55

یہ دنیا ہے

کہتے ہیں کہ کسی شخص کے بڑھاپے کی بیماریوں نے اتنا طول کھنچا کہ اس کے بیٹے کا ناک میں دم ہو گیا ‘ آخر کار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے باپ کو ایک دندی سے نیچے پھینکے کا فیصلہ کیا تا کہ یہ روزروز کی تکالیف سے جا چھوٹ جائے‘وہ ہ باپ کو اٹھا کر ایک اونچی دندی سے نیچے پھینکے کے لئے لے گیا ‘ جب وہ ایک خاص مقام پر پہنچا اور تیار ہوا کہ باپ کو نیچے پھینکے کہ باپ ہنس پڑا‘ بیٹا حیران ہوا او ر باپ سے پوچھا کہ یہ کیا ہے کہ میں تم کو دندی سے نیچے پھینکنے والا ہوں اور تم ہنس رہے ہو ‘ باپ نے جواب دیا کہ ہنس تمہارے مستقبل پہ رہاہوں‘میں نے اپنے باپ سے جان چھڑانے کےلئے اسی دندی کی اسی جگہ سے نیچے پھینکاتھا ‘ ہنس اسلئے رہا ہوں کہ کل کو تمہارا بیٹا بھی تم سے جان چھڑا نے کےلئے تم کو اسی جگہ سے نیچے پھینکے گا‘یہ دنیا ہے اس میں جو کچھ بھی کرو گے اسی دنیا میں تم کو اس کا صلہ مل جائے گا‘ نواز شریف پر ایک وقت میں قسمت مہربان تھی‘ میاں محمد شریف مرحوم اس ملک کے ایک بڑے انڈسٹریلسٹ تھے ‘ انہوں نے اپنے بیٹے محمد نواز شریف کو سیاست میں لانے کا فیصلہ کیا اس لئے کہ ایک سیاست دان نے اُس کی ساری انڈسٹری کو قومیا لیا تھا‘ اور اُس کو تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی‘ اس نے محمد نواز شریف کو سیاست میں حصہ لینے کا حکم دیا ‘ میاں محمد شریف صاحب اپنے کاروبار کی خود ہی نگرانی کرتے تھے انہوں نے بیٹوںکو تو سیاست کی دنیا میں بھیج دیا مگر اپنے پوتوں کو اپنے کاروبار میں شامل کر لیا ‘ چنانچہ میاں محمدنواز شریف اور میاں شہباز شریف سیاست میں آئے اور قسمت نے بھی اُن کا ساتھ دیا اور انہوں نے اس ملک میں سیاست کے اونچی پوزیشنوں تک رسائی حاصل کی‘ میاں نواز شریف اس ملک میں وزارت عظمیٰ کی پوزیشن تک پہنچے اور اس کرسی کی اونچ نیچ کا مزا بھی چکھتے رہے‘ عوام نے تین دفعہ ان کو اس کرسی تک پہنچایا۔

 کسی بھی اعلیٰ عہدے کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس کے تحت جتنے بھی کام ہوتے ہیں ان کی انجام دہی کے لئے بہت سے دوسرے لوگ ہوتے ہیں‘ ان لوگوں کے ہر اچھے اور برے کاموں کے نتائج کی ذمہ داری بڑے عہدے دار ہی کی ہوتی ہے‘چنانچہ وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری کے جتنے بھی کام تھے وہ دیگر لوگوں نے کئے جن میں مختلف وزیر اور سیکرٹری اور دیگر عہدے دار تھے جن کی کوتاہیاں آخر کار وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے سر پر پڑیں ‘ اب صورت حال یہ ہے کہ حکومت تبدیل ہو گئی ہے اور آنے والی حکومت نے اگلی حکومتوں کی کاموں کی کوتاہیوں کو ہی نشانہ بنا لیا ہے جس کے سبب ساری کوتاہیاں شریف خاندان ہی کے سر پڑ گئی ہیں‘اب صور ت حال یہ ہے کہ جتنے بھی کام اس دوران انجام دیئے گئے ہیں اُن کی ساری کوتاہیاں شریف برادران کے سر منڈھ دی گئی ہیں اور اس کے صلے میں آج نواز شریف صاحب جیل میں پڑے ہیں اور شہباز شریف اور ان کے بچے نیب اور دیگر عدالتوں کی تاریخیں بھگت رہے ہیں‘ خیر جو ہوا ہو گیا مگر یہ سب کچھ کرنے والوں نے کل کا نہیں سوچا‘ کہ کل کلاں کو ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے‘ ۔

ایک وزیر اعظم اگر یہ سوچے کہ اُس سے کبھی کوئی غلطی ہو ہی نہیں سکتی تو یہ اُس کی خام خیالی ہو گی اس لئے کہ ہم جس سوسائٹی میں رہتے ہیں اور جس طرح کا نظام حکومت ہمارے ہاں ہے اُس کا انجام یہی ہے کہ کچھ نہ کچھ کمی بیشی رہ جاتی ہے اور جس طرح آج یہ ادارے اگلی حکومتوںکی کوتاہیاں ڈھونڈ ڈھوند کر لا رہے ہیں کل کو اس حکومت کی کوتاہیاں بھی اسی طرح سامنے آئیں گی ‘یہ جو بیورو کریٹ آج ہر کام سے ہاتھ کھنچ رہے ہیں اُن کی فائیلوں میں ضرور وہ فقرے آ چکے ہوں گے کہ جو کل کو موجودہ وزیر اعظم کو گھیرے میںلے لیں گے‘ اسلئے کہ جس طرح بیورو کریٹس کو تنگ کیا جا رہا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا ہے کہ فائیلوںمیں وہ سب کچھ درج کیا جا رہا ہو گا کہ جس سے کل کو ان پر دباو¿ ڈالنے والے خود اس کو بھگت رہے ہوں گے اور یہ مکافات عمل ہے ہو سکتا ہے کہ اگلے حکمرانوں سے ایسا کچھ ہوا ہو گا کہ جس کی پکڑ میں وہ آج آئے ہوئے ہیں‘ اور یہ دنیا ہے اور اس میںاپنے کئے کا حساب ہر ایک نے دینا ہے‘ کسی نے کم اور کسی نے زیادہ ‘ ہاں جو زیادہ ذمہ دار ہے اُس کو زیادہ جواب دہی کرنی ہو گی۔