685

حیات آباد سے ملنے والی دوشیزہ کی نعش کی شناخت

پشاور۔ حیات آباد فیز 6سے ملنے والی دوشیزہ کی نعش کی شناخت ہوگئی مقتولہ پشاور یونیورسٹی کی طالبہ نکلی پولیس نے شناخت ہونے کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کردی جبکہ مقتولہ کی نعش چلتی گاڑی سے پھینک کرفرار ہونیوالے قریبی رشتہ دار کو بھی گرفتار کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے

 اس ضمن میں رابطہ کرنے پر اے ایس پی حیات آباد نجم الحسنین نے بتایا گزشتہ روز اطلاع ملی کہ حیات آباد فیز 6میں ایک دوشیزہ کی نعش پڑی ہے جسے فائرنگ کرکے قتل کیاگیا ہے اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پرموقع پر پہنچ گئی اور نعش قبضے میں لیکر تفتیش شرو ع کی گئی مقتولہ کی شناخت لائبہ دختر صلاح الدین سکنہ شنواری ٹاؤن کے نام سے ہوئی بعدازاں ورثاء کو اطلاع دی گئی اور پوسٹ مارٹم کے بعد نعش حوالے کردی گئی اے ایس پی کے مطابق تفتیش کا دائرہ کار مزید بڑھایا گیا تو معلوم ہوا مقتولہ لائبہ اپنے قریبی رشتہ دار احمد کے ساتھ گاڑی میں تھی اور اسی نے فیز 6 میں چلتی گاڑی سے اس کی نعش گرا دی اور موقع پر سے فرار ہوگیا کیونکہ جب مقتولہ کے موبائل ڈیٹا چیک کیاگیا تو آخری نمبر احمد کا ہی تھا جسے گرفتار کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔طالبہ کے قتل میں گرفتار احمد نے دوران تفتیش بتایا کہ گزشتہ روز اس نے لائبہ کو یونیورسٹی میں واقع اکیڈمی سے پک کیا اور پھر جب وہ گاڑی میں جارہے تھے کہ متھرا کے علاقے نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں لائبہ موقع پر پہنچ جاں بحق ہوگئی ملزم نے بتایاکہ وقوعہ کے بعد وہ گھبرایا ہوا تھا اس لئے گرفتاری سے بچنے کیلئے اس نے نعش فیز 6میں پھینک دی اور خود ماموں کے گھر چلا گیا اور پھر پولیس نے چھاپہ مار کر اسے گرفتار کرلیا 

پولیس کے مطابق مختلف زاویوں پر تفتیش جاری ہے گرفتار ملزم احمد نے فائرنگ کے فوراً بعد تھانہ جانے کے بجائے نعش فیز 6 میں پھینکی اور پھر تھانہ متھرا جاکر رپورٹ کرائی کہ اس پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے ملزم کی اس حرکت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے کیونکہ اگر ملزم واردات میں ملوث نہیں ہے تو اس نے ابتدائی طور پر ہی تھانہ متھرا رابطہ کیوں نہیں؟ کیوں نعش چند کلو میٹر دور جاکر پھینکی اور پھر واپس آکر تھانہ متھرا میں قاتلانہ حملے کی رپورٹ درج کرائی اس سے متعلق پولیس کا کہنا ہے مزید تفتیش جاری ہے۔