312

ایچ آئی وی کے خلاف موثر ویکسین کی تیاری میں پیشرفت

ایچ آئی وی انفیکشن لاعلاج مرض ہے جو کہ ایڈز کی شکل میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی اموات کا باعث بن چکا ہے۔

مگر بہت جلد ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں رہے گا کیونکہ ماہرین طب نے اس پر قابو پانے کے لیے موثر ویکسین کے حوالے سے انقلابی پیشرفت کی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایچ آئی وی انفیکشن کے حوالے سے ویکسین تیار کی تھی اور اب انسانوں میں اس کے ابتدائی تجربات میں محققین کو کامیابی ملی ہے۔

جن افراد پر تجربے کے طور پر اس ویکسین کا استعمال کرایا گیا، ان کے اندر ایچ آئی وی کے خلاف کسی نہ کسی قسم کا ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ 80 فیصد مریضوں میں تو یہ پیشرفت کافی نمایاں رہی۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ یہ ویکسین ایچ آئی وی کے شکار 67 فیصد بندروں پر موثر ثابت ہوئی اور اس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ انسانوں میں بھی موثر ثابت ہوگی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ ویکسین ایچ آئی وی کے حوالے سے موثر ثابت ہوگی، بندروں پر تجربہ حوصلہ افزا ثابت ہوا مگر اس انفیکشن کے شکار افراد میں اس حوالے سے مزید ٹیسٹ کیے جانے کی ضرورت ہے۔

اگلے مرحلے پر محققین کی جانب سے جنوبی افریقہ کی ایچ آئی وی کی شکار ڈھائی ہزار خواتین میں اس ویکسین کی آزمائش کی جائے گی۔

یہ ان 5 میں سے ایک ویکسین ہے جو کہ آزمائشی مراحل میں سے گزری ہیں، تاہم اتنی موثر پہلے کوئی ویکسین ثابت نہیں ہوئی۔

مگر ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ ماضی کی ویکسینز کے مقابلے میں اس نئی ویکسین کی کامیابی کا امکان زیادہ ہے۔

ماضی میں بنائی جانے والی ویکسینز میں ایچ آئی وی کے مخصوص پہلوﺅں پر توجہ دی جاتی تھی مگر اس میں متعدد پہلوﺅں کو مدنظر رکھا گیا تاکہ ایک یونیورسل دوا تیار کی جاسکے۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ ابھی اس ویکسین کو دنیا بھر میں متعارف کرائے جانے میں کافی عرصہ لگ سکتا ہے، کیونکہ ابھی بڑے پیمانے پر اس کی آزمائش ہونا باقی ہے۔