195

پاک امریکہ رابطہ

وائٹ ہاﺅس نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے مجوزہ دورہ امریکہ کی تصدیق کردی ہے‘ خبررساں ایجنسی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22جولائی کو وزیراعظم پاکستان کا استقبال کریں گے‘ خطے کی مجموعی صورتحال اور پاکستان کو معیشت کے حوالے سے درپیش چیلنجوں کے تناظر میں وزیراعظم کا دورہ امریکہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا‘اس سے پہلے پاکستان کی جانب سے عمران خان کے دورہ امریکہ کا عندیہ دیا گیا تاہم امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے اچانک کہہ دیا کہ انہیں عمران خان کے دورے سے متعلق اطلاع نہیں اور یہ کہ وہ اس حوالے سے وائٹ ہاﺅس کیساتھ رابطہ کرکے تفصیلات سے آگاہ کریں گی‘ اب ترجمان وائٹ ہاﺅس کا کہنا ہے کہ دورے سے دونوں ممالک کو امن‘ اقتصادی ترقی اور خطے کے استحکام کیلئے مل جل کر کام کرنے میں مدد ملے گی‘ عمران خان اورڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات میں انسداد دہشت گردی ‘دفاع‘ توانائی اور تجارت پر تبادلہ خیال ہوگا‘پاکستان اور امریکہ کے درمیان رابطوں کی تاریخ تقریباً 70سال پر محیط ہے‘ 1950ءمیں پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے امریکہ کا دورہ کیا‘ اس سارے عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بعض اوقات اُتار چڑھاﺅکا شکار بھی رہے ہیں۔

 جن میں ڈومور کے مطالبے بھی آتے رہے ہیں‘ اس حقیقت سے انحراف کسی صورت ممکن نہیں کہ خطے میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے‘ پاکستان 1979ءمیں افغانستان پر روسی یلغار کیساتھ لاکھوں افغان مہاجرین کا میزبان بنا‘اس سارے عمل میں پاکستان کی معیشت کو بھی نقصان کاسامنا کرنا پڑا اور سرمایہ کاری کا سلسلہ بھی بری طرح متاثر ہوا‘پاکستان کا موقف ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے واضح اور شفاف ہی رہا‘پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے مذاکراتی عمل کا میزبان بھی بنا اور ہمیشہ اس کی کامیابی کیلئے کوشاں بھی رہا‘ پاکستان بھارت کیساتھ تصفیہ طلب امور بات چیت کے ذریعے نمٹانے کی کوششوں میں بھی رہا تاہم بھارت کی جانب سے مذاکراتی عمل ایک سے زائد مرتبہ کسی نہ کسی بہانے متاثر کیاجاتا رہا‘مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا سٹینڈ اصولی ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادیں بھی اس مسئلے پر ریکارڈ کا حصہ ہیں‘ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ امریکہ سمیت دیگر طاقتیں بھی پاکستان کے اصولی موقف کو سپورٹ کریں ۔

پشاور ہائی کورٹ کے احکامات

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ابراہیم خان اور جسٹس عبدالشکور پر مشتمل بینچ نے مویشیوں کی افغانستان سمگلنگ پر پابندی عائد کردی ہے‘ عدالت عالیہ نے اس بارے میں جواب بھی طلب کیا ہے‘ عیدالاضحی کی آمد سے پہلے ہی مویشیوں کی سمگلنگ قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن کر شہریوں کی مشکلات بڑھا دیتی ہے‘ وطن عزیز میں مہنگائی پہلے ہی عروج پر ہے‘ صنعت کو مشکلات کا سامنا ہے‘ سمگلنگ مجموعی ملکی پیداوار اور اکانومی کو متاثر کررہی ہے‘ ایسے میں اگر مویشی بھی سمگل ہوجائیں اورقر بانی کا جانور بھی عام شہری کی دسترس سے باہر ہو تویہ سراسر زیادتی ہے‘ عدالت عالیہ کے احکامات کی روشنی میں ایڈمنسٹریشن کو فوری عملی کاروائی کرتے ہوئے اس سلسلے کو روکنا ہوا‘ سمگلنگ کے مجموعی دھندے کا خاتمہ کرنے کے لئے وفاق اور صوبے کے ذمہ دار محکموں کو فوراً باہمی رابطے کیساتھ ٹھوس حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔