99

 افغانستان میں امن کیلئے لائحہ عمل پر اتفاق 

دوحہ۔قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری دو روزہ انٹرا افغان مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن صرف تمام شراکت داروں کے درمیان مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان ایک متحد اسلامی ملک ہے جس میں کئی قومیتیں بستی ہیں، تمام افغان اسلام کی بالا دستی، سماجی و سیاسی انصاف، قومی اتحاد اور علاقائی خود مختاری پر متفق ہیں مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغان قوم نے تاریخ بالخصوص گزشتہ 40 برس میں اپنے مذہب، ملک اور کلچر کا بھرپور دفاع کیا.اعلامیے میں فریقین نے بین الاقوامی برادری اور علاقائی و داخلی عناصر پر افغان اقدار کے احترام پر زور دیا ہیاعلامیے میں فریقین پر دھمکیوں، بدلوں اور متنازع الفاظ سے اجتناب کرنے جبکہ نرم الفاظ اور اصطلاحات کے استعمال پر بھی زور دیا گیا ہے۔

 اعلامیے میں شرکانے دوحہ میں ہونے والے حالیہ امن مذاکرات کی حمایت کرنے، ملک کو جنگ سے بچانے کے لیے اقدامات پر زور، بوڑھے، بیمار اور معذور قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا اعادہ کیا ہے.فریقین نے سرکاری اداروں، اسکولوں، مدارس، ہسپتالوں، بازاروں، ڈیموں، کام کی دیگر جگہوں کا تحفظ یقینی بنانے نیز سکول، کالج، یونیورسٹیز اور دیگر تعلیمی اداروں اور رہائشی علاقوں کے احترام کا اعادہ کیا ہے.۔

مشترکہ اعلامیے میں فریقین نے عوام کی جان اور مال کا احترام کرنے اور شہری ہلاکتوں کو صفر تک لانے کا اعادہ بھی کیا ہے اعلامیے میں اسلامی اقدار کے مطابق خواتین کو سیاسی، سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی حقوق دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے.دوحہ میں قطری حکومت اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں مسئلہ افغانستان کے حل کے لیے مذاکرات ہوئے جن میں طالبان اور افغان وفود نے شرکت کی۔

بات چیت میں افغان حکومت نے شرکت نہیں کی تاہم اس کے تین نمائندے انفرادی حیثیت میں شریک ہوئے، مذاکرات کے دوران افغانستان میں امن کیلئے لائحہ عمل پر اتفاق ہوگیا جسے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے.امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان جاری علیحدہ مذاکرات میں 4 میں سے تین نکات پر اتفاق ہوگیا، جن میں جنگ بندی، بین الافغان مذاکرات، افغانستان سے امریکی اتحادی افواج کا انخلا اور افغان سرزمین کی امریکا اور اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی شامل ہیں۔

 زلمے نے حساس موضوع قرار دے کر چوتھے نکات کی تفصیلات بتانے سے انکار کردیا، جس پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ امریکا یکم ستمبر سے پہلے پہلے تمام مسائل پر اتفاق کرنا چاہتا ہے