81

آندھیاں ہر طرف

 جب ہر طرف آندھیاں چل رہی ہوں تو یہ کہنا کہ کوئی درخت یا کوئی نوخیز پودہ بچ جائے گا تو یہ خواب میںہی ممکن ہے‘اسلئے کہ آندھی نہ تو پرانے درختوں کو دیکھتی ہے اور نہ نوجوان درختوں اور اٹھتے ہوئے پودوں کی زندگی کی کوئی ضمانت دی جا سکتی ہے‘جب سے نئے پاکستان کی بنیاد رکھی گئی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی سیاستدان ایسا نہیں ہے کہ جس کے ہاتھ صاف ہوں‘کوئی لاکھوں کے کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہے اور کسی نے کروڑوںاور اربوں کی کالک منہ پرملی ہوئی ہے۔ اگر کسی کا دامن صاف دکھائی دیتا ہے تو وہ پی ٹی آئی میں شامل سیاستدان ہےں‘ اسلئے کہ کپتان نے جو ٹیم اپنے لئے چنی ہے وہ صاف ستھری ہے اور کچھ بھی ہو یہ ٹیم کم از کم کرپشن سے بہت دور ہے‘ یہ علےحدہ بات ہے کہ اس ٹیم میں اکثریت ان لوگوںکی ہے جو کل تک ان پارٹیوں کے اراکین تھے جن کے لیڈر سر تا پا کرپشن میں ملوث تھے‘یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جان بچائی ہے اور ان پارٹیوں سے جان چھڑا کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے‘اسلئے وہ جیسے ہی اس جماعت میں داخل ہوئے ان کی صفائی ہو گئی اور اب یہ لوگ بالکل صاف ستھرے ہیں‘جب کرپشن کی آندھی اپنے زوروںپر تھی تو تقریباًہر محکمہ اس کی زد میں آیا۔اس طوفان سے کسی محکمے نے جان بچائی ہے تو وہ محکمہ تعلیم ہے‘ ۔

ہمارا یہ خیال تھا کہ جب یہ محکمہ اس طوفان کی زد میں آگیاتو اسکے بعد اس ملک کو کوئی بچا نہیں سکتا ۔ اسی طرح ہمارا عدالتی نظام ایسا تھا کہ جس میں کرپشن نام کی کوئی چیز نہیں تھی‘ ایک واقعہ ہمارے ایک منصف نے ایک مجلس میں سنایا اور بعد میں اپنی ایک کتاب میں بھی اس کا ذکر کیا ۔ وہ ایبٹ آباد میں تعینات تھے۔ ایک دن وہ اپنے گھر میں اپنی قمیض دھو رہے تھے کہ ایک بندہ ان سے ملنے آیا۔ اس نے دیکھا کہ جج صاحب اپنی قمےض خود دھو رہے ہیں تو اس نے ان کے ہاتھ سے قمیض لے لی اور دھونے لگا۔ ساتھ ہی ساتھ اس نے اپنے ملاقات کا مقصد بھی بیان کرنا شروع کیا تو جج صاحب نے اس کے ہاتھ سے قمیض لے لی کہ جس طرح وہ قمیض دھو رہاہے وہ اس کے بٹن توڑ دے گا اس کا مطلب صاف ظاہر تھا کہ وہ آنے والے کی بات پر کان دھرنے والے نہیں ہیں اس لئے اس شخص نے جج صاحب سے اجازت چاہی اور چلا گیا ۔ یہ ساٹھ کی دہائی کا واقعہ ہے جس وقت کے سرکاری افسروں میں ایمان کی حرارت موجود تھی اور اس دوران اگر کہیں کرپشن تھی بھی تو وہ اس قدر پوشیدہ تھی کہ اس کا سایہ بھی نئی نسل پر نہیں پڑ رہا تھا۔ جوںجوں وقت گزرتا گیا لین دین کی بات آگے بڑھتی گئی اور لوگوں کے ضمیر اس طرح سوئے کہ کسی کو یہ خیال تک بھی نہ آ یا کہ وہ ایک برا کام کر رہا ہے رشوت کا نام ہی تبدیل کر دیا گیا اور اس چیز کو تحفہ اور کمیشن کا نام دے دیا گیا اور اس طرح ایک حرام چیز کو حلا ل سمجھ لیا گیا۔ محکمہ تعلیم کہ جس میں نہ صرف ایماندار لوگ آتے تھے بلکہ یہ لوگ اپنی نئی نسل کو اخلاقیات اور وطن کی محبت بھی سکھاتے تھے ‘۔

بہت کم تنخواہ پر بھی راضی برضا رہتے تھے اور اپنی ڈیوٹی نہاےت ایمانداری سے سر انجام دیا کرتے تھے‘ اس محکمے کی طرف کبھی کسی حکومت نے توجہ نہیں دی اور یہ نہیں سوچا کہ ان کے بھی بال بچے ہیں اور ان کی بھی ضروریات ہیں۔ ادھر اس کے سٹاف میں دوسرے محکموں سے لوگوں کو بھیجا جانے لگا جس سے اس محکمے کے ان دفتروںمیں کہ جہاں سے اساتذہ کی تقرریاں اور تبادلے ہوتے تھے اس محکمے میں کرپشن کے جراثیم داخل ہونا شروع ہو گئے‘ اس طرح سے ایک ایسا محکمہ کہ جس کو نئی نسل کو سدھارنا تھا کرپشن کی دلدل میں دھنسنا شروع ہو گیا۔ اب تو ہر طرف یہ جراثیم پھیلنے شروع ہو گئے ہیں‘ایک جج کی غلطی اور ایک استاد کی غلطی سے پورے کا پورا نظام کرپٹ ہو جاتا ہے اور یہی ہوا‘اب ایک فیصلے کے اعتراف کی وےڈیو سامنے آئی ہے۔ گو اس میں سزائے موت تو نہیں دی گئی مگر ایک آدمی کےلئے یہ سزا پھانسی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اب اس وےڈیو پر بحث جاری ہے اس کا فیصلہ کیا ہوتا ہے مگر جیسا بھی ہو ایک مہذب پیشے سے منسلک ایک شخص کے سفید کپڑوں پر ایک سیاہ دھبہ لگ چکا ہے ۔ یہ کیسے صاف ہو گا اس کا تو وقت ہی بتائے گا۔مگر انصاف کی دنیا یا تعلیم کی دنیا میں ایسے داغ بلا شبہ باعث شرمندگی اور ایک نسل کی تباہی کے مترادف ہیں۔