312

اسلام آباد دھرنا: مؤ قف!

جمہوریت کی کسوٹی پارلیمنٹ ہے اور قانون ساز ایوانوں میں اسلام آباد دھرنے سے متعلق بے چینی پائی جاتی ہے۔ چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کا ردعمل منطقی ہے کہ حکومت کا ایک وزیر چلا گیا‘ ملک میں سول وار ہوتی رہی مگر وزیر داخلہ اور وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی زحمت نہیں کی۔ اگر وزیر داخلہ کو توہین عدالت کا نوٹس مل سکتا ہے تو میں انہیں توہین پارلیمنٹ کا نوٹس جاری کروں گا۔‘ آخر کیا وجہ ہے کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی اگر کہیں عدم موجودگی محسوس کی جا رہی ہے تو وہ پارلیمنٹ ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام میں پارلیمنٹ کو مضبوط کرکے ہی سسٹم کو مستحکم کیا جا سکتا ہے اور ملک و قوم سے متعلق تمام معاملات اور مسائل کا پارلیمنٹ کے فورم پر ہی بحث و تمحیص کے بعد مؤثر اور قابل عمل حل نکالا جا سکتا ہے‘ اگر سسٹم کو خطرات لاحق ہونے جیسے معاملات بھی سڑکوں پر طے ہونا شروع ہو جائیں تو پھر سڑکوں پر جس کا زور چلے گا‘ وہی اپنی بات منوائے گا‘ایسے اقدامات سے گریز ضروری ہے جس سے ریاستی اتھارٹی کی کمزوری ظاہر ہو‘ جو ملک کی سا لمیت کے درپے دشمن کو اپنا مکروہ کھیل کھیلنے کا نادر موقع مل سکتا ہے‘ یہی معاملہ ریاستی اداروں کے آئینی اختیارات اور حدود و قیود پر مفاہمت کی گئی گنجائش نکالنے کا ہے۔

‘ جب کسی ریاستی ادارے کے کسی ماورائے آئین اقدام کو کسی مصلحت یا مجبوری کے تحت قبول کیا جائے گا‘ تو پھر آئندہ کیلئے بھی ماورائے آئین اقدامات کی روک تھام کی گنجائش نہیں رہے گی‘اس تناظر میں فیض آباد دھرنے کے حوالے سے چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سسٹم کو لاحق مرض کی درست نشاندہی کی ہے جو یقیناًحکومتی گورننس میں پیدا ہونے والی کمزوریوں کے باعث ہی لاحق ہوا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے شاید اس حقیقت کو فراموش کردیا کہ اسی جماعت (نواز لیگ) کی حکومت کے دوران میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ میں اسلام آباد میں عمران خان اور طاہرالقادری نے مخصوص ایجنڈے پر مبنی اپنی دھرنا تحریک کا آغاز کیا تو اسوقت یہی پارلیمنٹ تھی جس نے میاں صاحب کے اردگرد ڈھال بنا کر اور ان کے دست و بازو بن کر پارلیمنٹ کے تحفظ کا عہد کیا اور پارلیمنٹ تحلیل کرانے کی محلاتی سازشیں ناکام بنائیں‘ اگر حکومت اس وقت پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لیتی تو اس کا ماضی جیسے کسی ماورائے آئین اقدام کے تحت دھڑن تختہ ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی تھی‘ اسی طرح ختم نبوت کے حلف نامہ میں پارلیمنٹ میں کئے گئے ردوبدل پر اٹھنے والے طوفان کو بھی فہم و فراست کیساتھ پارلیمنٹ کو اپنا دست و بازو بناکر ہی ٹالا جا سکتا تھا اور فوج کی مداخلت پر محض ایک سادہ کاغذ پر معاہدہ کرکے ایک منتخب وزیر کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے اور ایک جرنیل کو ضامن بنا کر دھرنا ختم کرانے سے حکومت اور پورے سسٹم کی جو سبکی ہوئی‘ اسکی نوبت نہیں آنے دی جا سکتی تھی اس تناظر میں محسوس یہی ہوتا ہے کہ حکومت نے شروع دن سے ہی معاملہ فہمی سے کام نہیں لیا اور خود کو بیچ چوراہے میں اس پوزیشن پر بٹھا دیا کہ کوئی بھی اس پر دھونس جما کر اپنی جائز‘ ناجائز بات منوالے پہلے حکومت نے ختم نبوت کے آئینی طور پر طے معاملے پر چھیڑچھاڑ کرکے انتخابی اصلاحات بل میں ترمیم کے مراحل میں حلف نامے کے ٹائٹل اور عبارت میں ردوبدل کی ترمیمی شق کی شکل میں خود ہی پنڈورا بکس کھولا تو اس پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سے سخت قومی دباؤ آنے پر حکومت کو فوراً بیک فٹ پر جانا پڑا‘۔

اس ناقص حکمت عملی کے باعث حکومت نے نہ صرف اپنے وزیر کو قربانی کا بکرا بنایا بلکہ کمزور مؤقف پر آکر نظام کے لئے بھی خطرات پیدا کئے‘ اس پر مستزاد یہ کہ حکومت دھرنے کو سول ایڈمنسٹریشن کے ذریعے ختم کرانے کی مؤثر حکمت عملی بھی طے نہ کرسکی چنانچہ جب آپریشن ناکام ہوا تو حکومت کو فوج کی خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ حکومت نے تو آئین کی مذکورہ دفعہ کے تقاضے کے مطابق فوج کی معاونت دھرنے کو فیض آباد انٹرچینج سے ہٹانے اور شہر میں امن و امان بحال کرنے کیلئے ہی حاصل کی تھی جبکہ آئینی تقاضے کے تحت طلب کی گئی اس معاونت میں کسی دوسرے کردار کی گنجائش نہیں نکلتی اس نازک مسئلے سے عہدہ برآء ہونے کی بہترین حکمت عملی تو یہی ہو سکتی تھی پہلے دن ہی وفاقی وزیر قانون کا علامتی طور پر اسی طرح استعفیٰ لے لیا جاتا‘ جیسے انہوں نے اس سے پہلے بھی جسٹس افتخار چودھری کے حوالے سے پیدا ہونے والے آئینی مسئلے پر متعلقہ سمری تیار کرنے کی ذمہ داری قبول کرکے بطور علامت اپنا استعفیٰ پیش کردیا تھا۔ اگر اب بھی ایسی ہی معاملہ فہمی سے کام لیا جاتا تو حکومت کو قانون شکنوں کیساتھ سادہ کاغذ پر معاہدہ کرنے کی کبھی ہزیمت نہ اٹھانا پڑتی حکمران جماعت کے قائدین کو اب بھی سنبھل جانا چاہئے اور چیئرمین سینٹ تمام سیاسی قوتوں‘ اہل دانش اور تمام پروفیشنلز کو نئے بیانیہ کیلئے آمادہ ہونے کی جو تلقین کررہے ہیں‘ اسکی روشنی میں سسٹم کو لاحق ہونیوالے خطرات ٹالنے کی پارلیمنٹ کے اندر کوئی مؤثر حکمت عملی طے کرنی چاہئے ورنہ اس جمہوری نظام کیلئے بیک وقت پیاز اور جوتے کھانے کے مواقع نکلتے ہی رہیں گے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر ظل ہما۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)