275

بھاشا‘ مومند ڈیم کی تعمیر

سپریم کورٹ نے بھاشا اور مومند ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دیا ہے‘ مہیا تفصیلات کے مطابق چیئرمین واپڈا کی سربراہی میں عمل درآمد کمیٹی قائم کرکے 3ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی گئی ہے‘ کمیٹی کو ڈیمز سے متعلق حکمت عملی مرتب کرنے کا کہاگیا ہے‘ عدالت عظمیٰ کی جانب سے رجسٹرار کے نام پر خصوصی اکاؤنٹ کھولنے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے‘ عوام سے ڈیموں کی تعمیر کیلئے عطیات کی اپیل کرنے کیساتھ چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنی طرف سے 10لاکھ روپے کے عطیے کا اعلان بھی کیا‘عدالت عظمیٰ کا اقدام وطن عزیز میں قلت آب کے خطرات اور ان سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کی ضرورت سے متعلق احساس وادراک کا عکاس ہے‘ وطن عزیز میں پے درپے تبدیل ہوتی حکومتوں نے اتنے اہم شعبے کو مطلوبہ توجہ نہ دی جس سے صورتحال مسلسل بگاڑ کی جانب جاتی جارہی ہے‘ عدالت عظمیٰ کا حکم اصلاح احوال کیلئے سنجیدہ سعی ضرور ہے تاہم حکومتی سطح پر ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہنوز باقی ہے‘ ملک میں پانی کی قلت کا اثر نہ صرف عام شہری زندگی کو متاثر کررہا ہے بلکہ مجموعی ملکی معیشت کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا ہے‘۔

ایسے میں ضرورت تو اس بات کی تھی کہ سیاسی حکومت چاہے جس کی بھی ہو‘ سیاسی جماعتوں اور صوبوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتی اور اتفاق رائے سے فیصلہ کرنے کیساتھ ان پر عمل درآمد کا مکینزم دیاجاتا‘ صوبائی حکومتیں اپنے لیول پر کام کرتیں اور قوم کو ثمرآور نتائج دیئے جاتے‘ اس کے برعکس نہ تو اتفاق رائے کیلئے کوئی سنجیدہ سعی ہوئی نہ ہی خیبرپختونخوا میں پیدا ہونیوالی پن بجلی کی خرید سے متعلق کوئی فارمولہ طے پاسکا‘صرف بیانات ہی جاری ہوتے رہے‘ درپیش صورتحال پر عالمی اداروں کی جانب سے دی جانیوالی وارننگ اور پانی کے ضیاع سے ہونیوالے معاشی نقصانات کا حجم اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر سرجوڑ کر بات کی جائے‘ کسی کے کوئی خدشات یا تحفظات ہوں تو انہیں دور کیا جائے‘جہاں تک فنڈز کی فراہمی کا سوال ہے تو اس کیلئے اداروں کو فعال بنانے کیساتھ غیر ضروری شاہانہ اخراجات پر کٹ لگادیا جائے‘ اس کیساتھ قومی پیداوار اور ریونیوکو دیمک کی طرح چاٹنے والی سمگلنگ پر قابو پاکر بھی آبی ذخائر تعمیر ہوسکتے ہیں‘ بات صرف عزم وارادے کی ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جب مسئلے کی نزاکت کا احساس وادراک کیاجائے۔

قبائلی علاقوں کا انضمام

قانون وانصاف وپارلیمانی امور کے نگران وفاقی وزیر بیرسٹر علی ظفر کے دورہ پشاور میں فاٹا کیلئے حتمی پیکج کے اعلان کا عندیہ قابل اطمینان ہے‘ پشاور میں ہونیوالے اجلاس کا ایجنڈا انضمام سے متعلق امور نمٹانے میں یقیناًمعاون ہوگاتاہم اصل ضرورت ان میں تسلسل کی ہے‘ اس مقصد کیلئے ایسا مکینزم ترتیب دینا ہوگا جو حکومتی تبدیلیوں سے متاثر نہ ہو‘قبائلی علاقوں کیلئے اصلاحات اور وسیع جغرافیے پر مشتمل ایریا کا خیبرپختونخوا میں انضمام بلاشبہ ایک غیر معمولی اقدام ہے تاہم اس کے ثمر آور نتائج بھی سرکاری سطح پر اس سے جڑے امور نمٹانے میں غیر معمولی دلچسپی کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ یہ ہماری روایتی دفتری سست روی کا شکار نہ ہو جس کے نتیجے میں بہت سارے اچھے حکومتی اقدامات بھی بے ثمر ہو کر رہ جاتے ہیں۔