320

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی؟

نگران وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے بعد اچانک کمی کا اعلان کر دیا ہے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق پٹرول4 روپے26 پیسے ڈیزل 6 روپے37 پیسے مٹی کا تیل3 روپے74 پیسے اور لائٹ ڈیزل5 روپے 54 پیسے فی لٹر سستا کر دیاگیا ہے‘ اعداد و شمار کی روشنی میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں حکومت کو 10 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا‘ پٹرولیم پراڈکٹس کے نرخوں میں کمی کیلئے سیلز ٹیکس کی شرح گھٹا دی گئی ہے‘ ٹیکس کے ذمہ دار اداروں سے مہیا اعداد وشمار کے مطابق ڈیزل پر سیلز ٹیکس7 فیصد کم کیاگیا ہے‘ اسی طرح پٹرول اور مٹی کے تیل پر 5 فیصد کمی کی گئی ہے لائٹ ڈیزل پر یہ ٹیکس 17 سے کم کرکے 4 فیصد کر دیاگیاہے‘۔

ایک ایسے وقت میں جب وطن عزیزمیں غریب اور متوسط شہری حکومتی بدانتظامی اور غیر ضروری اخراجات کے نتیجے میں مقروض معیشت کے اندر گرانی کی چکی میں پس رہا ہے اسے یوٹیلٹی بلوں کی مد میں بھاری ٹیکسوں کیساتھ دیگر خسارے بھی پورے کرنے پڑ رہے ہیں‘ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے اب حکومت کی جانب سے 10 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنے اور ٹیکسوں کی شرح میں کمی کیساتھ یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ کیا قیمتوں پر نظرثانی کیلئے مقررہ تاریخ پر ریٹ نہ بڑھنے کی کوئی گارنٹی ہے دوسرا یہ کہ حکومت کے پاس چاہے وہ مرکز میں یا کسی بھی صوبے میں پٹرولیم پراڈکٹس کے نرخ کم ہونے پر اس کا براہ راست فائدہ عام شہری کو پہنچانے کیلئے کیا میکنزم ہے پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے پر کرایوں‘ فارورڈنگ کے چارجز اور مصنوعات کی پروڈکشن کاسٹ میں ہونیوالے اضافے کی واپسی کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے‘ اب تک اس طرح کی ریلیف پر بجلی کے بلوں میں معمولی شرح سے کمی نوٹ کی جاتی ہے باقی کا فائدہ عام شہری کی بجائے کارخانہ دار اور ٹرانسپورٹر کو پہنچ جاتاہے حکومت کیلئے10 ارب روپے کا نقصان صرف اس صورت ثمر آور ثابت ہوسکتا ہے جب اس کا فائدہ عام شہریوں کو پہنچے بصورت دیگر یہ اقدام مالی نقصان ہی کا موجب ثابت ہوگا اس سے وطن عزیز کی کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی اکانومی مزید متاثر ہوگی۔

چڑیا گھر کیساتھ دیگر تفریح گاہیں بھی ہیں

نگران وزیراعلیٰ جسٹس(ر) دوست محمد خان کے اچانک چھاپے میں کروڑوں روپے کے خرچ سے تعمیر ہونے والے چڑیا گھر کی بدانتظامی سب کے سامنے آگئی ہے‘ وزیراعلیٰ کا اقدام اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ اس بدانتظامی کے ذمہ داروں سے ضرور پوچھ گچھ ہوگی بات صرف چڑیا گھر تک محدود نہیں‘ صوبائی دارالحکومت میں بہت سارے باغات اور تفریح گاہیں اسی طرح کے فوری دوروں اور سخت اقدامات کی متقاضی ہیں صوبائی دارالحکومت کا بحیثیت مجموعی حلیہ بھی سرکاری رجسٹروں میں جیسا بھی درج ہو اس وقت انتہائی بری تصویر پیش کر رہا ہے گندگی کے ڈھیر‘ ابلتی نالیاں اور گٹر قاعدے قانون سے آزاد ٹریفک تجاوزات‘ تعمیراتی ملبہ فوری حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے میونسپل سروسز کے ساتھ خدمات کے ذمہ دار اداروں کی حالت بہتر بنانے کیلئے اقدامات کی ضرورت اپنی جگہ ہے‘ کیا ہی بہتر ہو کہ اصلاح احوال کیلئے ہفتہ دس روز کی خصوصی مہم چلائی جائے جس کی نگرانی خود نگران وزیراعلیٰ کریں تاکہ شہریوں کو خوشگوار احساس مل سکے۔