101

امریکہ کی دوستی

شنید ہے وزیراعظم پاکستان عنقریب امریکہ تشریف لے جا رہے ہیں یہ تو ابھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ نے واقعی ان کو امریکہ کی یاترا کی دعوت دی ہے یا وہ حسب روایت امریکہ جا رہے ہیں پاکستانی حکمرانوں کا 1951ءسے یہ شیوہ رہاہے کہ وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد دو کام بڑے تواتر سے کرتے آئے ہیں اولاً تو یہ کہ وہ بھاگ کر واشنگٹن کا سب سے پہلے چکر لگاتے ہیں عمران خان تو اس معاملے میں کچھ لیٹ ہو چکے ہیں ثانیاًان کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں پر عمرہ کرنے کاشو ق بھی چراتا ہے کئی سیاسی مبصرین کا البتہ یہ خیال ہے کہ امریکہ جانے سے پیشتر اچھا ہوتا اگر وزیراعظم ماسکو کاایک چکر لگاآتے روسیوں کاروز اول سے ہی ہمارے حکمرانوں سے یہ گلہ شکوہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ امریکہ کی جھولی میں بیٹھے ہیں 1950ءکی دہائی میں انہوںنے سوویت یونین کےخلاف امریکی سرد جنگ میں واشنگٹن کے ہر آول دستے کا کام کیا ہم پر یہ لازم ہے کہ روس کے دل میںپاکستان کیلئے جو کدورتیں موجود ہیں ہم ان کو رفع کر نے کیلئے سفارتی کوششوں کا آغاز کریں ان میں پہل کریں اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں اور کئی عوامل سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجہ بنے ہوں گے وہاں اس میں امریکن سی آئی اے کا بھی ایک بڑا عمل دخل رہا ہے پیوٹن اور ان جسے کروڑوں روسی آج بھی سوویت یونین کے شیزارہ بکھرنے کے زخم چاٹ رہے ہیں وہ روس کی نشاط ثانیہ کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔

دوسری طرف امریکہ قطعاً یہ نہیں چاہتا کہ ماسکو ایک مرتبہ پھرزور پکڑے پاکستان کو اب ماضی کی غلطیوں سے سبق لینا چاہئے او ر روس کےخلاف کسی بھی امریکی محاذ کا حصہ نہیں بننا چاہئے جس وقت 1947ءمیں برصغیر تقسیم ہوا اور دنیا کے نقشے پر بھارت اور پاکستان کی شکل میں دو علیحدہ ملک نمودار ہوئے تو اس وقت دوسری جنگ عظیم تازہ تازہ اختتام پذیر ہوئی تھی جس نے اگر ایک طرف جرمنی او ر اس کے اتحادیوں کاستیاناس کر دیا تھا تو دوسری طرف برطانیہ کابھی کچومر نکال دیا تھا اس جنگ عظیم کی راکھ سے امریکہ اور سوویت یونین کی شکل میں دو سپر پاورز کا ظہور ہوا ان دونوں قوتوں نے برصغیر میں بھی اپنے قدم جمانے کیلئے تگ و دو شروع کی یہ بھارتی وزیراعظم کی دور اندیشی تھی کہ انہوں نے سوویت یونین سے بھی بنا کررکھی اور امریکہ کے ساتھ بھی دشمنی کی حد تک نہیں گئے۔ا اپنے مطلب کی خاطردونوں سے نہر و نے استفادہ حاصل کیا اسکے علیٰ الرغم ہم نے اپنے تمام انڈے امریکہ کی ٹوکری میں ڈال دئیے امریکہ کی محبت میں ہمارے اکثر حکمران اتنے اندھے ہو گئے کہ انہوںنے اپنے عظیم ہمسایہ ملک سوویت یونین سے خواہ مخواہ کا پنگالے لیا اور پھر 1971ءمیں جو پاک بھارت جنگ ہوئی اس میں ہمیں اسکا خمیازہ بھگتاپڑا امریکہ عمران خان بے شک جائیں اور اس سے بھی تعلقات سنوارنے کی کوشش کریں۔

 لیکن امریکہ کے صدر کو وہ غیر مبہم الفاظ میں بتا دیں کہ وہ اس خطے میں اب مزید مریکہ کے واسطے نہ تو روس سے دشمنی کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ چین کے خلاف کسی محاذ میں وہ امریکہ کے رفیق بن سکتے ہیں گھبرانے یا امریکی دباﺅ میں آنے کی اسلئے بھی ضرورت نہیں کہ آخر امریکہ ایران کا کیا بگاڑ سکا ہے باوجود اس حقیقت کہ ایران کی قیادت نے شہنشاہ ایران کی 1979 میں رخصتی کے بعد سے لیکر اب تک امریکہ کی ڈگڈگی پر ناچنے سے مسلسل انکارکیا ہے یہ درست ہے کہ ایران اقتصادی پابندیوںسے معاشی طور پر متاثر ضرور ہوا ہے لیکن زندہ قوموں اورممالک کو اپنی خود مختیاری وقار اور عزت نفس کی حفاظت کے لئے کئی دشوار راستوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔