108

وفاقی دارلحکومت اورصحت کی سہولیات

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں وزیر مملکت علی محمد نے دکھی دل کے ساتھ انکشاف کیا کہ اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں علاج کیلئے عام شہری گھر اور زیور بیچ رہے ہیں‘ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ ہر نجی ہسپتال کا لوٹ مار کا الگ طریقہ ہے‘وزارت قومی صحت کے حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی اور بتایا کہ مریض کے لواحقین سے 25,20 لاکھ روپیہ بٹور کر اس کو ونٹی لیٹر پر منتقل کرکے کسی سرکاری ہسپتال میں بھیج دیتے ہیں‘ یہ حقیقت ہے کہ علاج کے نام پر جو ظلم اسلام آباد میں ہو رہا ہے‘ یہ کسی دوسرے شہر میں نہیں، ڈاکٹروں کی فیس اور میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی فیسیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان مراحل میں ہی مریض کنگال ہو جاتا ہے اور علاج کیلئے ادویات خریدنا بھی مسئلہ بن جاتا ہے، اس کے باوجود ہر روز کسی نہ کسی ہسپتال میں غلط علاج یا ڈاکٹروں کی غلطی سے لوگوں کی موت ہو رہی ہیں‘ کئی جگہ اس ظلم اور غیر انسانی سلوک کے خلاف لواحقین ہنگامہ آرائی یا مقدمہ بازی بھی کرتے ہیں‘ ایسے ہی ایک احتجاج کی وجہ سے گزشتہ روز لاہور کے نجی ہسپتال میں صادق آباد کا بھاری بھر کم نور الحسن بھی جان کی بازی ہار گیا‘جس کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے وزن کم کرنے کیلئے لاہور لایاگیا تھا‘ چنانچہ آئی سی یو ایک خاتون جاں بحق ہوگئی، لواحقین نے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں کی غلطی ہے۔

 اس ہنگامہ آرائی میں ڈاکٹر بھاگ گئے اور فوری توجہ نہ ملنے پر نور الحسن جان سے گیا، نور الحسن کے لواحقین نے چونکہ پیسے نہیں دئیے تھے، اس لئے خاموشی کے ساتھ میت لے کر چلے گئے لیکن جن سے جان بچانے کے نام پر لاکھوں روپے لئے گئے ہوتے ہیں، وہ احتجاج کرتے ہیں، اس وقت ملک میں شاید ہی کوئی فیملی ایسی ہو جس کا نجی ہسپتال میں تلخ تجربہ نہ ہو مگر اس سے زیادہ افسوس کی بات ہے کہ یہ ظلم اور لوٹ مار کی داستانیں حکومتی وزراءاور وزارت صحت کے حکام سنا رہے ہیں جن کے فرائض میں ہے کہ وہ عوام کو صحت کی سہولیات دیں ‘جہاں تک اسلام آباد کا تعلق ہے تو 1960ءمیں شہر کی ابتدا ہوئی اور ابتدائی عمارتوں میں پولی کلینک بھی تعمیر ہوا، یہ یہاں کے شہریوں، اس وقت زیادہ آبادی سرکاری ملازمین کی ہی تھی، کیلئے یہ کافی تھا، پھر شہر آباد ہونے لگا‘ آبادی بڑھنے لگی‘ 1987ءمیں دوسرا بڑا ہسپتال (اسلام آباد ہسپتال کمپلیکس) کے نام سے تعمیر ہوا جس کا اب نام پمز (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) ہے‘ یہ ہالینڈ اور جاپان کے تعاون سے تعمیرہونےوالا خوبصورت ہسپتال تھا مگرہم اس کو بھی سنبھال نہیں سکے‘ اسی دوران ایک اورچھوٹا ہسپتال، سی ڈی اے ہسپتال بھی بن گیا تھا جو دارالحکومت کی ترقیاتی ادارے کے ملازمین کیلئے تھا،1987ءمیں شہر کی آبادی تقریباً4 لاکھ اور ایک ہی انتخابی حلقہ تھا، آج آبادی 23 لاکھ سے متجاوز ہے۔

 انتخابی حلقے 3ہوگئے مگر 1987ءکے بعد سرکاری سطح پر کوئی ہسپتال تعمیر نہیں ہوا جبکہ اس حکومتی عدم توجہی سے فائدہ اٹھانے کیلئے نجی شعبے میں درجنوں ہسپتال قائم ہوگئے، جن کی لوٹ مار کی داستانیں سنا کر حکومتی حکام داد لے رہے ہیں، یہاں المیہ یہ ہے کہ2005 کے تباہ کن زلزلے کے وقت ہسپتالوں کی کمی کو شدت سے محسوس کیاگیا‘ اس وقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تقریباً4,4 ارب روپے کے مساوی گرانٹ دی جس سے نئے ہسپتال بنائے جانے تھے، پہلے فیصلہ ہوا کہ پولی کلینک سے متصل پارک میں ملٹی سٹوری ہسپتال بنایا جائے گا مگر آج پندرہ سال گزرنے پر بھی یہ فیصلہ نہیں ہوسکا‘ اسلام آباد واحد کیپٹل ڈسٹرکٹ ہے جہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بھی نہیں، 2013 میں ترلائی کے مقام پر ڈی ایچ کیو ہسپتال بنانے کیلئے 2 ارب روپے رکھے گئے مگر استعمال سے پہلے ہی یہ رقم راولپنڈی اسلام آباد میٹرو کو منتقل کردئیے گئے اور ہسپتال کا خواب، خواب ہی رہا، پھر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں5 بڑے ہسپتال بنائے جائیں گے‘۔

 مگر یہ بھی صرف اعلان ہی رہا‘ البتہ نجی شعبے میں میڈیکل کالجز اور ہسپتالوں کی تعداد بڑھتی رہی‘ اس وقت اسلام آباد میں دس نجی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز قائم ہیں جبکہ سرکاری ایک ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل کالج صرف فائلوں تک محدود ہے، اب شہری نجی شعبے کا آسان ہدف نہ بنیں تو کیا کریں، موجودہ حکومت کو 70 سال کی چشم پوشی اور مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار تو نہیں ٹھہریا جاسکتا مگر ابھی تک انہوں نے بھی مجوزہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے لئے بھی فنڈز نہیں رکھے‘ پولی کلینک کی توسیع کیلئے سعودی عرب کی گرانٹ پڑی ہے، اس کا فیصلہ بھی نہیں ہوپایا مگر وفاقی صحت کے عہدیدار پارلیمانی کمیٹی میں نجی شعبے کی لوٹ مار سنا رہے ہیں، یہ نہیں بتاتے کہ اس کا تدارک کس نے کرنا ہے لگتا تو ایسے ہے کہ موجودہ حکومت صرف ماضی کی داستانیں سنانے کیلئے آئی ہے، اب کم از کم صحت کی جانب تو توجہ دی جائے، ویسے تو اس سے زیادہ خراب صورتحال تعلیم کے شعبے کی ہے مگر اس کا ذکر پھر کبھی۔