290

پاکستان گرے لسٹ میں کیوں؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ملکوں کی گرے لسٹ میں شامل رکھنے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے‘ یہ فیصلہ ان تمام ارضی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے کیاگیا جو پاکستان نے پیش کئے‘ ٹاسک فورس پر واضح ہوچکا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے پہلے سے موجود قوانین میں بہتری لانے کیساتھ ساتھ ان پر عملدرآمد بھی بہتر طریقے سے یقینی بنایاگیا ہے‘ اس سے قبل رواں سال فروری میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو تادیبی اقدامات کیلئے3 ماہ کا وقت دیا‘ پاکستان 25 اپریل کو ایف اے ٹی ایف اجلاس میں 27 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کرچکاہے جسے بنکاک کے غیر رسمی اجلاس میں غیر تسلی بخش گردانا گیا‘37 ممالک پر مشتمل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں ا مریکہ‘ برطانیہ‘ چین اور بھارت بھی شامل ہیں‘ اس میں دوسری رائے نہیں کہ یہ ٹاسک فورس اسوقت بری طرح امریکہ ا ور بھارت کے دباؤ میں ہے جو پہلے ہی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے باعث پریشانی کا شکار ہیں۔

پاکستان کی معیشت میں استحکام کی نوید ان کے لئے باعث تشویش بنی ہوئی ہے پاکستان اس سے قبل بھی ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ میں شامل رہ چکاہے‘ اس لسٹ میں شامل ممالک کو عالمی قرضوں کے اجراء اور سرمایہ کاری کے حوالے سے سخت نگرانی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے‘جس سے بیرونی انویسٹمنٹ متاثر ہوتی ہے‘پاکستان اسوقت قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہے‘ سی پیک کے ذریعے یہاں بڑے پیمانے پر صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کا فروغ متوقع ہے‘ اس اہم مرحلے پر امریکہ اور دوسرے ممالک کو خطے میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سے متعلق حقائق سے چشم پوشی کی روش ترک کرنا ہوگی گرے لسٹ میں ڈال کر پاکستان کی اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی بجائے عالمی تجارت کیلئے پاکستان کو مراعات دینا ہوں گی بصورت دیگر خود ان ممالک کی جانبداری پر سوالیہ نشان ثبت ہوگا۔

بجلی کے نرخ اور آبی ذخائر

گرمی کی شدت میں لوڈ شیڈنگ‘ بجلی کی ترسیل کے نظام میں خرابی‘کم وولٹیج‘ غلط میٹر ریڈنگ پر جرمانوں اور نئے کنکشن کیلئے مہینوں ٹھوکریں کھانے والے شہریوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں ایک روپے25 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیاگیا ہے۔ اضافے کی منظوری فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں دی گئی ہے‘گرانی کی چکی میں پسنے والے غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں پر5 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیاگیا ہے بجلی نرخوں سے جڑی دیگر مشکلات اس سے علیحدہ ہیں عین اسی روز جب بجلی مزید مہنگی کی جا رہی تھی سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک میں آبی ذخائر کی ضرورت کے حوالے سے اہم ریمارکس دئیے‘ چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ جو ڈیم متنازعہ نہیں پہلے اس پر فوکس کیا جائے‘ عدالت عظمیٰ کا یہ بھی کہناہے کہ ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا‘ عدالت یہ استفسار بھی کرتی ہے کہ سیاسی حکومتوں نے 10 سال میں کیاکیا‘ جہاں تک کسی بھی ڈیم پر تحفظات اور خدشات کی بات ہے کہ اس پر کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر متفقہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے‘ اصل بات غیر متنازعہ آبی ذخائر کی ہے جن کی تعمیر میں تاخیر کا کوئی موثر جواب ہی نہیں ہے‘ وقت کا تقاضا ہے کہ قومی قیادت آبی ذخائر جیسے اہم ایشو پر سر جوڑتے ہوئے اہم فیصلے کرے جس میں ہر کسی کے مؤقف کو سنا جائے۔