65

مشکلات کم تو نہیں

قومی اسمبلی کی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے کنونیئرنے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈاور پاسپورٹ کے اجراءکو ایم آئی اورآئی ایس آئی سے کوائف کی تصدیق سے مشروط کرنے کی تجویز دی ہے۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کی سربراہی میں ہونے والے ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں آٹھ لاکھ مسترد پاسپورٹس تلف کرنے کے حوالے سے کئے گئے آڈٹ پر بحث ہوئی‘ جسکی وجہ سے قومی خزانے کو 28لاکھ 60ہزار روپے کا نقصان ہوا تھا‘اجلاس کے اراکین کو اپنے ذاتی تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے نور عالم خان نے بتایا کہ پاسپورٹ آفس اور نادرا میں غفلت اور بدعنوانی کی وجہ سے افغان شہریوں نے بھی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر رکھے ہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی شناختی دستاویزات غیرقانونی طریقوں اور ذرائع سے حاصل کرنے کا عمل ایک عرصے سے جاری ہے‘ جس کی نشاندہی نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی ہوتی رہی ہے‘خاص کر جب نیشنل جیوگرافک کی دستاویزی فلم میں سامنے آئی افغان خاتون کی پاکستانی شہریت سامنے آنے کے بعد ایسے لوپ ہولز کی نشاندہی ہوئی تھی‘ جس کے باعث چند لاکھ روپے کے عوض پاکستان کی قومی شناختی دستاویزات حاصل کی جا سکتی ہیں‘۔

 لیکن اس سلسلے میں حکومتی اداروں نے اسوقت تک دلچسپی دکھائی جب تک معاملہ ذرائع ابلاغ میں زندہ رہا۔ معلوم حقیقت ہے کہ آن لائن شناختی کارڈ حاصل کرنے کےلئے دستاویزات کی تصدیق پسماندہ اضلاع سے کروائی جاتی ہے‘ جسکے بعد بڑے شہروں میں بینک اکاو¿نٹس‘ جائیداد کی خرید اور پاسپورٹ حاصل کرنےوالے بطور پاکستانی سفر کرتے ہیں‘ جعلسازی پر مبنی یہ معلوم دھندا ایک عرصے سے جاری ہے اور حکومت کی جانب سے باوجود سختی و کڑی نگرانی بھی کوئی ایسا حل نہیں نکل پا رہا‘ جس کے ذریعے قومی شناختی دستاویزات غیرقانونی طور پر حاصل کرنے کے عمل کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ ’آج بھی مشکلات کم تو نہیں .... بارش حادثات کم تو نہیں (حفیظ شاہد)“ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کےحصول میں جعلسازی روکنے کے لئے اب تک حکومت کی جانب سے نادرا حکام کی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ اختیارات میں اضافے کا تجربہ ناکام رہنے کے علاوہ بلدیاتی نمائندوں‘ اراکین اسمبلی اور پولیس سے تصدیق کا عمل بھی کارگر ثابت نہیں ہو سکا ہے کیونکہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے واردات کےلئے نسبتاً کم ترقی یافتہ اور ملک کے پسماندہ اضلاع کا انتخاب کرتے ہیں‘ جہاں پیسے کی طاقت سے شناختی تصدیق کے مراحل نسبتاً زیادہ تیزی سے طے ہوتے ہیں۔

 قومی شناختی دستاویزات حاصل کرنےوالے غیرمتعلقہ عناصر کی بڑی تعداد پاکستان کی بدنامی کا سبب بن رہی ہے اور اسی وجہ سے حکومت کوئی ایسا مختلف حل پیش کرنا چاہتی ہے جس سے پاکستان کی شہریت حاصل کرنے کے طریقہ کار کو زیادہ محفوظ بنایا جا سکے‘7 جولائی 2013ءسے 28 جولائی 2017ءتک پاکستان کے وزیر داخلہ رہے چوہدری نثار علی خان نے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی بذریعہ ڈاک ترسیل متعارف کروانے کی کوشش کی لیکن یہ حکمت عملی شروع ہونے سے پہلے ہی مختلف وجوہات کی بناءپر ناقابل عمل قرار دےدی گئی‘ جس میں یہ اِعتراض بھی شامل تھا کہ فیصلہ ساز ترسیل کا ٹھیکہ ایک ایسے نجی ادارے کو دے رہے تھے‘ جس سے انکے کاروباری مفادات وابستہ تھے! بہرحال پاکستان میں فیصلہ سازی اور فیصلہ سازی کے نتائج پر حکمرانوں کے ذاتی مفادات کی چھاپ کوئی نئی بات نہیں اور یہی سبب ہے کہ کرپشن کی عالمی درجہ بندی میں پہلے 110 ممالک سے بھی نیچے ہے‘ بہرحال ایف آئی ا ے اور ڈائریکٹر جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی کارکردگی اور عدم دلچسپی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کو ان سے خیر کی توقع نہیں خود کو مزید دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔قانون سازوں کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ خفیہ اداروں کی کلیئرنس کے بغیر جاری نہیں ہونے چاہئےں۔

‘دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ اس ملک کے خفیہ اداروں کو شناختی دستاویزات کی تصدیق جیسی بڑی ذمہ داری سونپ دی جائے جبکہ ان اداروں کو اچانک چھاپے مارنے اور کسی بھی کیس کی چھان بین کا اختیار ہوتا ہے لیکن انہیں کلی طور پر ایسے کام میں شریک نہیں کیا جانا چاہئے جس پر پہلے ہی ایک سے زیادہ حکومتی محکموں کی نظریں جمی ہوئی ہیں! عموماً خفیہ اداروں کے دفاتر اور اہلکاروں کی شناخت و سرگرمیاں عوام کی نظروں سے اوجھل رکھی جاتی ہیں اور وہ پس پردہ رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہوتے ہیں تصور کیجئے کہ ہر روز ہزاروں درخواست گزار خفیہ اداروں کے دروازوں پر دستک دینے آ پہنچیں تو کیا ان اداروں کو اپنے بنیادی کام کی ادائیگی کے لئے فرصت میسر آئے گی؟کہاں کی دانشمندی ہے کہ مٹھی بھر قانون شکنوں کی وجہ سے خفیہ اداروں پر کام کا بوجھ بڑھا دیا جائے جو پہلے ہی افرادی کمی کا شکار ہیں اور خفیہ اداروں کی سکےورٹی بھی الگ سے خطرے میں ڈال دی جائے‘ فیصلہ سازوں کو زمینی حقائق پر نظر رکھنی چاہئے کہ کیا ملک کے ہر ضلع میں مذکورہ دو خفیہ اداروں کے دفاتر موجود ہیں؟ اگر غیر ملکی افراد پاکستانی پاسپورٹ حاصل کر کے خفیہ اداروں کی بدنام کا باعث بن رہے ہیں تو اس کے لئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ قواعدوضوابط میں دستاویزی تبدیلیاں لائی جائیں بصورت دیگر پاسپورٹ کا حصول عام آدمی کےلئے آسان ہونے کی بجائے مشکل سے مشکل تر ہو جائے گا۔