202

پاکستان کی خارجہ حکمت عملی

امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی نے بلوم برگ کو اپنے انٹرویومیں پاکستان کی خارجہ حکمت عملی کے خدوخال اجاگر کئے ہیں‘ علی جہانگیر صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات سے کوئی مسئلہ نہیں‘ پاک امریکہ تعلقات کو کسی خاص نظریے سے نہ دیکھاجائے‘ اس سب کیساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فوجی امدد سے متعلق امریکہ کیساتھ کوئی خصوصی بات چیت نہیں ہوئی‘پاکستان کے سفیر کا کہنا ہے کہ تجارتی اور اقتصادی امور پر بات ضرور ہوئی ہے‘ جہاں تک خارجہ حکمت عملی کا تعلق ہے تو اس سے متعلق پاکستان کا موقف واضح اور کلیئر ہے‘ یہ سب صرف زبانی کلامی نہیں بلکہ پاکستان کا اپنے موقف کے حوالے سے عملی کردار خود ریکارڈ کا حصہ ہے‘ پاکستان کی خطے میں امن کیلئے کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ان میں سینکڑوں قیمتی انسانی جانوں کی قربانی کے ساتھ پاکستان کی معیشت کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے۔

سرمایہ کاری کا عمل بری طرح متاثر ہے اور پاکستانی اکانومی کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دب کر رہ گئی ہے‘ اس کے بدلے میں ارضی حقائق سے چشم پوشی کے ساتھ اپنی غیر جانبداری کو متاثر کرتے ہوئے پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں ڈال دیاگیا یہ سب اس وقت ہوا جب پاکستان میں دہشتگردی کی سرگرمیوں میں 80 فیصد تک کمی آئی‘ پاکستان کے شہروں میں جرائم کی شرح دیگر ایمرجنگ ممالک کے مقابلے میں کم ہے اے ٹی ایف سے 15 ماہ کا ٹائم ٹیبل طے ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان معیار پر پورا اترتے ہوئے گرے لسٹ سے باہر آجائیگا‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ بعض ممالک سے ہضم نہیں ہوپا رہا ایسے میں پاکستان کی اکانومی کو متاثر کرنے کیلئے گرے لسٹ جیسی حرکت کی گئی‘ پاکستان کے سفیر نے امریکی ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں پاکستان کے موقف اور حکمت عملی کو اجاگر کر دیا ہے‘ اب امریکہ سمیت عالمی برادری کے دیگر ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کے اصولی موقف کو سپورٹ کریں اور ڈو مور جیسے مطالبات سے گریز کیساتھ گرے لسٹ جیسی کاروائیوں سے اجتناب کیا جائے۔

نگران کابینہ میں توسیع

عالمی شہرت یافتہ ماہر امراض چشم پروفیسر ڈاکٹر محمد داؤد کو نگران کابینہ میں وزیر صحت کے طورپر ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں‘ نگران سیٹ اپ مرکز میں یا صوبوں میں اس کا بنیادی کام عام انتخابات کا شفاف اور پرامن انعقاد ہے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ کیرئیر ٹیکر حکومت بہت بڑے نئے منصوبے شروع نہیں کرسکتی‘ صحت ایک ایسا شعبہ ہے جو براہ راست عوام کی ریلیف سے جڑا ہے اس سیکٹر میں ضرورت حکومتی اقدامات کے برسرزمین نتائج یقینی بنانے کی ہے اس کے ساتھ ضرورت ان اقدامات کا تکنیکی پہلوؤں سے جائزہ لینے کی ہے ہمارے ہاں اکثر ایسے منصوبے شروع کئے جاتے ہیں جن کیلئے عملی صورت اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا وہ ہماری ضرورتوں اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہی نہیں ہوتے‘ صوبے کے میڈیکل کے سرکاری نجی اور تدریسی شعبوں میں عملی تجربہ رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر محمد داؤد اپنی مہارت کیساتھ اگر صرف ثمر آور منصوبوں کو عملی شکل دینے کیلئے کڑی نگرانی کا نظام وضع کر دیں تو اس کے اثرات ایک عرصے تک محسوس کئے جاتے رہیں گے۔