554

بحرینی غوطہ خور انتہائی نایاب موتی کا مالک بن گیا

مناما: خوش نصیب پیشہ وربحرینی غوطہ خور سیپی کے اندر سے  ملنے والا 73 ہزار درہم  کے نیاب موتی کا مالک بن گیا۔ 

مقامی روزنامہ العیام کی رپورٹس کے مطابق بحرین کے شہر مناما سے تعلق رکھنے والے خوش نصیب پیشہ ورغوطہ خور احمد الملیکی کو سیپی کے اندر سے 73 ہزار درہم یعنی پاکستانی 23 لاکھ 90 ہزار کا نیاب موتی مل گیا۔

احمد الملیکی نے بتایا کہ ہم عام طور پر سمندر میں جا کر چار مختلف جگہوں پر غوطہ خوری کرتے تھے لیکن تین جگہوں پر خراب سی پی ملنے کے بعد ہم لوگوں نے نئی جگہ جانے کا انتخاب کیا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ ہم لوگ بھی یہی سوچ کر وہاں گئے تھے کہ اگر اُس جگہ سیپیاں بڑی تعداد میں ملتی ہیں تو پھر اگلی بار مکمل تیاری کے ساتھ واپس آکر موتی کی تلاش کریں گے کیوں کہ یہ نئی جگہ ساحل سے بہت دور گہرے سمندر میں ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں نہیں تھی۔

 

احمد الملیکی کا کہنا ہے کہ نئے روز ہم اُسی جگہ واپس آئے اور بہت سی سیپیوں کو جمع کیا اور جب انہیں کھول کر دیکھا تو اُس میں حسین سا موتی پایا جب کہ میں گزشتہ 10 دس سال سے غوطہ خوری کر رہا ہوں لیکن یہ پہلی بار ہوا کہ مجھے 8.4 قیراط وزنی موتی ملا جس کی قیمت 73 ہزار درہم یعنی پاکستانی 23 لاکھ 90 ہزار روپے ہے۔

احمد الملیکی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ’جب میں نے موتی دیکھا تو مجھے بلکل بھی یقین نہیں ہوا حتیٰ کہ مجھے ایسا لگا کہ میرے دوست میرے ساتھ مذاق کر رہے ہیں لیکن جب ہم سفر طے کرکے ساحل پر پہنچے تو میں موتیوں کے تجربےکار شخص کے پاس پہنچا تو اُس نے بتایا کہ یہ قدرتی موتی ہے لیکن ہم مزید تصدیق کے لئے خصوصی لیبارٹری لے کر گئے جہاں انہوں نے اصل موتی ہونے کی تصدیق کی۔

احمد الملیکی نے کہا کہ ہر سال یہاں موتیوں کے ذخائر کے پاس 2500 سے زائد بحری جہاز اور کشتیاں آتی ہیں۔ جس میں چار ماہ تک لگتے ہیں۔ یہ عمل جون سے اکتوبر تک ہر سال جاری رہتا ہے جب کہ ایک غوطہ خور خاص آلات کے ذریعے تہہ میں موجود صدف اور موتیوں بھری سیپیوں تک پہنچتا ہے اور ایک غوطے میں دو منٹ تک موتی تلاش کرتا ہے۔