87

زندگی کے درجے

زندگی انسان کو کتنے ہی درجوں سے گزارتی ہے بچپن‘ لڑکپن‘ جوانی‘ادھیڑ عمری اور پھر بڑھاپا۔ حد تو یہ ہے کہ زندگی کو کسی بھی قسم کی جلدی نہیں ہوتی یقینا وہ آسمانوں پر بیٹھنے والے اللہ تعالیٰ کے حکم سے دھیرے دھیرے چلتی ہے اور بیک وقت کروڑوں انسانوں کو ان کے خانوں میں رکھتی اور اٹھاتی جاتی ہے۔ آج سے تین چار پانچ دہائیاں پہلے بھی زندگی کی یہ چال بہت ہی زیادہ خراماں تھی تبھی تو مجھے اور میری عمر والے تمام لوگوں کو اپنا بچپن اور اس میں گزری ہوئی بیشتر باتیں سیاق و سباق کےساتھ یاد ہیں‘بلکہ ہماری مائیں‘ نانیاں‘ دادیاں تو شاید زندگی کا دھیرا پن کچھ شد و مد کےساتھ دیکھ چکی تھیں وہ تو اپنی زندگی کو درجہ وار جو دہرانا شروع کرتی تھیں تو ہم ان کی اعلیٰ دماغی پر نہ صرف رشک کرتے تھے بلکہ ان کے لمبے قصوں سے کترانا بھی چاہتے تھے۔ مجھے اپنا سکول‘ وہاں کی ہر بات‘ اس کے بعد کی زندگی‘ پی بی سی کے آفس میں چارج لینا‘براڈکاسٹنگ کی ٹریننگ کے زمانے کی ایک ایک بات‘اپنے ڈھیروں اساتذہ کے یادگار اسباق‘ترقیاں‘ تعیناتیاں‘ اختیارات‘ سینکڑوں لوگ غرض تمام کچھ ذہن پر ذرا سا زور ڈالنے سے یاد آجاتا ہے۔ وہ ہیرے جواہرات جیسے نایاب براڈکاسٹرز‘ شعرائ‘ ادباءجن کےساتھ روزانہ کے دفتری اور ادبی نوعیت کے معاملات ہمیشہ ہی رہتے تھے‘بے شمار آرٹسٹ‘ وہ جو اپنے پہلے دن کے سیکھنے سے لےکر مشہور ہوجانے تک ہم سب کی آنکھوں کے سامنے ہوتے تھے۔ ہر ایک کی ایک ایک بات یاد آنا شروع ہوتی ہے تو یہ یادیں جڑتے جڑتے گھنے درختوں کی مانند گھناساےہ کرلیتی ہیں‘۔

میں جب سروس میں ہوتی تھی ایک پارٹی میری سب سے ہر دلعزیز پارٹی ہوا کرتی تھی اور وہ تھی کسی بھی ملازم یا افسر کی ریٹائرمنٹ پارٹی۔میں خود بھی اپنی زندگی کے کاموں میں انتہائی حساس واقع ہوئی ہوں اسلئے میں ذاتی طور پر اس دن کو نہایت حساس دن سمجھتی تھی اس شخص کےلئے جو اپنی زندگی کے طاقتور شب و روز اپنے محکمے کو توانا کرکے آج جارہا ہوتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو اگر مجھے علم ہوجاتا تو میں اس میں ضرور شرکت کرتی تھی اور اس کےلئے اچھے الفاظ بھی دہراتی تھی‘اگر وہ دور ہوتا یا میں کسی طور اس میں شریک نہ ہوسکتی تومبارکباد اور نیک خواہشات کا پیغام ضرور پہنچاتی تھی۔ آپ کہیں گے مبارکباد کس بات کی۔ وہ اس بات کی کہ آج کی نفسا نفسی دنیا میں کوئی شخص اپنی ملازمت کے تمام سال عزت آبرو‘ ایماندارانہ طریقے سے گزار کے ہنسی خوشی رخصت ہوتا ہے تو یقینا وہ مبارکباد کا مستحق ہوتا ہے کہ اس نے ایک ایسے باغ میں بیٹھ کر زندگی گزاری جس میں گلاب تو تھے ساتھ ہی نوکیلے کانٹے بھی تھے لیکن ان خاروں سے اس کا دامن محفوظ رہا۔ یہ سب کرتے کرتے ایک دن میری زندگی میں بھی یہ دن آگیا‘سب کو دھچکا لگا کہ شکل سے میری ریٹائرمنٹ دور تک بھی ان کو نظر نہیں آرہی تھی۔ بس شکر گزار ہوں ان عظیم ہستیوں کی‘ پشاور جیسے پسماندہ شہر کی تنگ گلیوں میں رہنے والے اعلیٰ ظرف لوگ جو تعلیم سے محبت رکھتے تھے اور وہ بھی بیٹیوں کو تعلیم دلوانے کےلئے کوشش کرتے تھے کہ انہوں نے تعلیم جیسے نایاب زیور سے مجھے مالا مال کر دیا تھا اگر اس زمانے کے رواجوں کے مطابق عمر زیادہ لکھوا دی گئی تھی تو یہ کوئی ایسی بات نہ تھی۔

 ہمارا ایک کولیگ ڈرامے کی دنیا کا بڑا نام برکت اللہ ریٹائر ہوا توکہنے لگا کہ میری عمر تو بس ویسے ہی کاغذوں کی خانہ پری تھی میری ماں وثوق سے کہا کرتی تھی کہ جب تیز بارش ہورہی تھی تم پیدا ہوئے تھے‘ہم سب کے پاس اس طرح کی چھوٹی چھوٹی پیار بھری اپنی ماﺅں کی کہانیاں تھیں ‘ ریٹائرمنٹ تو ایک خوبصورت شے ہے کہ اس کو کوئی جتنا جان پاتا ہے وہ اتنا ہی اس معاشرے کےلئے اپنے گھر بار کے لئے خوبصورت اور مفید ہوتا جاتا ہے‘ مجھے بڑا ڈر لگتا ہے جب میں سنتی ہوں کہ فلاں شخص نے اپنے کام سے ریٹائرمنٹ کو اتنا زیادہ دل سے لگا لیا کہ دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوگیا‘میں افسوس سے سوچتی ہوں کہ ابھی تو فرصت کا وقت ملا تھا کہ تم اپنے بارے میں سوچتے اور تم نے دل کو ہار دیا‘کچھ دن پہلے میرے بہت عزیز کولیگ کی ریٹائرمنٹ تھی‘ کئی دن پہلے سے میں نے اس کو کہنا شروع کردیا کہ دیکھو اس بات کو دل سے نہ لگا لینا کیونکہ میں دیکھتی تھی اس کا چہرہ پژمردہ ہوتا جارہا ہے۔ وہ صبح 8 بجے گھر سے نکلنے اور دفتر کی کرسی پر بیٹھنے کا اتنا عادی ہوچکا ہے کہ جب ایک دن وہ 8 بجے صبح تیار نہیں ہو گا تو اس کا دل ہی بیٹھ جائے گا‘بہرحال اپنے دھواں دار قسم کے وعظ و نصیحت اور مزاح کی تمام زور آزمائیاں کرکے میں اس بات میں کامیاب ہوگئی کہ اس کو ذہنی طور پر اس افتاد سے محفوظ کرلوں جو اصل میں اسکی زندگی کا اےک انمول باب بننے والاہے‘کسی دانا نے کہا تھا کہ زندگی چیپٹرز میں آتی ہے ایک چیپٹر بند ہوتا ہے تو فوراً ہی دوسرا کھل جاتا ہے‘آپ کے اور میرے بھی کئی ساتھی تھے جو اس زندگی کو قبول نہیں کرسکے اور فوراً ہی بیمار ہوگئے یا دنیا ہی چھوڑ گئے لیکن وہ لوگ جو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کے بارے میں اپنی مصروفیات کو بچا کے رکھتے ہیں وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔

‘ ادیب‘ شاعر‘ استاد‘ ٹیکنیکل کام کرنے والے لوگ‘ ڈاکٹر‘ مصور‘ وکیل یہ تمام وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ بہت بڑھاپے تک بھی اپنے کام میں مگن رہتے ہیں‘اسلئے وہ لوگ بھی جن کی تعلیم کی نوعیت دفتر تک محدود ہو وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کےلئے اپنی بہترین مصروفیت میں اپنا دل لگا کے دیکھیں‘اپنی ذات سے پیار سب سے بڑی دلچسپی ہے یہ وہ وقت ہے کہ آپ ابھی بالکل جوان ہیں اور آپ کو اپنے وہ رکے ہوئے کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے جن کو کرنے کےلئے آپ ہمیشہ لمبی چھٹی کا پلان بناتے رہتے تھے لیکن دفتر کی مصروفیات نے آپ کو ایسا کرنے نہیں دیا‘اپنے بچوں کی شادیوں کے بارے میں منصوبہ بندی کریں‘اپنے جیون ساتھی کےساتھ سیاحت کا پروگرام بنائیں یہ سیاحت مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی ہوسکتی ہے‘آپکی جیب آپکو جتنی اجازت دے سیاحت ضرور کریں‘ سیاحت سے آپ کی وسعت نظری میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے اور آپ کو دوسرے شہروں‘علاقوں‘مذاہب کے لوگوں کی تہذیب و ثقافت کو قریب سے دیکھنے کے مواقع ملتے ہیں اور اس کےساتھ ساتھ آپ تفریح کی بے پناہ خوشیوں کے قریب ہوتے ہیں جیسا کہ میں نے شروع میں کہازندگی دھیرے دھیرے اپنے ایک خانے سے اٹھاکر دوسرے میں رکھتی جاتی ہے۔

‘ بس زندگی کے اس حصے کو خوش اسلوبی سے قبول کر لیں اگر نہیں بھی کریں گے تو اس نے آنا تو ہے تو پھر کرلینا چاہئے‘ وہ لوگ جو اللہ کا شکر کرتے ہیں وہ ہر حال میں نہ صرف خوش رہتے ہیں بلکہ شکرانے کے نفل بھی ادا کرتے ہیں‘ بے شک ایک دن زندگی ہمیں اےک ایسے خانے میں بھی لے جانے والی ہے جو شاید ہماری زندگی کا آخری خانہ ہوگا۔ تو اس کی تیاری میں کبھی غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے۔ جیسے اپنے اچھے برے وقت کےلئے انسان کفایت شعاری کرتا ہے‘ پیسے جمع کرتا ہے بالکل اپنے اس آخری وقت کی تیاری کےلئے تھوڑی تھوڑی جمع پونجی اللہ کے پاس جمع ضرور کرواتے رہنا چاہئے کیونکہ یقینا وہاں ہم اکیلے ہوں گے اور سوائے اس جمع پونجی کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوگا‘ زندگی جتنی بھی ہے اس کو ہنس کر‘ خوش ہوکر‘ دوسروں کےلئے خوشیاں بکھیر کر بڑھاتے رہنا بڑا ضروری ہے‘دکھ درد پھیلانے والے اپنے دکھ ہر وقت سنانے والے انسانوں کو پسند نہیں ہوتے یقینا وہ اللہ کو بھی ناپسند ہوتے ہوں گے۔