409

تہذیب اور رکھ رکھاؤ

1990ء میں جب میں پہلی مرتبہ لندن کے ہیتھرو ائرپورٹ پر اُترا تو میرے اوسان خطا تھے۔ یہ میری زندگی کا پہلا بیرونِ ملک سفر تھا۔ ہیتھرو ائرپورٹ تو اتنا بڑا ہے کہ شاید پشاور کی پوری آبادی آسانی کے ساتھ اس میں سماسکے۔ بہر حال امیگریشن کے عمل سے گزرنے کے بعد اپنے سامان کی وصولی کیلئے حواس باختہ پھرتا رہا۔ اس حالت میں سامنے لکھی ہوئی واضح معلومات بھی نظر سے اوجھل ہوجاتی ہیں۔ لیکن ائرپورٹ کے عملے نے ہر جگہ مسکراکر میری مدد کی۔ سامان ٹرالی پر ڈالا اور آمد کے ہال تک بلامبالغہ ایک دو کلومیٹر پیدل سفر کیا۔ جب گیٹ کے قریب آیا تو میری جان میں جان آئی۔ میں نے اس سے قبل اپنے ایک بہت ہی قریبی دوست کو فون کیا تھا تاکہ مجھے لینے ائر پورٹ آجائے‘ میرا خیال تھا کہ دروازے سے نکلتے ہی میرا دوست مجاہددوڑتا ہوا آئے گا اور مجھے گلے سے لگا کر بھینچے گا‘ کیا پتہ چوم بھی لے‘ لیکن دروازے سے باہر آتے ہی میں اور پریشان ہوگیا۔ بلامبالغہ سینکڑوں لوگ اپنے جاننے والوں کو لینے آئے تھے ۔ اس ہجوم میں میرے لئے مجاہد کو تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے برابر تھا۔ تاہم مجاہد نے دور سے ہاتھ ہلاکر اپنی موجودگی کا احساس دلادیا۔ ٹرالی کو گھسیٹتے ہوئے میں مجاہد سے مل ہی لیا۔ میں نے دونوں ہاتھ وا کرکے اسے گلے لگانا چاہا لیکن وہ تھوڑا سا جھینپ گیا اور ہاتھ آگے بڑھاکر صرف ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا۔ گاڑی کی طرف روانہ ہوئے تو میں نے مجاہد کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو کہ اس نے آہستہ سے ہٹا دیا۔ میرے ردّعمل سے قبل ہی اُس نے انکشاف کیا کہ اس معاشرے میں مردوں کا آپس میں گلے لگنا اور کندھے پر ہاتھ ڈال کرسر عام چلنا مختلف معنی رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے مجاہد نے مجھ سے معانقہ نہیں کیا ۔ہر شخص اپنی ذاتی حدود (personal space)کا بڑا خیال رکھتا ہے اور ان حدوں کے اندر صرف انکے زندگی کے ساتھی قدم رکھ سکتے ہیں۔ یہ میرے لئے ایک سبق ثابت ہوا کہ روز اول ہی سے اپنی حرکات و سکنات پر کنٹرول رکھوں۔

انسان حیوان ناطق ہے یعنی بول چال کے ذریعے سے اپنے خیالات منتقل کرتا ہے لیکن حیوانی فطرت میں تبادلہ خیالات صرف بول چال تک ہی محدود نہیں۔ جب ہم کسی کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو بلاشبہ ہماری زبان چُپ لیکن ہمارا سارا جسم سراپا زبان (body language)بن جاتا ہے۔ دیکھنے کے انداز سے لے کر کھڑے ہونے کی پوزیشن تک ایک پیغام دیتا ہے۔تاہم ہر معاشرے میں کچھ ایسی عادتیں اور اشارے ہوتے ہیں جو دوسرے معاشرے میں بالکل اسکے خلاف معانی رکھتے ہیں اور خلق خدا میں فساد پیداکرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر تھوکنا ہمارے معاشرے میں عام ہے اور اسے اتنی بدتہذیبی نہیں سمجھا جاتا جب کہ مغربی معاشرے میں تو یہ گالی دینے کے مترادف ہے‘ ایک انگلی سے کسی کی طرف اشارہ کرنا ہمارے ہاں بے ضرر سی حرکت لگتی ہے لیکن سنگاپور میں بے عزتی سمجھا جاتا ہے۔ٹھینگا دکھانا ہمارے ہاں مخاطب کو یہ کہنا ہے کہ تم میرا کیا بگاڑ لوگے؟ جبکہ مغرب میں اسے فتح، خوشی یا کسی کام کے صحیح ہونے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

جب تلک مختلف معاشروں کا میل جول کم تھا تو زبان کے ساتھ ساتھ جسمانی حرکات و سکنات کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں آسانی سے آنا جانااب بہت بڑھ گیا ہے۔ اسی وجہ سے اب پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج کہا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ دو مختلف صورتوں میں نکلا ہے۔ ایک یہ کہ کسی دوسرے ملک جانے سے قبل تھوڑی سی محنت کرکے کم از کم ان اشاروں کنایوں کو جاننا چاہئے جو اس ملک میں خراب معنوں میں لئے جاتے ہیں‘ دوسری صورت مغربی معاشرے کی اقدار کو تمام دنیا پر بین الاقوامی آداب کے نام سے زبردستی ٹھونسنا ہے۔

کالم کی تنگی اجازت نہیں دیتی کہ ان تمام اشاروں کنایوں کا ذکر ہوجائے۔ تاہم چند ایک ایسی عادات کا ذکر ضرور کروں گا جو صرف ہمارے ہاں ہی برداشت کی جاتی ہیں اور بقیہ زیادہ تر قومیں ان کو برا سمجھتی ہیں۔ نسوار اور پان کی ایک لمبی تاریخ ہے لیکن اسکو منہ میں لے کر بار بار تھوکنا کسی بھی مہذب فرد کیلئے کراہت کا باعث بنتا ہے۔اسی طرح سرعام ننگے ہاتھ سے ناک کے ساتھ چھیڑچھاڑ بھی نہایت غلیظ عادت ہے ۔ پہلے لوگ جیب میں رومال ضرور رکھے تھے۔ تاہم ٹشوپیپر کی آمد سے وہ سلسلہ بھی موقوف ہوا۔ اس لئے جیب میں ٹشوپیپر یا رومال ضرور رکھنا چاہئے کہ بے شک اس میں ناک چھپاکر جتنے زور سے صاف کرنا چاہیں ، دھڑلے سے کریں۔ ٹریفک کی ریڈ لائٹ پر کھڑی ایسی گاڑیوں کا جائزہ لیں جن کو کوئی اکیلا آدمی چلارہا ہو تو آدھے سے زیادہ لوگ ناک میں انگلی مار رہے ہوں گے۔ اب یہ ہماری تہذیب کے بھی خلاف ہے لیکن باقی دنیا میں تو اسے نہایت غلیظ حرکت سمجھا جاتا ہے۔

ہماری مجلس میں کسی بزرگ کی طرف پاؤں کرکے بیٹھنا بدتہذیبی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم دوسرے ممالک میں پاؤں پر بار بار ہاتھ پھیرنا، پیر کی انگلیوں کے درمیان خلال کرنا (ماسوائے دھوتے وقت)‘ یا جرابیں اتار کر سب کے سامنے کسی جگہ پر رکھنا بدتہذیبی کی نشانی ہے۔ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ جرابیں انڈروئیر کی طرح زیرجاموں کی فہرست میں آتی ہیں اور ذاتی صفائی کے فقدان کے باعث ان سے بے تحاشا بدبو آتی ہے۔بہر حال یہ ایک ایسی عادت ہے جو ہمارے معاشرے میں کوئی زیادہ بری بات نہیں سمجھی جاتی تاہم مجھ جیسے ’صفائی کے بیمار‘ لوگوں کے اعصاب پر بوجھ ہوتا ہے۔

اسی طرح کچھ اچھی عادات و سکنات ہیں جو معاشرے کی تہذیب کا شو پیس ہو تی ہیں۔ مثلاً کسی سے مخاطب ہوں تو چہرے پر مسکراہٹ ضرور لائیں۔ مغربی معاشرے میں تو جب بھی دو اشخاص کی نظر ملتی ہے تو دونوں ضرور مسکراتے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی آمد کے ساتھ یہ قدر بھی ہمارے کارپوریٹ کلچر کا حصہ بنتی جارہی ہے‘ پلیز، شکریہ اور معاف کیجئے گا جیسے الفاظ جادو جیسا اثر رکھتے ہیں۔ اپنے بچوں کو اگر گھر پر ہی یہ الفاظ سکھائے جائیں تو کیا کہنے۔ ہونا یہ چاہئے کہ گھر میں بھائی بہن‘ ماں باپ اور بڑے چھوٹے سب یہ عادت ڈالیں کہ ایک دوسرے کیساتھ گفتگو میں بھی شائستگی کا خیال رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ معاشرے میں گھلی ہوئی تلخی کم ہوجائے اور یہ بات بات پر آپے سے باہر ہونا قصہ پارینہ ہوسکتا ہے‘ اسی طرح لوگوں کے سامنے ڈکار مارنا‘ چھینکتے وقت منہ کھلا رکھنا‘ زمین پر اکڑ کر چلنا‘ دوسروں کی غیبت‘ اپنے منہ کو بدبو دار رکھنا(مثلاً پیاز اور لہسن کھانے سے) غرض کونسی ایسی عادت نہیں جس سے ہم کو اسلام نے منع کیا ہے۔ ہم ایک ایسی امت ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث اور طرز زندگی اور اسلام کی تعلیمات پر مکمل عمل کرکے دنیا کی کسی بھی مہذب ترین قوم کے رکھ رکھاؤ سے زیادہ مہذب اقدار سیکھ سکتے ہیں بس عملاً مسلمان ہونا شرط ہے۔