2010

ووٹ کا استعمال

جمہوریت کے اپنے تقاضے ہیں اور اس کا پہیہ چلتے رہنے کے اپنے اصول ہیں‘آپ کو اپنے ملک کو صحیح سمت میں چلانے کیلئے اپنے نمائندے چننے کا حق دیا گیا ہے جو آپ اپنے ووٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں‘ جب ایک حکومت اپنا وقت پورا کر لیتی ہے توآپ کو نئی اسمبلیاں بنانے کیلئے اپنے نمائندے چننے کا حق دیاجاتا ہے‘آپ نے وہ نمائندے چننے ہیں اور آپ نے ایک سیاسی پارٹی کو اس کیلئے انتخاب کرنا ہے‘ جو جو بھی سیاسی پارٹیاں اس وقت ملک میں کام کر رہی ہیں ان میں سے ہر ایک کا ایک طریقہ کار ہے کہ اگر ان کو عوام حکومت چلانے کا حق دیتے ہیں تو وہ کس طرح اس ملک کو آئین کے مطابق اور عوام کی فلاح کیلئے چلائیں گے‘ اس کیلئے ہر پارٹی نے اپنا طریقہ کار لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے جسے وہ پارٹی منشور کے نام سے یاد کرتے ہیں‘عوام چونکہ سارے کسی بھی پارٹی کے منشور سے واقف نہیں ہوتے اسلئے پارٹیاں اور ان کے نمائندے لوگوں کے سامنے وہ منشو رکھتے ہیں‘یہ کام وہ جلسوں جلوسوں کے ذریعے بھی کرتے ہیں اور ڈور ٹوڈور یعنی گھر گھر جا کر بھی اپنا پیغام پہنچاتے ہیں‘جلسوں کے ذریعے پارٹی کے اراکین اور لیڈر اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور لوگوں کو قائل کرتے ہیں کہ ان کا منشور عوام کی بہتری کیلئے دوسری پارٹیوں سے بہتر ہے اسلئے وہ ان ہی کے اراکین کو ووٹ کے ذریعے اسمبلیوں میں بھیجیں‘ عوام کو سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کے اس حق کو استعمال کرنا چاہئے ورنہ ملک کی ترقی رکنے کا اندیشہ ہے‘۔

آج تک جو لوگ ہم نے اسمبلیوں میں بھیجے ہیں اور انہوں نے جتنا کچھ اس ملک کیلئے کیا ہے وہ ہم سب کے سامنے ہے ‘ آج تک ہم نے جو دیکھا ہے اس میں یہی کچھ تھا کہ کسی بھی گاؤں کا بڑا یا کسی بھی کنبے کا بڑا فیصلہ کر لیتاکہ فلاں شخص یا پارٹی کو ووٹ دینا ہے تو پورا گاؤں یا پورا ٹبر اُس کے کہے پر ووٹ دے دیتا ‘وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو ووٹ کی اہمیت کا شعور ہی نہ تھا‘ اس لئے کہ شعور اجاگر کرنے والے ذرائع ہی دستیاب نہ تھے آج اللہ کے فضل سے گھر گھر میں ریڈیو اورٹی وی موجود ہے جہاں سے آپ کو ہر پارٹی اورہر امیدوار کے متعلق معلومات بہم پہنچائی جا رہی ہیں‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ہر اچھے برے کی تمیز سکھائی جا رہی ہے تو اب آپ کا فرض بنتا ہے کہ ایسے لوگوں اور پارٹیوں کو اسمبلیوں میں بھیجیں جو آپ کے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ملک کی بہتری کیلئے کام کریں‘ ادھر ملک میں تعلیم کا بھی اچھا خاصا تناسب ہو چکا ہے یعنی ہمارے نوجوانوں میں اب کسی بھی امیدوار یا کسی بھی پارٹی کی پرکھ کیلئے ذہن اور ذرائع موجود ہیں اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ ہمارے نوجوان اپنے ملک کی بہتری کیلئے اپنا حق رائے دہی صحیح طریقے سے استعمال کریں گے‘ خوبصورت نعروں کی بجائے آپ شخصیات کا چناؤ کریں ‘ پارٹی کو ووٹ کر رہے ہیں تو اُس کے منشور اور اُس کے امیدواروں اچھی طرح دیکھیں پرکھیں اور پھر اپنا ووٹ استعمال کریں‘آپ کا ووٹ واقعی قیمتی ہے‘ اس کو چاولوں اور شربتوں کی نذر نہ کریں‘اور نہ ہی گاؤں کے مکھیا اورملک کی نذر کریں ‘ یہاں بات کسی گلی محلے کی نہیں بلکہ پاکستان کی ہے ‘ ایسی اسمبلی لائیں کہ جس سے آپکے ملک کی قوموں میں عزت ہو‘ ایسی اسمبلی جو آپکے ملک کی سپورٹ کو دنیا سے منوائے۔

اور آپکے ملک کے لوگوں کو دوسروں کی محتاجی میں جانے ہی نہ دے‘ اس پاکستان میں سب کچھ ہے‘ صرف ایک اعلیٰ اقدار کی اعلیٰ قیادت کی ضرورت ہے‘ایسی قیادت جو اپنے پیٹ کو نہ دیکھے بلکہ اپنے ملک کو دیکھے‘ ایسی قیادت نہ ہو کہ جس نے ابھی ابھی سینٹ کے انتخابات میں وہ مظاہرہ کیا کہ جس سے ذہن رکھنے والوں کے سر شرم سے جھک گئے‘ابھی جو لوگ جلسے جلوسوں کیلئے نکلنے جا رہے ہیں ان میں نوے فیصد سے زیادہ آپ کے دیکھے بھالے ہیں‘ جو پارٹیاں سامنے ہیں وہ بھی کوئی نئی نہیں ہیں ‘ ہر ایک کے نمائندوں کو آپ آزما چکے ہیں او رجو نئے چہرے آ رہے ہیں وہ بھی اتنے نئے نہیں ہیں کہ آپ پہچان ہی نہ سکیں‘ اس لئے خوب دیکھ بھال کر اورچھان پھٹک کر اپنے ووٹ کا استعمال کریں کہ واقعی آپ کا ووٹ قیمتی ہے‘ اور آپ اپنے ووٹ کی قیمت وصول نہ کریں بلکہ اپنے ووٹ کو اپنے وطن کیلئے ایک جانی اور پر کھی شخصیت کو دیں۔