103

حکومت کا امتحان

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے رواں ہفتے 2 مواقعوں پر جاری کی گئی ویڈیوز سے پاکستان میں عدالت و انصاف کے نظام سمیت سیاسی انتقام کے لئے ریاستی اداروں اور حکومتی وسائل کے استعمال کا تاثر زیادہ قوی ہوگےا ہے۔ حزب اختلاف کی بڑی سیاسی جماعت کے قائدین یہ بات دل سے جانتے ہیں کہ وہ اس قسم کی کوشش سے نوازشریف کی سزائیں ختم نہیں کروا پائیں گے اور نہ ہی انصاف حاصل کرنے کا یہ طریقہ درست ہے جس میں ایک جج کے کردار اور اس کی نجی زندگی کو نشانہ بنایا گیا ہے نواز لیگ کی جانب سے پہلی مرتبہ ویڈیوز بذریعہ پریس کانفرنس اور دوسری مرتبہ بذریعہ ٹوئیٹر جاری کی گئیں‘ جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ جج ارشد ملک سے متعلق ہیں‘حالیہ ویڈیو میں مبینہ طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی نواز لیگ کے کارکن ناصر بٹ کو لینے آتی ہے‘ جسکے بعد ناصر بٹ اپنی گاڑی میں ان کے گھر جاتے ہیں‘اس آمدورفت پر مبنی ویڈیو سے مریم نواز نے جج ارشد ملک کے اس پریس ریلیزکو جھوٹا ثابت کیا ہے‘ جس میں انہوں نے مذکورہ ویڈیوز کو من گھڑت‘ جھوٹا‘ جعلی اور مفروضوں پر مبنی قرار دیا تھا۔

دسمبر 2018ءمیں احتساب عدالت کے جس جج نے نواز شریف کوالعزیزیہ کیس میں سات برس قید کی سزا دی‘ اس سے متعلق نواز لیگ کے عائد کردہ الزامات کی حقیقت اور آڈیو ویڈیو دستاویزات سے جو کچھ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ اس کا انحصار اب فرانزک آڈٹ پر ہے تاہم نواز لیگ حکومت اور عدالت پر دباو¿ برقرار رکھنا چاہتی ہے جس کے لئے مزید ویڈیوز جاری کی گئی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے پاس ایسا مزید بھی بہت کچھ ہے! کیا مبینہ ویڈیوز اور آڈیوز جعلی ہیں اور اگر فرانزک آڈٹ کروایا بھی جائے تو کیا اس کے ذریعے کسی ویڈیو سے کی گئی چھیڑچھاڑ‘ تبدیلی‘ ترمیم یا جعلسازی پکڑی جا سکتی ہے؟فرانزک کا عمل بنیادی طور پر گلوبل اور لوکل میں تقسیم ہوتا ہے۔ گلوبل تجزیے میں ویڈیو ریکارڈنگ میں کی گئی ترمیم کے بارے تفصیلات معلوم کی جا سکتی ہیں جبکہ لوکل کہلانے والے تجزیئے سے یہ پتا لگایا جاتا ہے کہ یہ ترامیم ریکارڈنگ میں ٹھیک کن کن مقامات پر ہوئیں یعنی مثال کے طور پر اگر کوئی ویڈیو پانچ منٹ دورانئے کی ہے تو کیا اس میں ردوبدل ہوا ہے اور یہ ترامیم کس کس مقام پر کی گئی ہیں‘ فرانزک آڈٹ کرنے کے تیار شدہ سافٹ وئر بھی ملتے ہیں اور کئی ادارے یہ تکنیکی خدمات پیش بھی کرتے ہیں۔ نواز لیگ کی پیش کردہ ویڈیوز کا تعلق چونکہ آئینی معاملات سے ہے اس لئے فرانزک آڈٹ کسی کم قیمت سافٹ وئر کے ذریعے سے نہیں بلکہ ایسے معروف ادارے سے کروایا جائے گا۔

 جس کی ساکھ بھی اچھی ہو اور اس کی پیش کردہ رپورٹ پر کسی فریق کو سوالات اٹھانے کا موقع نہ ملے۔ آڈیو ویڈیو کے تصدیق کار تجزئیاتی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے ویڈیو کے مختلف پہلوو¿ں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں‘ پہلے مرحلے میں آڈیو اور ویڈیو کے ہر ایک فریم کو الگ الگ کیا جاتا ہے‘ چونکہ ہر ویڈیو میں تصویر اور آواز کے الگ الگ دھارے پائے جاتے ہیں اسلئے مذکورہ دونوں اجزاءکے معیار کا پہلے فریم سے آخری فریم تک جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ بات قطعی طور پر ناممکن نہیں کہ کسی بھی ویڈیو میں اصل مناظر کے ہو بہو آڈیو ویڈیو فریم اس میں شامل کر دیئے جائیں کیونکہ امریکہ اور یورپ کی فلمی صنعتیں اس مہارت سے مالا مال ہیں اور کمپیوٹروں نے یہ کام تو نان لینئیر ایڈیٹنگ کے ذریعے مزید آسان بنا دیا ہے۔جب نواز لیگ پاکستان میں احتساب کے عمل‘ عدالتی امور میں سیاسی اور فوجی ادارے کی مداخلت اور سیاسی انتقام جیسے الزامات عائد کرنے جا رہی تھی تو کیا اس نے اپنے قانونی ماہرین سے مشورہ نہیں کیا ہوگا؟ کیا نواز لیگ کی قیادت نہیں جانتی تھی کہ اس کی جاری کردہ ویڈیوز کافرانزک آڈٹ بھی ہوگا اور ایسی صورت میں اگر جعلسازی پکڑی گئی تو کس قدر بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے؟

کیا برطانیہ میں خودساختہ جلاوطنی بسر کرنے والے نواز لیگی رہنماو¿ں نے احتساب عدالت کے جج بارے آڈیو ویڈیو کو مستند اور ناقابل تردید بنانے میں اپنا ہرممکنہ مالی کردار ادا نہیں کیا ہوگا؟ لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان میں حکومت کا قائم کردہ کوئی ایک بھی ادارہ ایسا نہیں کہ جہاں آڈیو ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کیا جا سکتا بالخصوص جب ہم آڈیو کی بات کرتے ہیں۔ مختلف نجی تعلیمی ادارے فرانزک آڈٹ سے متعلق مضامین پڑھاتے ہیں اور وہاں مارکیٹ میں دستیاب پہلے سے تیار شدہ سافٹ وئرز کا استعمال ہی سکھایا جاتا ہے لیکن بہت سی ایسی تکنیکی باریکیاں اور بلندیاں ہیں‘ جن کی نشاندہی عمومی سافٹ وئرز کے ذریعے ممکن نہیں ہوتی۔ نواز لیگ نے بیک وقت پاکستان کی سیاسی حکومت اور اداروں کو امتحان میں ڈال دیا ہے‘ جنہیں تاریخ کے سب سے بڑے تکنیکی اور ایک نہایت ہی حساس نوعیت کے الزام سے واسطہ ہے! ’یوں بھی مشکل ہے‘ ووں بھی مشکل ہے .... سر جھکائے گذر کریں کیوں کر! (میر تقی میر)“