہ خیبر پختونخوا کے ریگولیشن ونگ کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیہ کے مطابق صوبائی حکومت نے سابقہ فاٹا سیکرٹریٹ کو ختم کرنے کے بعد گریڈ5سے لیکر گریڈ18تک کے 145افسران اور اہلکاروں کو سرپلس قرار دیکر انہیں اسٹیبلشمنٹ وایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں قائم سرپلس پول بھیج دیا ہے ان میں سابق فاٹا ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے45افسران اور اہلکار بھی شامل ہیں‘ سرپلس پول بھیجے جانے والوں میں گریڈ18کے چار‘ گریڈ17کا ایک اور گریڈ16کے 24افسران و اہلکار شامل ہیں‘ اسی طرح درجنوں سینئر اور جونیئر کلرک‘ سٹینو گرافرز اور دیگر اہلکاروں کو بھی سرپلس پول بھیج دیا گیا ہے ان میں سابق فاٹا ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کے افسران اور اہلکاروں کی ایڈجسٹمنٹ ہوم ڈیپارٹمنٹ جبکہ باقی اہلکاروں کی ایڈجسٹمنٹ اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کرےگا۔یادرہے کہ قبائلی اضلاع کے آل پا کستان کلرکس ایسو سی ایشن کے ملا زمین سابقہ فاٹا سیکرٹریٹ کے ملازمین کو سرپلس پول میں رکھنے کے فیصلے کوپہلے ہی مسترد کرکے انہیں اورقبائلی اضلاع کے دیگر ملازمین کو خیبرپختونخوا کے سرکاری ملازمین کے برابرحق دینے کا مطالبہ کرچکے ہےں‘ اس سلسلے میں فاٹا سیکرٹریٹ کے ملازمین کا کہنا ہے کہ 25ویں آ ئینی تر میم کے بعد سابقہ فاٹا سیکرٹریٹ سمیت تمام سابقہ قبائلی محکمے چونکہ خیبر پختونخوا میں ضم ہوچکے ہےں اور انضمام کے فیصلے کے تحت سا بقہ فاٹا کے تما م ڈا ئر یکٹریٹس اور ڈیپا رٹمنٹس کو خیبر پختونخوا کے متعلقہ ڈا ئر یکٹر یٹس اور ڈیپارٹمنٹس میں ضم کر دیاگیاہے اورسابقہ فاٹا کے تما م اثاثہ جات جس میں فاٹا ہا ﺅ س اسلا م آباد‘ فاٹا سیکرٹریٹ ‘ فاٹا کا لو نی‘حیات آ باد کے 17 بنگلے‘ گاڑیاں‘ 57ارب رو پے کا بجٹ بشمو ل لیو یز‘ خاصہ داروں کی تنخوا ہیں‘ ۔

56ہزار 963منظور شدہ پو سٹیں اور اے ڈی پی کی سکیمیں‘ ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اثاثہ جا ت کو صو با ئی حکومت اپنی تحویل میں لے چکی ہے‘ اس لئے ایک اصولی فیصلے کے تحت فاٹا سیکرٹریٹ کے ملازمین کو بھی خیبر پختونخوا سیکرٹریٹ سمیت تمام متعلقہ محکموں میں ضم کیاجانا چاہئے لیکن انہیں نظر انداز کر کے انکے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے‘فاٹا سیکرٹریٹ کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ چودہ سال سے فاٹا سیکرٹریٹ میں بطور ریگولر ملازم فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ انکے علاوہ بھی کئی ایسے ملازمین ہیں جوایک طویل عرصے سے یہاں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اب جب فاٹا سیکرٹریٹ کی الگ حیثیت ختم کرکے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کردیا گیا ہے تو اصولاً یہاں کے ملازمین کوبھی خیبرپختونخوا کے متعلقہ شعبوں اور محکموں میں کھپانا چاہئے تھا کیونکہ یہ ملازمین فاٹا کے مختلف محکموں میں وہی فرائض انجام دے رہے تھے جو خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین اپنے اپنے محکموں میں انجام دے رہے ہیں۔اس ضمن میں فاٹا کے ملحقہ یعنی اٹیچڈ محکموں مثلاً تعلیم ‘صحت‘ زراعت ‘معدنیات اور جنگلات وغیرہ کے ملازمین کوتو خیبرپختونخوا کے متعلقہ محکموں میں ضم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں جن کی ایک نمایاں مثال خاصہ دار فورس کا خیبرپختونخوا پولیس میں ضم کیاجانا ہے ۔

لیکن فاٹا سیکرٹریٹ جس کاقیام ‘رول اور کارکردگی شروع سے ایک بڑا سوالیہ نشان تھا کے ملازمین کا مستقبل انضمام کے عمل کے بعد اب یقینااس سے بھی بڑا سوال ہے یہاں ہمیں اس تکنیکی نکتے کوبھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ خیبرپختونخوا سیکرٹریٹ میں بھرتیوں اور ترقی کا ایک واضح اور معلوم میکنزم ہے جس میں ہزاروں ملازمین فرائض انجام دے رہے ہیں لہٰذا اب ایسے میں اگر بیک جنبش قلم فاٹا سیکرٹریٹ کے ایسے ملازمین جو پبلک سروس کمیشن کے امتحانات اور بھرتی کے طریقہ ہائے کار سے ہٹ کر براہ راست محکمانہ طور پر بھرتی ہوئے ہیں کواگر خیبر پختونخوا سیکرٹریٹ میں ضم کردیاجاتا ہے چاہے اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی ہی کرنا پڑے تو تب بھی اس پر خیبرپختونخوا کے سیکرٹریٹ ملازمین کو یقینا نہ صرف تشویش ہوگی بلکہ انہیں اس پر اعتراض بھی ہوگا اور عین ممکن ہے کہ وہ اس فیصلے کےخلاف احتجاج اور عدالتی چارہ جوئی کا راستہ بھی اپنائیں گے تو ایسے میں کوئی درمیان کا راستہ ہی اپنایا جاسکتا ہے کہ جس سے دونوں سیکرٹریٹ کے ملازمین مطمئن ہوسکیں‘فاٹا ملازمین کےلئے ان کی رضامندی سے ایک قابل عمل تجویز ان کی مرضی اور مشاورت سے مناسب شرائط پر گولڈن ہینڈ شیک دینے کی بھی ہوسکتی ہے جس سے حکومت اور ملازمین دونوں کو فائدہ ہوگا۔