84

کارکردگی اوراٹھتے سوالات

وزیراعظم عمران خان بلاامتیاز احتساب‘کرپشن فری پاکستان اور مضبوط معیشت کا نعرہ لے کر نکلے تھے اور اسی بنیاد پر انہوں نے انتخابی مہم بھی چلائی شاید یہی وجہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی زیادہ تر توجہ انہی نکات پر مرکوز رہی تاہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں تاحال کامیاب نہیں ہوئے‘احتساب کے عمل کو سیاسی انتقام کا نام دیا جارہا ہے اور یہ تاثر بہت عام ہے کہ مخالفین کو اس کے ذریعے ہراساں کیا جارہا ہے‘ کرپشن میں شاید کچھ کمی واقع ہوئی ہو مگر اس کے مستقل خاتمے کا کوئی پلان یا سسٹم نظر نہیں آرہا‘ معیشت کی بحالی کے دعوے نہ صرف یہ کہ سوالیہ نشان ہیں بلکہ متعدد تبدیلیوں اور نئے افراد کی تعیناتی کے باوجود حالات بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتے جارہے ہیں‘عمران خان اداروں کی خودمختاری اور استحکام کے دعوے بھی کرتے آ رہے ہیں مگر یہاں بھی کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آرہی‘ عدلیہ کو سخت سیاسی اور عوامی تنقید کا سامنا ہے اور اس کی بنیادی وجہ وہ حکومتی رویہ ہے جس کے ذریعے سیاسی فیصلے عدالتوں میں کھینچ کر لائے گئے اور بعض فیصلوں پر مخالفین کے علاوہ ماہرین اور تجزےہ کار بھی ٹھوس دلائل کی بنیاد پر مخالفانہ تبصرے کررہے ہیں‘ اگر یہ کہا جائے کہ گزشتہ چند برس کے دوران عدلیہ پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی اور جج صاحبان کو متنازعہ بنانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں تو غلط نہیں ہوگا‘اس رویئے پر جہاں قانون کے ماہرین اعتراضات کرتے دکھائی دئیے وہاں بعض معتبر جج بھی ڈسپلن کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بول اٹھے۔

‘ اس صورتحال نے جہاں ایک طرف عدلیہ کی ساکھ کو متاثر کیا وہاں دوسری طرف عدالتی فیصلے مسلسل تبصروں‘ تجزیوں اور تنقید کی زد میں بھی رہے‘ جناب ارشد ملک سے متعلق (ن) لیگ کی جانب سے لیک کی گئی حالیہ ویڈیو نے عدلیہ کی ساکھ‘ طریقہ کار اور فیصلوں کے بارے میں جو سوالات اٹھائے ہیں اس پر نہ صرف یہ کہ مہینوں اور برسوں تک بحث ہوتی رہے گی بلکہ آئندہ کے فیصلے بھی دباﺅ‘ تنقید اور ایسے ہی تبصروں‘سوالات کی زد میں رہیں گے‘ اگرچہ شریف فیملی مکافات عمل کا شکار ہوکر ماضی کی غلطیوں کے نتائج بھی بھگت رہی ہے تاہم حکومت اور عدلیہ کی نیک نامی اور غیر جانبداری پر بھی سوالات اٹھ چکے ہیں‘ بعض حکومتی وزراءنے (ن) لیگ کی روایتی مخالفت میں ارشد ملک کے حق میں جو طرز عمل اپنایا اس نے موصوف اور عدلیہ کی مشکلات میں اور بھی اضافہ کردیا اور اب یہ معاملہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے بغیر حل ہوتا نظر نہیں آرہا‘عمران خان صاحب اور ان کی حکومت کی مخالفت میں اسٹےبلشمنٹ کو بھی تنقید اور مسلسل مخالفانہ تبصروں کا سامنا ہے‘ پارلیمنٹ کو بظاہر ملک کا سپریم اور فیصلہ ساز ادارہ سمجھا جاتا ہے مگر اب تک یہ ادارہ بھی اپنی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا‘ جب بھی اس کے اجلاس ہوئے معزز ارکان کے رویوں نے عوام کو نہ صرف مایوس اور بددل کیا بلکہ ہر اجلاس نے تلخ یادیں ہی چھوڑ ےںاور یہی وجہ ہے کہ ایک برس کے دوران کوئی قابل ذکر قانون سازی نہ ہوسکی۔

 آج کے دور میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں جہاں ایک طرف حکومت اور اس کے بعض ادارے میڈیا سے نالاں رہے وہاں میڈیا کو بھی گلہ ہے کہ حکومت اس کے معاشی مسائل کا سبب بنی ہوئی ہے‘ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے وزیراعظم کو سنجیدگی سے غور کرکے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ اداروں کی ساکھ کو بحال کیا جاسکے اور سیاسی تلخی کو بھی کم کیا جاسکے۔ ملک کے سیاسی حالات میں جس تیزی کےساتھ تلخی اور تبدیلی آ رہی ہے اسکے باعث یقین کےساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کیا ہونے جا رہا ہے‘سیاسی تلخی ذاتیات کی حد تک بڑھ گئی ہے اور عوام اس رویئے یا صورتحال کو اس حوالے سے تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ ان کے مسائل میں کمی واقع نہیں ہورہی‘بعض اہم شخصیات اور عہدیداران کے مبینہ کردار پر نہ صرف بحث جاری ہے بلکہ بعض شواہد کے باعث اہم اداروں کی ساکھ پر اور دائرہ کار پر انگلیاں بھی اٹھائی جا رہی ہےں‘۔

ن لیگ خلاف توقع مزاحمت پر اتر آئی ہے اور مریم نواز کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ حکومت پر دباﺅ ڈالنے اور اپنے والد کی رہائی کےلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں‘شاےد اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور بعض نئے مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں اگرچہ اے پی سی کے بعد اپوزیشن کسی موثر حکومت مخالف تحریک پر متفق نہ ہو سکی تاہم پیپلز پارٹی ‘ اے این پی اور ن لیگ کی عوامی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اورسب کی توپوں کا رخ عمران خان اور انکی حکومت کی جانب ہے کہا جا رہاہے کہ 25 جولائی کو متحدہ اپوزیشن مشترکہ جلسے بھی کر سکتی ہے اور اگر یہ کوشش کامیاب رہی تو دوسرے مرحلے میں مولانا فضل الرحمان کی خواہش کے مطابق حکومت گرانے کی تحریک کا باقاعدہ آغاز ہو گا اور حکومتی مشکل میں مزےداضافہ ہو گا۔