88

چترال:قدرتی آفت

مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے سے قبل موسمیاتی تبدیلیاں اپنا رنگ دکھا رہی ہےں‘ خیبر پختونخوا کے بالائی ضلع چترال میں برفانی تودے سے اچانک بڑی مقدار میں پانی اور برف کے بہاو¿ سے پیدا ہونےوالی قدرتی آفت حکومتی اداروں کے لئے زیادہ بڑا چیلنج ہونا چاہئے لیکن تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے‘جنت نظیر وادیوں میں اس قسم کی آفات کے سبب غربت مستقل ڈیرے ڈالے رہتی ہے جہاں اگر موسمیاتی علوم کی بنیاد پر تحقیق کا سہارا لیا جائے تو ایسے نقصانات کو بڑی حد تک کم کرنا ممکن ہے‘یو این ڈی پی کی سروے رپورٹ کے مطابق ہندوکش‘ ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں 3ہزار سے زائد ایسی گلیشےئل جھیلیں ہیں‘ جن میں سے 33کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے! اِس صورتحال سے گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخوا میں بسنے والے 70لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ثابت کر رہے ہیں کہ ہمارے گلیشئرز موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہوکر گلیشئیل جھیلوں کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ حالیہ واقعہ سے قبل 2015ءمیں چترال اور ہنزہ میں گلیشئیل جھیلوں کے پھٹنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔رواں ہفتے خیبر پختونخوا کے بالائی سیاحتی مقام چترال میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے درجنوں مقامی اور غیرمقامی افراد پھنس کر رہ گئے ہیں۔ یہ ریلے بالائی چترال میں شاہیدس نامی برساتی نالے میں طغیانی اور زےریں چترال میں گلیشیئل لیک آو¿ٹ برسٹ کی وجہ سے آئے ہیں۔ جن کی وجہ سے زمینی راستہ منقطع ہے اور امدادی ٹیمیں دیگر راستوں سے متاثرہ علاقوں اور لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 جو ایک وقت طلب اور محنت والا کام ہے۔ قابل ذکر ہے کہ شاہیدس نالے میں طغیانی کے باعث شندور کے مقام پر جاری سالانہ میلے میں شرکت کےلئے جانے والے سیاح بھی پھنسے ہوئے ہیں‘ جن کے پاس یخ بستہ موسم میں اپنی گاڑیوں میں راتیں بسر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘ جلد ہی ان افراد کے پاس ایندھن اور خوراک ختم ہو جائے گا جبکہ امدادی کاروائیاں خراب موسم اور راستوں کی بندش کی وجہ سے ممکن نہیں ہو پا رہیں حکومت کی جانب سے جب سیاحوں کو کسی علاقے کی سیر کےلئے مدعو کیا جاتا ہے اور اس کی خوبصورتی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تو سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو امداد اور ان کی جان و مال کی حفاظت بھی حکومت ہی کی ذمہ داری بنتی ہے۔ یوں سیاحوں کو موسمی حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنے سے خیبر پختونخوا میں سیاحتی ترقی کی کوششیں متاثر ہوں گی اور آئندہ برس شندور میلے سمیت ضلع چترال و ملحقہ اضلاع کی جانب ملکی و غیرملکی سیاح رخ نہیں کریں کیونکہ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور چترال سے آنےوالی ہر خبر اور تصویر آن کی آن پوری دنیا کے ہر کونے میں پھیلنے کے علاوہ ہمیشہ کےلئے محفوظ بھی ہو رہی ہے۔ مذکورہ نالے میں گزشتہ 3برس سے طغیانی نہیں آئی مگر رواں برس سردیوں میں اوسط سے زائد برف باری اور حالیہ دنوں میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے گلیشئرز سے برف تیزی سے پگھلی ہے‘ جس وجہ سے اس نالے میں سیلابی ریلا آیا‘ جسکا سالانہ شندور میلے میں شرکت کرنے والوں سمیت انتظامیہ کو بھی اندازہ نہیں تھا سیاحتی ترقی کا خواب آنکھوں میں بسائے ہمارے فیصلہ ساز نہ تو محکمہ موسمیات کو خاطرخواہ اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی خلائی سیارے اور فضائی نگرانی کے وسائل سے بالائی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھتے ہیں۔

 آج تک نہیں سنا کہ حکومت نے کسی نجی یا سرکاری یونیورسٹی کو ایسی ریسرچ کےلئے چند کروڑ یا چند لاکھ یا چند ہزار روپے دیئے ہوں کہ وہ پاکستان پر موسمیاتی اثرات اور ان اثرات کو کم کرنے یا زرعی معیشت و معاشرت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کا سائنسی بنیادوں پر مطالعہ اور اندازہ قائم کر سکیں تاکہ بروقت حکمت عملی وضع کی جا سکی‘ رواں برس شندور میلے سے قبل مقامی افراد نے احتجاج بھی کئے اور کہا کہ ان کی شاہراہیں مرمت اور وسیع نہ کی گئیں تو وہ آمدورفت نہیں ہونے دیں گے لیکن ضلعی انتظامیہ نے احتجاج کی روح اور ضرورت کو سمجھنے کی بجائے طاقت اور دیگر حربوں کے ذریعے معاملہ رفع دفع کر دیا‘اسی طرح گولین میں سیلابی صورتحال کا سامنا کرنےوالی مقامی آبادی کی مشکلات پر قومی ذرائع ابلاغ خاموش ہیں کیونکہ یہ کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کا مسئلہ نہیں‘ یہ دارالحکومت اسلام آباد میں بیٹھے فیصلہ سازوں کا بھی مسئلہ نہیں اور اس سے پشاور میں بیٹھے صوبائی حکمرانوں کا بھی لینا دینا نہیں۔