103

معاشی ترقی:وعدوں کی حقیقت

تاثر دیا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس سوائے ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کوئی ’دوسرا راستہ‘ نہیں رہا کیونکہ محصولات سے ہونے والی آمدنی ”غیرمتوقع طور پر“ کم ہو رہی ہے اور سرمایہ دار طبقات اپنے حصے کا واجب الاداءٹیکس رضاکارانہ طور پر ادا کرنے کو تیار (آمادہ) نہیں۔ حکومت کی جانب سے ’ٹیکس ایمنسٹی اسکیم‘ کی خاطرخواہ کامیابی نہ ہونے کی بڑی وجہ بھی یہی سامنے آئی ہے کہ بڑے کاروباری اور صنعتکار طبقات تحریک انصاف سے سیاسی مخالفت کا بغض اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے دلی تعلق کا قرض اُتار رہے ہیں! اِس صورتحال میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ہوئے معاہدے کی شرائط اور جزئیات بھی ایک ایک کر کے سامنے آ رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر موجود ’سٹاف رپورٹ‘ کے مطابق پاکستان مستقبل قریب میں محصولات کی شرح میں اضافہ کرے گا‘ جس میں رواں برس پندرہ کھرب ساٹھ ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے جائینگے‘ اِسکے بعد آئندہ برس مزید پندرہ کھرب کے ٹیکس اور اسکے بعد آنےوالے سال میں تیرہ کھرب دس ارب روپے کے ٹیکسز لگائے جائینگے‘ آئی ایم ایف دستاویز میں لگائے گئے تخمینہ جات کو اگر قابل بھروسہ سمجھا جائے تو پاکستان نے ’ایف بی آر‘ سے رواں برس اکٹھا ہونے والے ٹیکس کو گزشتہ برس کے 39کھرب 40ارب روپے سے بڑھا کر 55کھرب کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

 جو 2023-24 تک 100 کھرب پچاس ارب تک پہنچ جائینگے‘ یوں اکھٹے ہونےوالے ٹیکس میں پانچ سال کے دوران پینسٹھ کھرب چونسٹھ ارب روپے کا اضافہ ہوگا جس سے مجموعی ملکی پیداوار میں ٹیکسز کی شرح رواں برس 10.4فیصد سے بڑھ کر 15.3فیصد ہو جائےگی‘ علاوہ ازیں حکومت نے ستمبر 2020ءتک سات سرکاری اداروں کی نجکاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اس کےساتھ مکمل طریقہ کار بھی وضع کردیا گیا ہے کہ کن اداروں کی نجکاری ہوگی اور کن اداروں کو بہتر کیا جائےگا‘حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کی مذکورہ تفصیلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے گزشتہ روز جاری ہونےوالی سٹیٹ بینک کی رپورٹ مظہر ہے کہ خسارے میں چلنے والے قومی اداروں نے بینکوں سے چھتیس فیصد سے زائد قرضے لئے ہیں‘ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر مجموعی قرضے دس کھرب اڑسٹھ ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں‘ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے کی معاونت کےلئے بیس ارب روپے کے بیل آو¿ٹ پیکج کا اعلان کیا گیا تھا مگر اس کے باوجود قومی ائر لائن خسارے سے نہیں نکل سکی۔ ماضی کی طرح موجودہ وفاقی حکومت کا ”سارا زور“ بھی عام آدمی پر ہی چلتا ہے‘ جس کی آمدن کا پچاس فیصد سے زائد بالواسطہ یا بلاواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں وصول کیا جا رہا ہے لیکن کسی کو شرمندگی نہیں! اِسی طرح خسارے میں چلنے والے قومی اداروں کو گرداب سے نکالنے کے لئے بینکوں سے قرضوں کا اجراءجلد بازی میں کیا جا رہا ہے۔ بلاتحقیق اور جلدبازی میں قرضے بانٹنے کا نتیجہ ’صفر‘ یعنی ماضی سے مختلف نہیں نکلے گا‘ اِس لئے احتیاط شرط ہے!